سعودی عرب میں ایک مرتبہ پھر ہلچل، شاہی خاندان کے اہم ترین افراد کے خلاف کارروائی

سعودی عرب میں ایک مرتبہ پھر ہلچل، شاہی خاندان کے اہم ترین افراد کے خلاف ...
سعودی عرب میں ایک مرتبہ پھر ہلچل، شاہی خاندان کے اہم ترین افراد کے خلاف کارروائی

  

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کرپشن کے خلاف نئے کریک ڈاﺅن میں ایک اعلیٰ فوجی افسر اور اس کے بیٹے کو عہدوں سے ہٹا دیا۔ میل آن لائن کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل فہد بن ترکی بن عبدالعزیز نامی یہ فوجی افسر سعودی عرب کی یمن میں جاری جنگ کا انچارج تھا۔ اس کا بیٹا شہزادہ عبدالعزیز بن فہد بن ترکی بھی سعودی فوج میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھا۔ اس باپ بیٹے پر یمن کی جنگ میں مالی فوائد حاصل کرنے کا الزام عائد کیا گیا جس کے بعد شہزادہ محمد نے انہیں عہدوں سے ہٹا دیا۔ 

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی کی طرف سے ان فوجی افسروں کو ہٹانے کی خبر جاری کی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ وزارت دفاع کی طرف سے ان افسران کی نگرانی کی جا رہی تھی جس دوران شبہ گزرا کہ انہوں نے مشکوک مالی معاہدے کیے ہیں۔ جس پر یمن میں لڑنے والی سعودی اتحادی فوج کے انچارج لیفٹیننٹ جنرل فہد بن ترکی بن عبدالعزیز اور ان کے بیٹے کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔ریاست کی طرف سے چار دیگر فوجی افسران کے خلاف بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔واضح رہے کہ قبل ازیں بھی شہزادہ محمد بن سلمان نے کرپشن کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاﺅن کیا تھا اور شاہی خاندان کے درجنوں افراد سمیت سینکڑوں لوگوں کو گرفتار کرکے ایک ہوٹل میں قید کر دیا تھا جہاں سے وہ مبینہ طور پر کرپشن کی رقم واپس کرکے رہا ہوئے تھے۔ 

مزید :

عرب دنیا -