کراچی کی بہتری کیلئے اتنی سنجیدگی پہلے کبھی نہیں دیکھی: گورنر سندھ 

  کراچی کی بہتری کیلئے اتنی سنجیدگی پہلے کبھی نہیں دیکھی: گورنر سندھ 

  

 کراچی (اسٹاف رپورٹر)گورنر سندھ عمران اسمعیل نے کہا ہے کہ وفاق صوبہ سندھ کی مدد کرنا چاہتا ہے اور سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر اس کے لیے سنجیدگی سے کوشش ہورہی ہیں جو اس سے پہلے کبھی سندھ کے لیے نہیں ہوئی۔وہ منگل کو کراچی میں گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ گورنر سندھ نے کہا کہ بارش اور اس کے بعد سیلابی صورتحال سے جو تباہی ہوئی وہ پورے سندھ میں یکساں ہیں، خاص طور پر اندرون سندھ میں کراچی سے زیادہ تباہی ہوئی ہے لیکن ہماری میڈیا کا مرکز کراچی اس لیے ہے کیونکہ یہ بڑا شہر ہے، ملک کا معاشی حب ہے اور معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور کراچی بڑھتا ہے تو پاکستان بڑھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں نالوں پر قبضے ہوگئے ہیں ظاہر سی بات ہے کسی نے یہ قبضے کرائے ہوں گے، نالوں کے اوپر زمینیں الاٹ ہوئی ظاہر ہے وہ بھی کسی نے الاٹ کی ہوں گی، نالوں کی صفائی نہیں ہوتی اس کا بھی کوئی ذمہ دار ہوگا، اس کے علاوہ وہاں سالڈ ویسٹ پھینکا جاتا ہے جس کا ذمہ دار بھی کوئی ہوگا۔گورنر سندھ نے کہا کہ اب اس ذمہ داری کا تعین کیا جارہا ہے، ہم کوئی نئی چیز نہیں کر رہے، ہمیں معلوم ہے کہ یہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے، سب اختیارات ان کے پاس ہیں وہ اچھے اور برے کے ذمہ دار ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ اس وقت معاملات یہ ہیں کہ وفاق صوبہ سندھ کی مدد کرنا چاہتا ہے، چاہے یہاں پیسہ لگایا جائے یا کوئی نیا نظام متعارف کروایا جائے مل کر کام کیا جائے اور سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھا جائے اور اس سلسلے میں بہت سنجیدگی سے کوششیں ہورہی ہیں جو اس سے پہلے کبھی سندھ کے لیے نہیں ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے کراچی کے لیے اتنی سنجیدہ کوششیں شاید پہلے کبھی نہیں دیکھیں، وزیراعظم نے گزشتہ روز جو اجلاس بلایا تھا وہ انتہائی اہمیت کا حامل تھا جس میں کراچی 'ٹرانسفورمیشن پلان' بنایا گیا ہے اور اس میں بہت زبردست منصوبے کے ساتھ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ شیئر کیا ہے، جس پر جب تمام اسٹیک ہولڈرز اعتماد میں آجائیں گے تو وزیراعظم خود ایک 2 روز میں کراچی آکر خود یہ پلان سامنے لائیں گے جس سے اندازہ ہوگا کہ واقعی کراچی کو اس پلان کی ضرورت تھی۔بلدیاتی حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد کراچی کے ایڈمنسٹریٹری کی تعیناتی سے متعلق گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ ایڈمنسٹریٹر کراچی تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے ساتھ لگایا جائے گا، غیرجانبدار ایڈمنسٹریٹر ہوگا جو سب کو قابل قبول ہوگا اور ابھی اس طرح کے لوگ ناپید نہیں ہوئے ہیں اور انہیں کے ناموں پر غور ہورہا ہے اور بات چیت ہورہی ہے اور اتفاق رائے کے ساتھ ایڈمنسٹریٹر کو لگا کر اسے اختیارات دیے جائیں گے۔ میں یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہم ایک بار مل کر جان، مال کے ساتھ زور لگانا چاہتے ہیں اور اس کراچی کو ٹھیک کرنا ہے۔قبل ازیں گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے گفتگو کرتے ہوئے غیرسرکاری تنظیم اخوت کے بارے میں بتایا اور کہا کہ یہ تنظیم 10 ہزار گھروں کو بلاسود قرضے فراہم کرے گی اور بہت تیزی سے اس پر کام شروع ہوجائیگا۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے لوگ ہمارے بھائی ہیں، ان کی پریشانی ہماری پریشانی ہے اور میں اپنی طرف سے، پنجاب کے وزیراعلی اور لوگوں خاص طور پر وزیراعلی کی طرف سے یہاں اظہار یکجہتی کے لیے حاضر ہوا ہوں اور ہماری کوشش ہوگی کہ جو ممکن ہو وہ مدد کرسکیں۔گورنر پنجاب  نے کہا کہ ہمارا ہدف ہے کہ ہم ایک لاکھ راشن بیگ جس میں ایک مہینے کا راشن ہوگا وہ کراچی اور سندھ کے مستحق لوگوں کو پہنچائیں۔اس موقع پر گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور سے وزیراعلی سندھ اور دیگر رہنماؤں سے ملاقات سے متعلق سوال پر کہا کہ جب سندھ میں آئے ہیں تو سب سے ملیں گے اور اظہار یکجہتی کریں گے۔سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کے دورہ کراچی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم سب پاکستانی ہیں اور ملک میں جہاں کہیں بھی آفت آتی ہے اور کوئی بھی اظہار یکجہتی کے لیے کہیں بھی جاتا ہے اس پر کوئی تنقید نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہا کہ جب سیلاب اور زلزلہ آیا تھا تو کراچی کے بھائیوں نے اپنی تجوریاں کھول دی تھیں اور وہ تمام لوگوں کے دکھ و درد میں شامل ہوئے تھے، ہمارے لیے ہر ملک کا حصہ اہم ہے اور اسی جذبے کے تحت ہم پنجاب سے آئے ہیں۔گورنر پنجاب نے کہاکہ سندھ میں آئے ہیں تو سب سے ملاقات کریں گے، مشترکہ کوششوں سے کورونا وائرس کی وبا کو پھیلنے سے روک لیا ہے۔چوہدری محمد سرور نے کہاکہ این ڈی ایم اے، این سی او سی اور عوام کے تعاون سے کورونا وائرس کی وبا کو روکنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -