پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بجلی کے بلوں میں صارفین سے نیلم جہلم سرچارج وصول نہ کرنے کی سفارش کر دی  

  پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بجلی کے بلوں میں صارفین سے نیلم جہلم سرچارج وصول نہ ...
  پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بجلی کے بلوں میں صارفین سے نیلم جہلم سرچارج وصول نہ کرنے کی سفارش کر دی  

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بجلی کے بلوں میں صارفین سے مزید نیلم جہلم سرچارج وصول نہ کرنے کی سفارش کر دی۔ 

تفصیلات کے مطابق پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں پانچ سال سے غیر قانونی طور پر بجلی کے بلوں میں نیلم جہلم سرچارج لیے جانے کا انکشاف ہوا ہے،نوٹیفکیشن 2015 میں ایکسپائر ہوچکا ہے تاہم حکومتی اعلان کے باوجود تاحال صارفین نیلم جہلم سرچارج ادا کر رہے ہیں ،  پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے واپڈا کو آئندہ سرچارج لینے سے روک دیا ہے،اجلاس میں چیف وہپ پی ٹی آئی عامر ڈوگر نے عوام کو پیسے واپس کرنے کا مطالبہ کیا  جبکہ چئیرمین کمیٹی رانا تنویر حسین نے مخالفت کردی۔

دوسری طرف قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق پی اے سی نے چیئرمین واپڈا اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے اتفاق کیا کہ نیلم جہلم سر چارج منصوبے کی تکمیل اور سال 2015 میں نوٹیفکیشن کی میعاد ختم ہونے کے باوجود بجلی کے بلوں میں عائد کیا جارہا ہے، متفقہ طور پر سفارش کی گئی کہ صارفین سے بجلی کے بلوں کے ذریعے مزید نیلم جہلم سرچارج وصول نہیں کیا جانا چاہیئے کیونکہ یہ منصوبہ پہلے ہی مکمل ہوچکا ہے۔

یاد رہے کہ ایک سال قبل بھی حکومت نے نیلم جہلم سرچارج ختم کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم اس پر عملدرآمد نہیں کیا جا سکا ۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -