"ڈپریشن کی وجوہات' اور انسانی جذبات"

"ڈپریشن کی وجوہات' اور انسانی جذبات"

  

دور حاضر کا انسان بلکہ یوں کہہ لیں کہ ہمارے معاشرے کا ہر دوسرا فرد ڈپریشن کا شکار ہے۔ایسا کب ہوتا ہے؟کیوں ہوتا ہے؟اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔انسانی فطرت ہے کہ انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا اس کو جتنا ملتا ہے۔ یہ اس پہ مطمئن نہیں ہوتا۔ اور پھر خدا سے شکوہ کرنے لگ جاتا ہے۔ کہ فلاں کہ پاس یہ ہے فلاں ایسا ہے ۔ میرا تو نصیب ہی خراب ہے۔ وہ ہر وقت دوسروں کا سوچتا ہے اؤر پھر اس کا سکون غارت ہو جاتا ہے۔ جس سے وہ ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے۔ 

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے"تم جتنا شکر ادا کرو گے میں تمہیں اتنا اور دوں گا" تو گلہ کرنے سے بہتر ہے کے شکر کرو۔ کیونکہ جس چیز کی انسان عادت ڈالے گا۔ وہ پختہ ہو جائے گی۔انسانی ڈپریشن کی دوسری وجہ انسان ہر چیز کو خود پے سوار کر لیتا ہے۔ جب انسان پریشانیوں کو سر پہ سوار کرتا ہے۔ تو وہ کہی دب کے رہ جاتا ہے۔ 

ڈپریشن کی تیسری وجہ ہر وقت کچھ نہ کچھ سوچتے رہنا۔ کبھی بھی خود کو ریلکس نہ کرنا۔ خود کو وقت نہ دینا۔ اللہ کا ذکر چھوڑ دینا۔ جس طرح ہر چیز کو خوراک کی ضرورت ہوتی ہے بلکل اسی طرح روح کو خدا کے ذکر کی ضرورت ہوتی ہے۔

"بے شک روح کا سکون دل کی خوشی سے بڑھ کے ہوتا ہے"مشہور انگریزی کا مقولہ ہے

"Excess of everything is bad"

ہر چیز جو ضرورت سے زیادہ جائے وہ نقصان دہ ہوتی ہے خواہ وہ دولت ہو شہرت ہو یا کچھ بھی ہو۔

ریسرچ کہتی ہے انسان کے کل ستائیس جذبات ہوتے ہیں۔ جس میں  پیار' محبت'نفرت ڈر' غصّہ  وغیرہ شامل ہے۔ تو جب درست وقت پہ ان کا اظہا نہ کرے انسان تو وہ ی ڈپریشن کا سبب بن جاتا ہے۔ انسانی فطرت ہے۔ کے انسان ہر چیز میں نیگٹویٹی تلاش کرتا ہے۔ جو کے بعد میں بے سکونی کا سبب بنتا ہے۔ انسان کی سوچ اس کے کردار پہ بہت مؤثر ثابت ہوتی ہے۔ جب یہ اچھا سوچے گا تو اس کے ساتھ اچھا ہی ہو گا۔ہر سکے کے دو پہلو ہوتے ہیں۔اسی طرح غصّے کے بھی دو ایفکٹ ہیں۔ نیگٹو ایفکٹ'اور پوزیٹو ایفکٹ.

اللہ نے کوئی بھی چیز بغیر مقصد کے تحلیق نہیں کی۔

واصف علی واصف کہتے ہیں"اعلیٰ ظرف انسان کا غصہ اس کو بنا جاتا ہے جبکہ کم ظرف انسان کا غصہ اس کو کھا جاتا ہے تباہ کر دیتا ہے۔"

یہ ایک منفی طاقت ہے۔اس کو مثبت کام میں اگر استعمال انسان کر لے۔تو انسان کچھ بن سکتا ہے۔ کسی کو کہا جائے کہ تم کچھ نہیں کر سکتے تو وہ غصے میں بہت کچھ کر جاتا ہے۔ مطلب غصے کا یہ مثبت پہلو ہے

اسلام کہتا ہے "اپنے غصے کو پی لیا کرو" اگر کھڑے ہو تو بیٹھ جاؤ۔ بیٹھے ہو تو کھڑے ہو جاؤ۔ پانی استعمال کرو۔ اور سب سے بہتر کہ وضو کر لو۔ کیونکہ غصہ آگ کی مانند ہے۔ اس طرح کرنے سے دماغ کو  کجھ وقت مل جاتا ہے رسپانس کرنے میں۔تو پھر انسان کوئی بھی غلط فیصلہ نہیں کرتا۔ تو اس چیز سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے۔ کہ اسلام بہترین مذہب ہے۔ اسلام نے ہر ایک کام میں مثبت پہلو رکھا ہے۔ اگر ان چھوٹی چھوٹی باتوں  پہ انسان عمل کرنا شروع کر دے۔ تو کبھی بھی خسارے میں نہ جائے۔

ایک عام انسان کو ایموشنل مینجمینٹ کا نہیں پتا۔ کیونکہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے جب ہم پیار کرتے ہیں تو بے انتہا' نفرت کرتے ہیں تو بے انتہا'' غصے کرتے ہیں تو بے انتہا'

ہر چیز کی زیادتی نقصان دہ ہوتی ہے اس لیے زندگی میں توازن ہونا چاہیے۔

جب تک ایک انسان خود کے جذبات نہیں سمجھے گا وہ کبھی  دوسرے انسان کے جذبات بھی نہیں سمجھ سکتا۔

اپنے جذبات کو دبائیں نہیں ان کو منیج کرے۔ جو بھی کریں ایک حد میں رہ کے کریں۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -