مولانا کا جلسہ اور بادام زری کا حوصلہ

مولانا کا جلسہ اور بادام زری کا حوصلہ
مولانا کا جلسہ اور بادام زری کا حوصلہ

  


میاں نواز شریف کا مانسہرے والا جلسہ ، میرے گرائیں عمران خان کے سوات والے جلسے سے بڑا تھا، مولانا فضل الرحمن کا مینارِ پاکستان والا جلسہ عمران خان کے مینارِ پاکستان والے جلسے کے آس پاس تھا۔ مولانا کے کارکنوں نے بھی مثالی نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا، مولانا کی تقریر بھی زبردست تھی۔ عمران خان اور مولانا کے جلسے والے روز مینارِ پاکستان کے اردگرد موبائل سروس بند کر دی گئی تھی، نجانے کیوں، کیا رحمن ملک ابھی تک وزیر داخلہ ہیں؟....کہا جاتا ہے کہ موبائل فون کی بندش کی وجہ سے جلسے میں شریک ہونے والے کچھ قافلے راستے میں تھے جو راستے میں ہی رہ گئے، رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں نہیں تو کم از کم سینکڑوں لوگ جلسے میں شریک نہ ہو سکے، جلسے میں مولانا فضل الرحمن کے کارکنوں نے ان کے سیاسی کردار اور خدمات کے حوالے سے نظمیں بھی سنائیں، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مولانا نے بدلتے ہوئے سیاسی حالات میں اپنے کارکنوں کو ”ہلکی پھلکی“ موسیقی کی اجازت دے دی ہے۔ ویسے بھی مولانا فضل الرحمن کو اپنے آبائی حلقے میں ایک بار پھر اداکارہ مسرت شاہین کا سامنا ہے۔ اس حلقے سے ہمارے دوست فیصل خان کنڈی سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی بھی امیدوار ہیں۔ انہوں نے حلقے میں کچھ ایسا بندوبست کر دیا ہے کہ ”حقیقی مقابلہ“ تو مولانا فضل الرحمن اور مسرت شاہین کے درمیان نظر آئے گا، مگر فتح کا سہرا فیصل خان کنڈی اپنے سر پر سجا لیں گے۔

گزشتہ روز ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے لئے ڈیرہ اسماعیل خان گیا، تو وہاں فیصل خان کنڈی کی پوزیشن خاصی بہتر نظر آئی۔ ان کے دستِ راست اور پی پی پی کے دیرینہ کارکن سعید اختر بھرپور انداز میں ان کی انتخابی مہم چلاتے نظر آئے، اس سے اندازہ ہوتا تھا کہ مولانا فضل الرحمن کا سیاسی مقابلہ ایک بار پھر گڑ بڑ ہے اور فیصل خان کنڈی کی پوزیشن بہتر ہے۔ پنجاب میں مولانا فضل الرحمن نے پہلی بار اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنی طاقت میاں نواز شریف کو دکھائی ہے یا میرے گرائیں عمران خان کو، یہ نواز شریف جانے یا عمران خان، مگر مولانا فضل الرحمن میرے پڑوسی بھی ہیں۔ تحریک ختم نبوت انٹرنیشنل کانفرنس کے رہنما حضرت خواجہ خان محمد خانقاہ سراجیہ شریف اور مولانا مفتی محمود مرحوم کے آپس میں بہت قریبی تعلقات تھے، مولانا مفتی محمود بھی مولانا خان محمد مرحوم کے پاس آتے جاتے رہتے تھے۔

مولانا فضل الرحمن، مولانا خان محمد کا بہت احترام کرتے تھے اور ڈیرہ سے پنجاب اور پنجاب سے ڈیرہ جاتے ہوئے مولانا خان محمد کے پاس ضرور جاتے تھے اور ابھی تک خانقاہ سراجیہ والوں سے اپنے تعلقات نبھاتے چلے آ رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ میری ایک یادگار ملاقات بھی ہے۔ یہ دن مولانا کی سیاست کے ”اُٹھان“ کے تھے۔ ان ہی دنوں کندیاں کے دوستوں نے ”کندیاں پریس کلب“ کے قیام کا اعلان کر دیا.... جگہ کا مسئلہ برادر سلیم شاہد نے یوں حل کر دیا کہ ہوٹل کے اوپر کمرے کو پریس کلب کے لئے وقف کر دیا.... پریس کلب کی افتتاحی تقریب کے لئے دس میں سے نو ممبران میرے دوست ڈاکٹر شیر افگن مرحوم کے نام پر متفق تھے، مگر ایک ممبر عثمان صاحب مولانا فضل الرحمن کے طرف دار بن گئے۔ انہیں سمجھایا کہ بھئی دس میں سے نو ممبر ڈاکٹر شیر افگن کے حق میں ہیں، جمہوریت کا تقاضا ہے کہ آپ ڈاکٹر شیر افگن کے نام پر اتفاق کر لیں، عثمان صاحب نے ہماری جمہوریت والی رائے کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ:

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں

بندوں کو گنا کرتے ہیں تو لا نہیں کرتے

اس کے بعد دو راستے تھے، ایک یہ کہ ”پریس کلب“ کے دو ٹکڑے کر دیئے جائیں یا پھر مولانا فضل الرحمن کے ہاتھوں افتتاح کرا دیا جائے، سو مولانا فضل الرحمن کے ہاتھوں افتتاح کا فیصلہ کرتے ہوئے، عثمان صاحب کو مولانا سے رابطے کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔ عثمان صاحب نے مولانا خان محمد مرحوم کی وساطت سے مولانا سے وقت طے کر لیا.... ادھر کندیاں سے تعلق رکھنے والے جمعیت العلمائے اسلام کے کارکنوںکو جب مولانا کی کندیاں آنے کی خبر ملی، تو انہوں نے بھی مولانا سے ایک عدد جلسے سے خطاب کرنے کی درخواست کر دی.... مولانا ٹھیک 12بجے کندیاں پہنچ گئے، ایک کمرے پر مشتمل ”پریس کلب“ دوسرے فلور پر تھا۔ مولانا فضل الرحمن نے سیڑھیاں دیکھیں اور کہا:بھئی آپ لوگوں نے یہ تو نہیں بتایا تھا کہ ”پل صراط“ سے بھی گزرنا پڑے گا.... پھر ایک زبردست قہقہہ لگاتے ہوئے ہنستے ہنستاتے اوپر چڑھ گئے۔ کرسی پر بیٹھتے ہی انہوں نے تمام صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا.... پریس کلب کا افتتاح کرانے کے لئے آپ لوگوں کو کسی ایسے بندے کا انتخاب کرنا چاہئے تھا جس کا سائز سیڑھیوں سے کم ہوتا اور پھر مسکراتے ہوئے کہا: ”چڑھ تو مَیں آیا ہوں، مگر اب نیچے کیسے اُتروں گا“۔

مولانا نے اس طرح کے دو چار جملے اور کسے پھر تقریب حلف برداری کا آغاز ہوا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں اہل قلم کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے ان کی خدمات کی تعریف کی اور ساتھ ہی اس خواہش کا اظہار کیا کہ آپ لوگ علاقے کے جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے خلاف آواز اٹھائیں، کیونکہ ان لوگوں کی موجودگی میں اہل میانوالی ترقی نہیں کر سکے اور ہم لوگ اگر پاکستان کی ترقی چاہتے ہیں، تو پھر ہمیں اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔ اسلامی نظام میں جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس تقریب کے بعد مولانا نے جلسے سے خطاب کرنا تھا، ہم بھی اُن کے ساتھ چل پڑے۔ جلسے میں زیادہ سے زیادہ دو درجن کے قریب لوگ تھے، خود ہمیں بھی حیرانی ہوئی، جلسے کی انتظامیہ نے مولانا فضل الرحمن کو مائیک پر کھڑا کر دیا۔

  مولانا بھی حیرانی کے عالم میں کبھی شرکاءکی تعداد کی طرف دیکھتے اور کبھی ہماری طرف، مگر انہوں نے پانچ سے دس منٹ تک خطاب کیا.... مگر جونہی وہ سٹیج سے نیچے اُترے دیکھتے ہی دیکھتے سینکڑوں لوگ جمع ہو گئے.... مولانا فضل الرحمن ایک بار پھر پریشان نظر آئے، کہ یہ لوگ اچانک کہاں سے آ گئے ہیں، اُن کے جانے کے بعد پتہ چلا.... کہ مقامی رہنماﺅں نے مولانا کے خطاب کا وقت چار بجے رکھا تھا، مگر ہم نے جب انہیں دو بجے کے قریب فارغ کر دیا تو مقامی رہنما بجائے اس کے کہ چار بجے کا انتظار کرتے، انہیں دو بجے ہی سٹیج پر لے گئے اور انہوں نے بھی تقریر شروع کر دی۔ اب وہ لوگ جو اِدھر اُدھر دکانوں اور ہوٹلوں میں چار بجے کا انتظار کر رہے تھے، اُن کے کانوں میں جب مولانا فضل الرحمن کی آواز پڑی تو وہ بھاگے بھاگے آئے ، مگر مولانا فضل الرحمن تقریر ختم کر کے واپس جا رہے تھے۔

  مولانا فضل الرحمن نے گزشتہ روز مینارِ پاکستان کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جن خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اُن کی تقریر سن کر مجھے پریس کلب کندیاں والے مولانا فضل الرحمن یاد آ گئے، وہی انداز، وہی دلائل، وہی سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے خلاف باغیانہ خیالات۔ مولانا فضل الرحمن کا یہ روپ یقینی طور پر اہل لاہور کو پسند آیا ہو گا، کیونکہ مولانا کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ وہ ایک ”مولوی“ ہیں اور مولوی جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے خلاف نہیں چل سکتا۔ مولانا فضل الرحمن اگر واقعی ملک کے غریبوں، کسانوں، ہاریوں، مزارعوںاور مسکینوں کے بارے میں یہی خیالات رکھتے ہیں، جن کا اظہار انہوں نے مینارِ پاکستان کے جلسے کے دوران کیا ہے، تو پھر یہ تو پورے پاکستان کے مظلوم طبقات کی ترجمان آواز ہے اور مولانا فضل الرحمن کو اپنی آواز مزید بلند کرنی چاہئے .... اب آخر میں، مولانا فضل الرحمن، نواز شریف، عمران اور پی پی پی کی لیڈر شپ سے ایک مطالبہ ہے کہ آپ سب لوگ ملک میں تبدیلی کی بات کرتے ہیں۔ آپ سب لوگ نیا پاکستان بنانے کی بات کرتے ہیں۔ باجوڑ ایجنسی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ”بادام زری “ نے علاقے کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار عام انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے، بدلتی ہوئی باجوڑ ایجنسی اور نکھرتے ہوئے پاکستان کے لئے کیا آپ سبھی لیڈر اس خاتون کی کامیابی کے لئے ”بادام زری “ کے نام پر اکٹھے ہو سکتے ہیں، کیا آپ سب مل کر باجوڑ ایجنسی کی ”بادام زری “ کے لئے باجوڑ ایجنسی میں ایک جلسہ کر سکتے ہیں۔کیا آپ بادام زری کا حوصلہ بڑھانے کے لئے اپنی سیاسی قوت کو استعمال میں لا سکتے ہیں؟       ٭

 

مزید : کالم


loading...