گورکھ دھندا 

 گورکھ دھندا 
 گورکھ دھندا 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 ہر سال جون کے مہینے میں عوام سے لیکر حکومتی ایوانوں تک ہر چیز وفاقی بجٹ کے گرد گھومنا شروع کر دیتی ہے، سرکاری ملازمین کی نظریں تنخواہوں میں اضافے پر مرکوز ہوتی ہیں، جبکہ ریٹائرڈ افراد پنشن بڑھنے کے اعلان کا انتظار کرتے ہیں، کاروباری افراد ٹیکسوں میں ریلیف اور صنعتوں کیلئے مراعات کی امیدیں لگا کربیٹھ جاتے ہیں اور گاڑیوں کے شوقین کسٹم ڈیوٹیوں کی شرح میں کمی بیشی کیلئے بے چین نظر آتے ہیں۔تاہم بیورو کریسی کی ”کاریگری“ یہ ہے کہ وہ بجٹ دستاویزات اس انداز میں تیار کرتی ہے کہ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آتا کہ کیا ہوا ہے اور آئندہ کیا ہونے جا رہا ہے؟ جس طرح عید الاضحی کے موقع ”ڈیمانڈ“ کے پیش نظر موسمی قصائی مارکیٹ میں آ جاتے ہیں، اسی طرح بجٹ سیزن میں ٹیلی ویژن چینلوں اور ٹاک شوز کی ڈیمانڈ کے پیش نظر انجمن تاجران بادامی باغ، انجمن آڑھتیاں سبزی منڈی کے عہدیداران بھی ”اکانومسٹ“ بن کر بجٹ پر تبصرے کرتے نظر آتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ابتدائی طور پر بجٹ دستاویزات کی کسی کو سمجھ نہیں آتی۔ لہٰذا پچھلے 76 برسوں میں ہر بجٹ پر سب سے دلچسپ تبصرہ یہ ہوتا ہے کہ بجٹ الفاظ کا ”گورکھ دھندا“ ہے۔
اگست میں آنیوالے بجلی کے جان لیوا بلوں پرعوامی احتجاج کا سلسلہ تقریباً 25 اگست سے شروع ہوا تھا جو ابھی تک مختلف شکلوں میں جاری ہے۔ دوسری طرف عوامی احتجاج کے پیش نظر نگران حکومت سے کچھ اس قسم کی خبریں شہ سرخیوں میں اپنی جگہ بنا رہی ہیں۔”بجلی صارفین کو ریلیف، 48 گھنٹوں میں رپورٹ طلب، آج پھر اجلاس، صوبوں سے بھی مشاورت ہوگی“۔ ”بجلی بلوں کیخلاف احتجاج میں شدت، نگران وزیر اعظم نے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا، بجلی بلوں پر ریلیف، آئی ایم ایف نے رپورٹ مانگ لی“ وغیرہ وغیرہ۔تاہم یقین جانیں کہ ہنگامی اجلاس طلب کرنیوالے، بلوں پر ریلیف کیلئے غور کرنیوالے اور آئی ایم ایف کو رپورٹ پیش کرنیوالے سب مل کر عوام کو بدھو بنائیں گہ کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے بجلی کے کروڑوں صارفین کو ”چونا“ لگایا ہے اور بھولے بھالے عوام انہیں لوگوں سے انصاف کی امیدیں لگا کر بیٹھے ہیں۔


 بنیادی بات وہی ہے بجلی کے یہ بل بذات خود الفاظ کا ”گورکھ دھندا“ ہیں۔ کیونکہ یہاں بھی ساری ”واردات“ بیورو کریسی کی ہے جنہیں پتہ ہے کہ سادہ لوح عوام کو کس طرح ”کھجل“ کرنا ہے۔مثال کے طور پر لیسکو میں سب ڈویژن، ڈویژن اور سرکل کی سطح پر فیلڈ سٹاف اپنے افسران کی ملی بھگت سے بجلی چوری میں ملوث ہیں، پاور ڈویژن کی طرف سے جب بجلی کے ان ”گمشدہ یونٹس“  جنہیں لائن لاسز کہتے ہیں کا آڈٹ وغیرہ نکلتا ہے تو ہر سطح پر اوپر والے افسران اپنے ماتحتوں کو یہ گمشدہ یونٹ تلاش کرنے کے احکامات جاری کر تے ہیں، لہٰذا یہ چوری ہونیوالے یونٹ باقاعدگی سے بل ادا کرنیوالے غریب اور لاچار صارفین کو ڈال کر ریکوری ڈال دی جاتی ہے جو بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں ایک معمول کی کارروائی ہے۔ اگر لیسکو میں لائن لاسز کی اعلانیہ شرح 20 فیصد سے زائد ہے تو بجلی بلوں کی ریکوری 100 فیصد سے زائد کیسے ممکن ہے؟ اس سے صاف ظاہر ہے کہ ”اوور بلنگ“ کی گئی ہے۔اب اصل مسئلہ یہ ہے کہ جس محکمے نے اپنے صارف کو ناجائز بل بھیج کر اس مشکل میں ڈالا ہے وہ کنزیومر اسی محکمے کے پاس اپنا بل درست کروانے کیلئے دفاتر کے چکر لگا رہا ہے،تو اسے ا نصاف کیسے ملے گا۔ دوسری جانب بجلی صارفین کی اکثریت کو بجلی کی پیداوار، اس کی ترسیل اور تقسیم کے میکنزم کا اندازہ تک نہیں۔ لاہور میں بجلی کے بل ”لیسکو“ یعنی لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی بھیجتی ہے، تاہم عوام کی اکثریت ابھی تک اسے ”واپڈا“ کہتی ہے جبکہ واپڈا والوں کو بار بار واپڈا ہاؤس سے ان اخباری خبروں کی تردید کرنی پڑتی ہے۔ واپڈا والے کہتے ہیں ہمارا بجلی کی تقسیم سے اب کوئی تعلق نہیں اور واپڈا اتھارٹی اب صرف ”ہائیڈل جنریشن“ یعنی آبی ذرائع سے پیدا ہونیوالی بجلی کی پیداوار کی حد تک ذمہ دار ہیں جن میں ڈیم اور دیگر آبی منصوبے شامل ہیں۔ لہٰذا جب صارفین اپنے بل اٹھا کر این ٹی ڈی سی یعنی نیشنل ٹرانسمیشن اینڈڈسپیچ کمپنی کا رخ کرتے ہیں تو کمپنی بہادر کہتے ہیں کہ بجلی کی ترسیل ان کا ذمہ ہے تاہم بجلی کی تقسیم یعنی بلوں وغیرہ کے معاملے پر آپ لیسکو سے رجوع کریں، جب احتجاجی مظاہرین لیسکو ہیڈ کوآرٹرز کا گھیراؤ کرتے ہیں تو حکام یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ بجلی کی فی یونٹ قیمت کا تعین ”نیپرا“ یعنی نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کرتی ہے، لہٰذا جوٹیرف نیپرا طے کر دیتا ہے لیسکو اس حساب سے اپنے صارفین کو بل بھیجتا ہے۔


بجلی کے زائد بلوں کا بحران اب تک کئی جانیں لے چکا ہے، لا تعداد گھرانوں میں جھگڑے، لڑائیاں اور خود کشیاں ہو رہی ہیں، تاہم آج ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ توانائی کے شعبہ میں یہ بد حالی راتوں رات نہیں ہوئی۔ اس کا آغاز 1993 ء کی پاور پالیسی میں ہوگیاتھا جب واپڈا کے ممبر پاور تنظیم نقوی نے اس پالیسی کو پاکستان کا ”ڈیتھ وارنٹ“ قرار دیا تھا۔جب انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز(آئی پی پیز) اور رینٹل پاور پراڈیوسرز (آر پی پیز)  فیلڈ میں آ گئے جن کے با اثر مالکان کی رسائی حکومتی ایوانوں تک تھی اور ان کے ساتھ ایسے ایسے معاہدے ہوئے جنہوں نے آج ہمیں اس ذلت کے مقام تک پہنچا دیا ہے۔ڈالر تین سو روپے سے تجاوز کر چکا ہے جبکہ عالمی سطح پر فرنس آئل کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر ہیں تاہم پاکستان بڑے پیمانے پر درآمدی ایندھن ان پاور پروڈیوسرز کو فراہم کرکے ان سے مہنگی ترین بجلی خرید رہا ہے، حالانکہ صرف دریائے سندھ پر پانی سے بجلی بنانے کا پوٹیشنل 50 ہزار میگاواٹ تک ہے۔
طویل المدتی منصوبہ بندی کے ذریعے ان آبی منصوبوں سے سستی بجلی پیدا کئے بغیر عوام کو ریلیف نہیں مل سکتا۔ بصورت دیگر عوام کو یہ کہہ کر بے وقوف بنایا جاتا رہے گا کہ ہنگامی اجلاس طلب کر لیا، ریلیف پر غور کیا جا رہا ہے، آئی ایم ایف کو تجاویز بھیج دی گئی ہیں۔ اسی ”دوڑ پج“ میں 15 ستمبر آ جائے گی جب لوگوں کے اے سی وغیرہ بند ہو جائیں گے اور موسم بہتر ہونے سے بجلی کا استعمال کم ہوگا جس سے بل وقتی طور پر کم ہوجائیں گے، چند مہینوں کیلئے عوام بجلی کے بل بھول جائیں گے اور اگلی گرمیوں میں بجلی حکام تازہ دم ہو کردوبارہ عوام کا کچومر نکالیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -