کاش عبدالرشید مر گیا ہوتا 

 کاش عبدالرشید مر گیا ہوتا 
 کاش عبدالرشید مر گیا ہوتا 

  

گزشتہ ہفتے اپنے دوستوں اور بائیو کیم انٹرپرائزز کی ٹیم کے ساتھ ضلع راجن پور کی تحصیل فاضل پور،حاجی پور اور کوٹ چھٹہ کے علاقوں میں امدادی سامان لے کر پہنچا سیلاب کی تباہ کاریوں کو دیکھ کر کچھ وقت کے لئے سکتے میں آگیا ہر طرف پانی ہی پانی تباہی اور بربادی تھی وہاں پر تقریبا چار کلومیٹر تک خیمے لگے ہوئے تھے ہم اپنے مقامی دوستوں فرحان اقبال، وقار احمد، ملک طاہر سلیم اور راجن پور کے کچھ دوست جو بائیوکیم انٹرپرائزز کی ٹیم کا حصہ تھے انہیں ساتھ لے کر کھانا،کپڑے، جوتے برتن، ادویات تقسیم کرنے نکلے ہم نے الخدمت فاؤنڈیشن کی مدد حاصل کی کیو نکہ ہم کھانا پکا کر لے گئے تھے اور اسے تقسیم کرنے کے لیے ہمیں کشتیوں کی ضرورت تھی الخدمت والوں نے ہمیں کشتیاں دیں تو ہم قریبی علاقوں کو چھوڑ کر آگے نکل گئے ہم ان دور دراز دیہاتوں میں چلے گئے لوگ گزشتہ کئی دنوں سے اپنے گھروں کی چھتوں پر بھوکے پیاسے کسی امداد کے منتظر بیٹھے تھے ہم نے انہیں کھانا اور پانی پہنچایا یوں ہی چلتے چلتے ایک گاؤں میں میری ملاقات عبدالرشید سے ہوگئی ہے عبدالرشید اسی گاؤں کا رہائشی تھا اس گاؤں کے چاروں اطراف پانی تھا اور گاؤں کے اندر کے کچھ راستے خشک ہو چکے تھے ہم نے وہاں پر کشتی رو کی گھروں میں جاکر کھانا تقسیم کیا جب ہمارے پاس کھانا ختم ہوگیا تو ہم عبدالرشید کے گھر چلے گئے اس غریب کا واحد ذریعہ معاش بھیڑ بکریاں تھیں جو باڑے میں پانی بھر جانے سے مر گئیں وہ اپنے بیوی بچوں کو لے کر کے چھت پر چلا گیا عبدالرشید نے اپنی کہانی سنائی تو یقین کریں پاؤں تلے سے زمین نکل گئی مجھے یقین ہے کہ اسکی کہانی میں جتنا درد اور بے بسی تھی اس سے قدرت بھی پریشان ہو گئی ہوگی اس کی آہ و پکار عرش ہلا رہی تھی اور جب سے اس نے سنا تھا کہ وزیراعظم نے سیلاب میں وفات پانے والوں کے لیے دس لاکھ روپے کا اعلان کیا ہے تو

وہ ہر بات پہ کہہ رہا تھا کہ کاش عبدالرشید مر گیا ہوتا میں نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا ایسا کیوں کہہ رہے ہو تو وہ کہنے لگا اگر عبدالرشید مر گیا ہوتا تو میرے بچوں کو دس لاکھ روپے مل جاتے اور وہ دوبارہ سے بھیڑ بکریاں خرید کر زندگی گزارنے کے قابل ہو جاتے اس کی باتیں اب برداشت سے باہر ہو رہی تھیں تو ہم بوجھل قدموں،کپکپاتے جسموں اور آنسوؤں بھری آنکھوں کے ساتھ وہاں سے نکل آئے اب دوسرا مرحلہ سامان کی تقسیم کا تھا اس وقت دن کے تین بج چکے تھے ہم نے ہر خیمے میں جانے کا فیصلہ کیا چو نکہ وہاں کے مقامی لوگ ہمارے ساتھ تھے تو ہمیں پتہ چل گیا ہم ہر خیمے میں جاتے ہمارے ساتھی ان سے دو منٹ بات کرتے اور ہمیں بتا دیتے کہ یہ لوگ باہر سے آئے ہیں مزید تحقیق کرنے سے پتہ چلا کہ یہ مردہ ضمیر اور بے حس لوگ ملتان، خانیوال اور دوسرے علاقوں سے اٹھ کر صرف امدادی سامان حاصل کرنے کے لیے وہاں پہنچ گئے ہیں یقین کریں ان لوگوں کی مردہ ضمیری دیکھ کر یہ احساس ہوا کہ میرے ملک کا امیر ہی نہیں غریب بھی ظالم ہے اور یقین کریں وہ حقداروں اور سیلاب زدگان سے زیادہ سامان اکٹھا کئے ہوئے تھے ملک کے دور دراز علاقوں سے جانے والے لوگ جنہیں کوئی مقامی ساتھی میسر نہیں تھا وہ انہی لوگوں کو ضرورت مند سمجھ کر امدادی سامان دے کر چلے جاتے اور یوں سامان اصل حقداروں تک نہیں پہنچ پاتا جتنے لوگ مدد کے لیے وہاں جا رہے ہیں میں ان کو آگاہ کرنا چاہوں گا کہ سامان کی تقسیم کے لیے الخدمت فاؤنڈیشن یا مقامی افراد کی مدد ضرور حاصل کر لیں تاکہ آپ کا سامان اصل ضرورت مندوں تک پہنچ سکے لاہور،فیصل آباد،سیالکوٹ اور دوسرے شہروں میں جہاں کہیں بھی امدادی کیمپ لگا کر سامان جمع کیا جا رہا ہے میں ان سے گزارش کروں گا کہ براہ کرم جنوبی پنجاب، سندھ، بلوچستان اور کے پی کے جہاں بھی جائیں مقامی لوگوں کی مدد ضرور حاصل کریں اس وقت وہاں پر خیموں کھانے پینے کی اشیاء،خشک لکڑیوں،ماچس کی ڈبیوں، مچھروں سے بچاؤ کے لیے لوشن،مچھر دانیوں، جلد کی بیماریوں، ڈہریا اور سانپ کے کاٹنے سے بچاؤ کے لئے ادویات کی سخت ضرورت ہے کھانے پینے کی اشیاء میں صاف پانی، چاول، دالیں، دودھ،آٹا، گھی، آلو، مصالحہ جات، چینی اور ایسی سبزیاں جو کئی دن تک خراب نہ ہوں لے کر جائیں میرے اندازے کے مطابق وہاں پر کپڑوں اور جوتوں کی ضرورت بہت کم ہے لیکن اپنی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ آپ لونگ شوز ساتھ لے کر جائیں کیونکہ بڑی تعداد میں سانپ خشکی پر آئے بیٹھے ہیں جو آپ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں ایک اور خبر سے آپ کو آگاہ کرتا چلوں کہ وہاں پر قیامت خیز سیلاب میں بھی چوریاں ہو رہی ہیں چور اپنی کشتیوں میں مدد کے بہانے دیہاتوں میں جاتے ہیں گھروں میں داخل ہو کر انہیں موٹرسائیکل،سولر پینل، برتن،کوئی بھی قیمتی چیز یا جانور مل جائے تو اسے اپنی کشتیوں میں ڈال کر فرار ہوجاتے ہیں ان کے بارے میں جان کر یہ احساس ہوا کہ قرآن کا فیصلہ بالکل درست ہے کہ جیسی قوم ہو گی ویسے حکمران ان پر مسلط کر دیے جائیں گے یقین کریں ایسے میں جہاں یہ بھی علم نہیں کہ کون سا ریلا ہماری زندگی کو ساتھ بہا لے جائے یہ لوگ سیلاب میں بے یارومددگار لٹے پٹے لوگوں پر ظلم و ستم کر رہے ہیں وہاں پر حکومت سے زیادہ عام لوگ مدد کو پہنچے نظر آئے ہیں ان علاقوں میں پنجاب حکومت کا کہیں نام و نشان نظر نہیں آیا اتنی خود غرضی آج سے پہلے کسی حکومت میں نہیں دیکھی جتنی پی ٹی آئی اور پرویز الہی حکومت نے دکھائی اللہ کریم انہیں ہدایت دے جناب وزیراعظم آپ سے گزارش ہے کہ ان علاقوں کا بھی دورہ کریں اور انہیں امدادی سامان کی ترسیل کو فی الفور ممکن بنائیں یہ سارا علاقہ آپ کا منتظر ہے میں تمام مخیر حضرات سے اپیل کرتا ہوں کہ برائے کرم جتنی ہو سکے یہاں پر امداد بھیجیں ان کے پاس کچھ نہیں بچا یہ لوگ بے یارومددگار بھوک افلاس بیماریوں اور سانپوں کا اکیلے مقابلہ کر رہے ہیں آج کئی دن بعد میں لاہور واپس پہنچا ہوں لیکن وہ آواز میرے کانوں میں ابھی تک گونج رہی ہے کہ کاش عبدالرشید مر گیا ہوتا۔

مزید :

رائے -کالم -