وہ آ گیا ہے....

وہ آ گیا ہے....
وہ آ گیا ہے....

  


تمام توقعات و خدشات کے برعکس سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف کی پاکستان آمد اگرچہ بہت سے حلقوں کے لئے تعجب خیز ہے ، لیکن ان کی آمد سے ملکی سیاست میں جس بھونچال کے آنے کی توقع تھی وہ نہیں آ سکا۔ حیران کن انداز میں ان کے سب سے بڑے مخالفین، یعنی مسلم لیگ(ن) نے بھی اس حوالے سے شدید ردعمل ظاہر نہیں کیا۔

ہمارے شاعر دوست محترم ناصر بشیر کا کہنا ہے کہ انہوں نے سابق صدر کی واپسی کے حوالے سے جو نظم تحریر کی ہے وہ دریا کو کوزے میں بند کرتے ہوئے حالات کی بہترین عکاس ہے ، لہٰذا پہلے اُن کی نظم اور پھر اس حوالے سے کچھ تجزیہ:

وہ آ گیا ہے گردش دوراں کو ٹال کے

جس نے مزے بہت لیے وردی کی کھال کے

کتنا ہے سنگ دل کہ پریشاں بھی نہیں

اپنے کئے پہ نادم و حیراں بھی نہیں

ہونٹوںپہ اس کے اتنا تبسم ہے کس لئے؟

اپنی خوشی کے سحر میں یہ گم ہے کس لیے؟

اب کے ہمیں دکھائے گا یہ خواب کون سے؟

پھر بند ہوں گے زندگی کے باب کون سے؟

وہ کون سا ستم ہے جو اُس نے نہیں کیا؟

اس نے ہماری جان بھی لی خون بھی پیا

قاتل کے واسطے کوئی تعزیز کیوں نہیں؟

 پھندا گلے میں پاﺅں میں زنجیر کیوں نہیں؟

کوئی دکھائے میرے ستم گر کو آئینہ

دامن پہ اس کے خون ہے کتنا لگا ہوا

ممکن ہے محترم ناصر بشیر کی حال ہی میں میاں محمد نواز شریف سے ہونے والی ملاقات کچھ زیادہ ہی اثر انگیز واقع ہو گئی ہو اور یہ سابق صدر کے خلاف ان کے جذبات میں بڑھاوے کا سبب بن گئی ہو، لیکن میری رائے کے مطابق سابق صدر کی وطن واپسی اس ملک کے اہلیان سیاست کی ناکامیوں پر مہر ثبت کر رہی ہے وگرنہ لال مسجد و جامعہ حفصہ میں قتل عام کے ذمہ دار، اکبر بگٹی کی شہات میں ملوث، لا تعداد پاکستانیوں کو لاپتہ کروانے کے ذمہ دار اور کئی بار آئین کی پامالی کے مرتکب ہونے والے کمانڈو کو یہ کہنے کی جرا¿ت ہر گز نہ ہوتی کہ عوام میرے دور کو یاد کرتے ہیں.... کہاں ہے وہ پاکستان جو مَیں آج سے پانچ سال قبل چھوڑ کر گیا تھا کراچی ایئر پورٹ پر اپنے چند درجن کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر کا فرمانا تھا کہ ملک میں خوشحالی اور طمانیت کا جو دور دورہ آج سے پانچ سال قبل تھا وہ رخصت ہو چکا اسی لئے مجھے دوبارہ اس ملک میں آ کر اس کی باگ دوڑ سنبھالنا ہوگی، باوجود اس کے کہ آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اس قابل نہیں کہ وہ عوامی حمایت کی بدولت اقتدار کے ایوانوں کا راستہ طے کر سکیں، کیونکہ نہ ان کی سیاسی جماعت عوام میں جڑیں رکھتی ہے اور نہ ہی اس کے پاس انتخابات میں حصہ لینے کے لئے کسی قسم کے موزوں امیدواروں کی دستیابی ہے ۔ لیکن اس کے باوجود سابق صدر کی وطن واپسی معنی خیز بھی ہے اور غیر ملکی قوتوں کے ان پر اعتماد کا اظہار بھی جنرل (ر) پرویز مشرف نے وطن واپسی سے قبل سعودی عرب کے شاہی خاندان سے ملاقات کی۔ اگرچہ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے حامی غیر ملکی دوستوں نے وطن واپسی سے روکنے کی بھرپور کوشش۔ پرویز مشرف جیسے حد درجہ محتاط انسان کے حوالے سے یہ اندازہ لگانا کہ وہ اپنی جان کو خطرات میں ڈال کر ملک واپس آئیں ہیں بھی درست نہیں دکھائی دیتا۔

سابق صدر کو وطن واپسی کے بعد ملنے والی سیکیورٹی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ کہیں نہ کہیں سے انہیں کوئی نہ کوئی یقین دہانی ضرور کروائی گئی ہے ، اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا یہ کسی گریٹ گیم کا حصہ ہے ؟ ایک بات تو طے ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ میں اب بھی ایسے عناصر شامل ہیں جو نواز شریف کی مخالفت پر کمر بستہ ہیں۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ احمد شجاع پاشا کے ریٹائرڈ ہونے جانے کے بعد اگرچہ میڈیا کے کچھ حلقوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ میں موجود ایسے عناصر جو تحریک انصاف کی حمایت کر رہے ہیں کو اعلیٰ عسکری قیادت نے شٹ اَپ کال دی ہے ، لیکن اب بھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے بعض حلقے نواز شریف مخالف قوتوں کو اکٹھا کر کے انتخابات میں رخنہ اندازی کے لئے کسی سانحے کے وقوع پذیر ہونے کے منتظر ہیں۔ چودھری برادران تک محدود ہوتی مسلم لیگ(ق) کو بھی اپنے مستقبل کی فکر ستا رہی ہے ، اس میں کچھ شک نہیں کہ صدر آصف علی زرداری نے مسلم لیگ(ق) کو اپنے مفادات کے لئے بخوبی استعمال کیا اور مقاصد کے حصول کے بعد اب اس سے پیچھا چھڑوایا جا رہا ہے ۔ پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ (ق) کو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا لالی پاپ اس وقت دینا شروع کیا جب اس کے اور پیپلزپارٹی کے اتحاد کا آغاز ہوا تھا۔ چودھری برادران کا خیال تھا کہ 2008ءکے انتخابات میں انہیں حاصل ہونے والی قومی اسمبلی کی 58 نشستیں وہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے آمدہ انتخابات میں بھی بچانے میں کامیاب ہو جائیں گے اور2013ءکے انتخابات کے بعد بھی موثر پارلیمانی قوت کے طور پر سامنے آئیں گے، لیکن اب ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا، بعض تجزیہ کاروں کے مطابق مسلم لیگ (ق) اپنی بقاءکے لئے متحدہ قومی موومنٹ اور جنرل (ر) پرویز مشرف کی جانب ہاتھ بڑھا سکتی ہے ۔ مسلم لیگ(ق) کے ممبران کی بڑی تعداد مسلم لیگ (ن) کا رُخ کر چکی ہے ، جس کے بعد وہ آئندہ انتخابات میں قومی اسمبلی کی 5-10 نشستیں حاصل کرنے کی پوزیشن میں بھی دکھائی نہیں دیتی۔ پرویز مشرف کے حا میوں کا کہنا ہے کہ ان کے دور میں ملک میں معاشی ترقی کی شرح 5.3فیصد تھی، ملک میں اربوں ڈالر کی غیرملکی سرمایہ کاری ہوئی اور صنعتی ترقی کی رفتار بڑھی، جبکہ پیپلزپارٹی کے پانچ سالہ دور میں ملک میں مہنگائی، غربت، بیروزگاری اور توانائی کے بحران کے علاوہ دہشت گردی اور بدامنی میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ بنظر عمیق اگر جائزہ لیا جائے تو 18اگست 2008ءکو مستعفی ہونے والے سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف کا ملکی سیاست میں بظاہر اب کوئی کردار دکھائی نہیں دیتا، لیکن اگر پیپلزپارٹی اور اس کے اتحادیوں کے پانچ سالہ دورِ حکومت میں عوامی فلاح و بہبود کے چند منصوبوں پر بھی عملدرآمد ہو جاتا تو سابق آمر کو اپنی بقیہ زندگی بھی جلاوطنی میں ہی گزارنا پڑتی۔ اب جبکہ 16مارچ2008ءکو قائم ہونے والی قومی اسمبلی تحلیل ہو چکی ہے اور نئی اسمبلی کے چناﺅ کے لئے 11مئی 2013ءکا دن مقرر ہو چکا ہے ۔ ایسے میں اہلیان سیاست کو اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے عوام پر سیاست دانوں کا اعتماد بحال کرنا ہو گا تاکہ عوام کو آمروں سے ہمیشہ کے لئے نجات مل سکے۔     ٭

مزید : کالم


loading...