شبِ تنور وشبِ سمور

شبِ تنور وشبِ سمور
شبِ تنور وشبِ سمور

  


قارئین محترم! بعض اوقات کوئی دوست مدت کے بعد ملتا ہے تو اس قدر خوشی ہوتی ہے کہ بیان کرنا مشکل ہے۔ استاد محمد ابراہیم ذوق نے کیا خوب کہا تھا:

اے ذوق کسی ہم دمِ دیرینہ کا ملنا

بہتر ہے ملاقاتِ مسیحا و خضر سے

گذشتہ دنوں ایک تعلیمی ادارے کی افتتاحی تقریب میں جامعہ پنجاب کے دورِ طالب علمی کا ایک ساتھی جو ہیلے کالج، پنجاب یونی ورسٹی میں پڑھا کرتا تھا اور ہمارا سربکف کارکن تھا، اچانک ملا۔ دونوں جانب خوشی اور حیرانی کہ کہاں وہ کڑیل جوانیاں اور کہاں آج کا یہ بڑھاپا ! چالیس سال بعد ملاقات! رابطے تک منقطع مگر غائبانہ طور پر وقتاً فوقتاً یادیں تازہ ہوتی رہیں۔ کوئی پرانا شناسا ملا تو اس سے پوچھا۔ اس کے پاس بھی طرفین کا پورا احوال نہ ہوتا تھا۔ ادھوری اور تشنہ معلومات! موصوف نے ملتے ہی کہا: آپ سے بچھڑے نصف صدی بیت گئی مگر یادیں تازہ اور معطّر ہیں۔ میں نے عرض کیا، فارسی تو آپ سمجھتے نہیں مگر یہ شعر تو سنا ہوگا:

ما و مجنوں ہم سبق بودیم در دیوانِ عشق

او بصحرا رفت و ما درکوچہ ہا رسوا شدیم

فرمانے لگے، ترجمہ کیجیے۔ میں نے کہا: ”بٹ صاحب چھوڑیں ترجمے کو۔ یہ بتائیے کہاں کھو گئے تھے؟“ یہی بات بجا طور پر انھوں نے بھی مجھ سے زیادہ زوردار لب ولہجے میں کہی۔ بہرحال اس عمر میں بوڑھوں کا جو کلچر ہوتا ہے، اس کے مطابق بال بچوں کا حال احوال پوچھا۔ دونوں جانب خیروبرکت تھی۔ پھر انھوں نے فرمایا: ”یا رعجیب بات ہے فلاں بھی اسلام آباد کے فلاں سیکٹر میں ہے اور فلاں بھی۔ فلاں بحریہ ٹا¶ن کے بنگلے میں ہے اور فلاں اور فلاں ڈیفنس سیکٹر فلاں میں ہیں۔ میں بھی قدرے معقول بستی میں رہ رہا ہوں۔ آپ منصورہ ہی میں مقیم ہیں؟“

”جی ہاں، اللہ کا شکر ہے کہ اس بستی کا مکین ہوں، جہاں سکون ہے؟ امن وامان ہے اور اللہ والوں کا ساتھ ہے، ظاہر ہے کہ درویش کو درویش ہی کی سنگت میں سکون ملتا ہے۔“ فرمانے لگے: ”لوپھر پہیلیاں شروع ہوگئیں۔“

یہ پیارا ساتھی جوایک کالج سے بطور پرنسپل ریٹائر ہوا ہے، سراپا اخلاص ہے۔ خوش حالی اللہ نے دی ہے اور اس کے اخلاص کی دلیل ہے کہ وہ درویش کو بھی خوش حال دیکھنے کا متمنی ہے۔ خوش حالی کے اپنے اپنے پیمانے ہیں۔ میں نے کہا: ”بھائی تم نے کسی بھی سٹیج پر فارسی نہیں پڑھی تھی۔ فارسی میں بہت زبردست حکایات ہیں جو عبرت وموعظت سے مالامال ہیں۔ تم نے ” شبِ تنور گذشت وشبِ سمور گذشت“ بھی کبھی سنایا نہیں۔ “فرمانے لگے: ”سنا دو، آپ سے بہت کچھ سنا تھا مگر یاد نہیں کہ کبھی یہ آپ نے سنایا ہو۔“

دراصل یہ حکایت اپنے اندر حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ان احادیث کا جوہر لیے ہوئے ہے جو آپ نے دنیا کی بے رغبتی وبے وقعتی اور آخرت کے دوام وبقا اور انعامات وعطا کی تشریح کے لیے صحابہؓ کے سامنے پیش فرمائیں۔ حکایت کے مطابق ایک فقیر بے نوا اپنی گودڑی اٹھائے لمبے سفر پر رواں دواں تھا۔ راستے میں شام پڑ گئی، سردیوں کا موسم تھا۔ اسے ایک بہت عظیم الشان عمارت نظر آئی۔ سوچا کہ وہاں شاید رات گزارنے کے لیے کوئی کونہ دستیاب ہوسکے۔ قریب پہنچا تو مسلّح دربانوں نے روک دیا۔ گذارش کی کہ بھئی راہ گزر مسافر ہوں، صرف ایک رات کی رات قیام کی درخواست ہے۔ سختی سے جواب ملا، جا¶ یہاں سے دور ہوجا¶، یہ بادشاہ سلامت کا محل ہے، کوئی سرائے اور مسافر خانہ نہیں۔

فقیر نے سادگی سے پوچھا: ”یہاں کون رہتا ہے؟“ رعونت کے ساتھ جواب دیا گیا: ”غبی آدمی! بادشاہ سلامت رہتے ہیں اور کون رہتا ہے“۔ ”اچھا ان سے پہلے کون رہتا تھا؟“ جواب ملا: ”بادشاہ سلامت کے والد ذی وقار جو اپنے دور کے تاجدار تھے“۔

فقیر نے بڑے ادب سے کہا: ”اچھا اچھا، اور ان ے قبل؟“ جواب ملا: ”بادشاہ سلامت کے دادا جان، شہنشاہِ زمان یہاں رونق افروز تھے........۔“

فقیرنے سادگی اور ذہانت کے ساتھ کہا: ”تو پھر مسافر خانہ کیا ہوتا ہے؟ مسافر خانہ تو اسی کو کہتے ہیں جس میں آج ایک مسافر مقیم ہے، کل کو دوسرا اور پرسوں تیسرا قیام پذیر ہوگا“۔ یہ کہہ کر وہ خاموشی سے واپس مڑا اور محل کے قریب ایک کھلے میدان میں ایک چھپر کی طرف بڑھا۔ بادشاہ سلامت کے دربار میں حاضری اور اپنے مسائل کے حل کی خاطر جو رعایا دن کے وقت یہاں آتی تھی، ان کو انتظار کی لمبی گھڑیاں یہاں گزارنی ہوتی تھیں۔ ان کے کھانے پینے کے لیے بطور کاروبار کچھ لوگوں نے اس کھلے میدان میں ایک تنور لگا رکھا تھا جو دن کو خاصا آباد ہوتا مگر سرِ شام ہی ہجوم چھٹ جاتا اور تنورچی اپنا تنور ایک گھڑے سے ڈھانپ کر اپنی دن بھر کی یافت کے ساتھ گھروں کو چلے جاتے تھے۔ تنور پر چند لکڑیوں کے سہارے کھڑا ایک چھپر تھا مگر کوئی دیوار نہ تھی۔ تنور میں آگ کے انگارے ابھی راکھ میں موجود تھے۔ فقیر نے رات اسی تنور کے کنارے بسیرا کرنے کی ٹھان لی۔ گودڑی نیچے بچھائی، چادر اوپر اوڑھی اور سو گیا۔ رات بھر ایک آنکھ مچولی جاری رہی۔ تنور کی تمازت نیند کی آغوش میں لے جاتی اور ٹھنڈی ہوا کے جھونکے بیدار کردیتے۔ یوں سوتے جاگتے رات گزر گئی۔

اپنے معمول کے مطابق طلوع فجر سے قبل فقیر اٹھ بیٹھا، قریب پڑے پانی کے ایک مٹکے سے ٹھنڈے پانی کے ساتھ وضو کیا اور اللہ کو یاد کرنے کے بعد گودڑی سمیٹی۔ پھر محل کی طرف منہ کرکے بلند آواز سے نعرہ لگایا: ”شبِ تنور گذشت وشبِ سمور گذشت“ یعنی تنور والے کی رات بھی بیت گئی اور مخملیں بستروں والوں کی رات بھی بیت گئی۔ بادشاہ سلامت نے اس ہوکے عالم میں یہ غیرمانوس سا نعرہ مستانہ سنا تو انھیں تعجب ہوا کہ یہ کون سرپھرا ہے جو قصرشاہی کے اتنا قریب ہو کر نعرہ بلند کررہا ہے۔ دربانوں نے فوراً درویش خدا مست کو حاضر کیا۔ بادشاہ سلامت جھروکے میں تشریف لائے اور اس فقیر کو حیرت سے دیکھا۔ پھر پوچھا کہ اس نے یہ حرکت کیوں کی۔ عرض کیا بس کسی غیر مرئی قوت نے یہ الفاظ کہلائے۔ پوچھا: ”تمھاری رات کھلے میدان میں کیسے گزری؟“ جواب دیا: ”جناب عالی مقام! رات کا کچھ حصہ تو اس طرح گزرا جس طرح آپ کا گزرا جب کہ کچھ حصہ آپ سے بہتر حالت میں بسر ہوا۔“

بادشاہ نے تعجب سے کہا: ”وہ کیسے؟“ جواب دیا: ”حضور جب آنکھ لگ جاتی تھی تو آپ کی طرح نیند کا لطف اٹھاتا تھا۔ وہ لمحات آپ کی طرح گزارے۔ جب سردی سے آنکھ کھل جاتی تھی تو یادِ خدا میں لگ جاتا تھا، وہ حصہ آپ سے بہتر گزرا۔“ یہ کہہ کر فقیر نے اپنی راہ لی۔

سچی بات یہ ہے کہ زندگی کا حاصل وہی لمحات ہیں جو یاد الٰہی میں صرف ہوگئے۔ باقی تو برف ہے جو خود بخود پگھل رہی ہے۔ یہ زندگی بیت ہی جائے گی، محلات وقصور میں بیتے یا گودڑی وکٹیا میں! حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ ہے: ”تم میں سے عقل مند وہ ہے جو نفسِ امّارہ کو حدود کا پابند بنالے اور موت کے بعد والی (دائمی) زندگی کے لیے کچھ کمالے اور تم میں سے بدنصیب وبے بس وہ ہوگا جس نے یہ مہلتِ عمل خواہشاتِ نفس کی اطاعت میں کھپا دی اور محض تمنا¶ں پر تکیہ کیے رہا۔“ پس تنور وسمور کے چکر میں پڑنے اور رشک وحسد میں تڑپنے کی بجائے دیکھنا یہ چاہیے کہ منزل کیا ہے اور زادِ سفر کیا!     ٭

 

مزید : کالم


loading...