سوشل میڈیا پر بیہودہ اورواہیات کمنٹس کی بھرمار

سوشل میڈیا پر بیہودہ اورواہیات کمنٹس کی بھرمار
سوشل میڈیا پر بیہودہ اورواہیات کمنٹس کی بھرمار

  

سوشل میڈیا پر کسی کی پگڑی اچھالنا یا اسے ٹرول کرنا ایک عمومی سرگرمی سمجھی جاتی ہے اوراس کام کو نہایت ہی موزوں مذاق اورٹائم پاسنگ مشغلہ سمجھا جاتا ہے ۔ 

لیکن درحقیقت ایسے بیہودہ اور واہیات کمنٹس ،لکھنے والے کی ذہنی صحت اور خاندانی تربیت کا ایک موثرعکاس ہوتے ہیں ۔ اگرچہ کہ سوشل میڈیا انسانوں کو قریب لانے ،ان کے خیالات کو ایک دوسرے تک پہنچانے  اور ایک بہتر رائے عامہ کی تشکیل کے لئے ہی متعارف کروایا گیا  تھا لیکن اس مثبت چیز کا استعمال منفی ہو رہا ہے ۔ 

چاہے آپ کتنے ہی مثبت کیوں نہ ہوں ، واہیات ، بیہودہ اور  فضول کمنٹس کی بھرمار آپ کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر دے گی ۔ کبھی کسی پوسٹ پر ماں بہن کی گالیاں لکھی ہوں گی  تو کبھی کسی پر نسوانی حملے کئے جائیں  گے ۔ 

کسی کو مردانگی نہ دکھانے کا طعنہ دیا جائے گا  تو  کبھی رائے کے اظہار کے لئے گندی مثالوں کا سہارا لیا جائے گا ۔ غرض یہ کہ  ایسے ایسے کلمات سے کسی کی بھی وال کو داغدار کر دیا جائے گا  جیسا کہ شاید کبھی گذشتہ زمانے میں  دیواروں پر لکھنے والے بھی لکھتے ہوئے شرماتے ہوں گے ۔ 

عوام کے ذاتی اکاوئنٹ تو ایک طرف رہے  اصل مسئلہ خبر رساں اداروں  کے سوشل میڈیا پیجز پر دکھائی دیتا ہے ۔ ایک طرف پوری خبر کو پڑھنے سے پہلے ہی لکھ لیا جاتا ہے کہ ’’ مت پڑھنا  اس کی پوری خبر یہ ہے تم وقت ہی ضائع کرو گے ‘‘ 

کسی خبر کے نیچے لکھا ہو گا ’’ اس چینل نے تو یہی خبر دینی ہے  کیونکہ  یہ فلاں کا ایجنڈا چلا رہا ہے ، فلاں سے لفافے لے رہا ہے ‘‘ 

  اور تو اور کئی کمنٹس میں کسی ایک خاص فرقے کو نشانہ بنا دیا جاتا ہے  اوراہل بیت علیہ السلام اور اصحاب کرام رضوان اللہ تعالی اجمعین کے  مراتب کو واضح کرنے کے لئے ایک سے بڑھ کر ایک کمنٹ کیا جاتا ہے ۔ خبر کچھ ہوتی ہے  لیکن اسکی آڑ لے کر  اسے کچھ سے کچھ بنا کر فرقہ واریت کو ہوا دی جاتی ہے  جو کسی صورت بھی جائز نہیں ۔ 

ایسے مذہب کا چورن بیچنے والے افراد  فیس بک پر ایسے ظاہر کرتے ہیں  کہ جیسے ان کے ہاتھوں میں تلواریں ہیں اور وہ مخالف فرقے والے شخص کا گلا کاٹنے لگے ہیں ۔یہ صورتحال  انتہائی الارمنگ ہے ۔ 

اسی طرح شوبز کی خبروں پر بھی  ہر طرح کا کمنٹ دیکھنے کو ملتا ہے ’’ تم بڑی طرفداری کر رہے ہو اس اداکار کی ، یہ تمھارا ماما لگتا ہے ۔ پڑوسی ملکوں کے اداکاروں کے تم بہت بڑے نمائندے ہو جو ان کی خبر نہ لگاتے تو مر جاتے ۔ ‘‘ 

سیاسی خبروں کا بھی کچھ نہ پوچھئیے ۔ کہیں پٹرول کی قیمتوں پر تبصرہ کیا جائے تو کمنٹس دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ ’’ اچھا آُپ کے اندر سے پٹرول نکلنے لگا ہے ، عمران خان جو کر رہا ہے بالکل ٹھیک کر رہا ہے ، تم اپنی بکواس بند کرو ۔ تم نہیں جانتے کہ گذشتہ حکومتوں نے کتنے قرضے لئے ہیں کتنا مال بنایا ہے ۔ اب یہ قرضے تمھارا باپ اتارے گا ؟ ‘‘ 

کسی جگہ یہ لکھا ہوا نظر آئے گا کہ’’ موجودہ حکومت نااہل ہے اور اسکے دن تھوڑے ہیں ، عمران خان کی لائی ہوئی تبدیلی یہ ہے غریب کی کمر توڑ دی  اس تبدیلی نے ۔ ‘‘

دوسری طرف یہ اشتہار لگا ہوتا ہے ’’ کسی چیز کا علم نہ ہوا کرے کمنٹ نہ کیا کرو ۔ ‘‘ کہیں کسی بھی خبر کے نیچے یہ دیکھنے کو ملتا ہے  کہ ’’ جو جو مسلمان ہے  وہ  درود پڑھ کر فارورڈ کرے ، یا یہ کہ میں نے بہت اچھا گروپ اور چینل بنایا ہے ، میں بہت غریب ہوں ، میری مدد کے لئے اس گروپ اور چینل کو سبسکرائب کر لیں ۔ ‘‘ 

ابھی بہت سے عامیانہ جملے اور الفاظ ایسے ہیں جنہیں لکھنے سے میں قاصر ہوں ۔ 

آخر یہ ہم سب کہاں جا رہے ہیں ؟ کس پر تنقید کر رہے ہیں ؟ دراصل یہ تنقید نہیں  بلکہ اپنی گھٹیا سوچ کو سامنے لانا ہے ۔ میرے خیال میں  خبر رساں اداروں کی ذمہ داری  یہ ہے کہ وہ آپ تک خبریں پہنچائیں اور اپنا فرض پورا کریں ۔ 

ان کا یہ کام نہیں ہے کہ اس خبر کا بھی ٹھیکا لیں جو آپ کو پسند نہیں ہے، اب اگر آپ کو شوبز کی خبریں پسند نہیں تو ضروری نہیں کہ آُپ ان کا مطالعہ بھی کریں ۔ 

اگر آپ کو دین کے بارے میں درست اور مستند معلومات نہیں ہیں تو یہ کہیں نہیں لکھا ہوا  کہ آپ کا فرقہ ہی مستند ہے اور آپ کو یہ حق مل گیا ہے  کہ آپ جب چاہیں جہاں چاہیں اپنے فرقے کی تبلیغ کرنا شروع کرکے دوسرے اشخاص کی  دل آزاری کریں ۔  

یہ کہاں کی آزادی اظہار رائے ہے  کہ آپ خواتین کے پروفائلز دیکھ کران کے کئے گئے کمنٹس  دیکھ کر  لغو اور گندی  باتیں لکھیں ۔ کیونکہ  جب بات چلتی ہے تو وہ پھر آپ کی بہن ، بیٹیوں  اور دیگر خواتین تک بھی پہنچ جاتی ہے  کیونکہ سوشل میڈیا  ناقابل برداشت لوگوں کے ہاتھ میں ایک ہتھیار بن کر رہ گیا ہے ۔ 

جب آپ کسی کو ایک سنائیں گے  تو وہ بھی آپ کو دس سنانے کے لئے تیار ہو گا ۔ بہت کم لوگ ایسے ہیں  جو اپنے غصے اور طیش پر قابو پاتے ہوئے  کوئی جواب نہیں دیتے  لیکن ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا کیونکہ  ہر شخص کی  قوت برداشت کی ایک حد ہوتی ہے ۔ 

جس کے عبور کرنے کے بعد آپ اس سے کسی بھی قسم کی توقع کر سکتے ہیں ۔ خدارا  سوشل میڈیا کو تعمیری کاموں میں استعمال کیجئے  کیونکہ اس کو بطور مہلک ہتھیار استعمال کرنے والے کم نہیں ۔

 ۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

 .

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -