جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے؟

جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے؟
جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے؟

  


 جمہوریت ، جو اعداد و شمار کا کھیل ہے ، میں علم ِ حساب یقینا اہمیت رکھتا ہے، لیکن ایک حکومت ،جس کی نمائندگی کم ہو، کو سیاسی استحکام کے لئے اچھانظام ِ حکومت یقینی بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس ضمن میں ڈاکٹر من موہن سنگھ کو درکار تجربہ حاصل ہے، کیونکہ وہ 1991ءسے لے کر 1996 تک نرسیماراﺅ کی حکومت میں وزیر ِ مالیات رہ چکے ہیں۔ نرسیما راﺅ کے پاس زیادہ اکثریت نہیں تھی، لیکن وہ اپنے پانچ سال پورے کر گئے۔ اس دوران صرف ایک مرتبہ اُن کے قدم ڈگمگاتے ہوئے محسوس ہوئے، جب چھ دسمبر 1992 کو بابری مسجد کو ہندو انتہا پسندوںنے منہدم کیا، تو وزیر ِ اعظم نے اس سے اغماض کی پالیسی اپنائے رکھی۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ نیند کی حالت میں چل رہے ہیں۔ اس سے کانگرس کے اندر ہلکی سی بغاوت کی فضابھی بنتی دکھائی دی، تاہم کانگر س نرسیماراﺅ کو اتنا زیادہ نہیں سمجھتی تھی، جتنا وہ اس کو سمجھتے تھے۔اُنہوںنے کانگرس سے اُسی زبان میں بات کی، جسے وہ سمجھتے تھے طاقت کی زبان،چنانچہ نام نہاد باغی ، جو پہلے بابری مسجد کے پتھروں پر کھڑے ہوکر احتجاج کررہے تھے، خوشی خوشی اپنی وزارتوں میں جاتے دیکھے گئے۔

یہ اصول تبدیل نہیںہوا ۔ بی جے پی کرناٹکا میںاپنی اکثریت رکھتی ہے لیکن بدانتظامی کی وجہ سے اسے بنگلور میں مسائل کا سامنا ہے، چنانچہ اگلے انتخابات میں اسے اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔ موجود ”یو پی اے“(یونائیٹڈ پراگریسو الائنس )میں کوئی تبدیلی نہیںہوئی ، حالانکہ ایک سال قبل ممتا بنرجی نے، پندرہ دن پہلے کارونندی اور ایک ہفتہ پہلے ملائم سنگھ یادیو نے اس میں چھید کرنے کی کوشش کی۔ تاہم بدعنوانی کے پے در پے منظر ِ عام پر آنے والے سکینڈلوںنے اس جہاز کے پیندے میں اتنے سوراخ کر دیئے ہیں کہ اب اس کا تیرنا دشوار نظر آرہا ہے۔ ان اسکینڈلوں کا آغاز ”کامن ویلتھ بلز“ سے ہوا۔ پھر ایک ٹیلی کام کمپنی کے حوالے سے منظر ِ عام پر آنے والے سکینڈل کے حجم نے قوم کو ششدر کر دیا۔ اسی طرح کچھ زمینوں اور ہیلی کاپٹروں کے سودوں میں ہونے والی بدعنوانی بھی تاحال عوام کے ذہن سے فراموش نہیںہوئی۔

بظاہر تو کارونندی سری لنکن خانہ جنگی کے دوران ہونے والے جنگی جرائم پر احتجاج کرتے ہوئے کانگرس سے دور ہو گئے، لیکن اصل وجہ یہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ اب کانگرس سے وابستگی انتخابی معرکے میں ایک بوجھ ثابت ہو گی،چنانچہ انہوںنے کسی نہ کسی بہانے سے اسے اتار ہی پھینکنا تھا۔ ملائم سنگھ یادیونے بھی انہی ”امکانات “ کی بنا پر کانگرس سے دوری اختیار کی۔یہ دونوں سیاست دان پرانے کھلاڑی ہیں اور ان کی سیاست کا دائرہ مفاد اور لین دین کے محور سے دور نہیں ہوتا۔ فی الحال ان کے مفاد، یا لین دین کی نوعیت کا اندازہ لگانا دشوار ہے۔

ایسے افراد بہتر امکانات اور مواقع ہاتھ آنے کی امید میں شادی کے بارے میں فیصلہ کافی دیر تک التوا میں ڈال سکتے ہیں، اور اسی طرح طلاق کی صورت میں بھاری نان و نفقہ کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ جب یہ خیال کیا جاتا ہے کہ حتمی بات ہو چکی ہے، تو بھی ایسے افراد کوئی نہ کوئی امکان رہنے دیتے ہیں تاکہ مزید لین دین کے دروازے بند نہ سمجھے جائیں۔ اس طرح ایسے افراد کسی بھی معاملے کو سادہ سے انداز میں حل کرنے کے روادر نہیں ہوتے ہیں اور یہ تو پھر سیاست ہے۔ جب سابق وزیر مواصلات اے راجہ نے2G کیس، جس میں وہ مرکزی ملزم تھے، پارلیمانی کمیٹی کے سامنے ثبوت دینے کا وعدہ کیا تو اُس وقت کارونندی کے ارادے بالکل واضح تھے۔ اُس وقت کانگرس نے راجہ کو زبان بند رکھنے کی ہدایت کی، کیونکہ خدشہ تھا کہ وہ براہِ راست وزیر ِ اعظم اوروزیر ِ مالی امور چدم برم کا نام لے گا کہ وہ بھی ان فیصلوں میں برابر کے شریک تھے۔ اس طرح اخبارات کو ناپسندیدہ شہ سرخیاں لگانے کا موقع مل جائے گا، چنانچہ راجہ کو کارونندی کی طرف سے کلیئرنس مل گئی۔

کانگرس کی اپنے اتحادیوںکے لئے بنائی گئی پالیسی سرد مہری پر مبنی ہے۔ اس کا رویہ اُن کے ساتھ اس طرح کا ہے کہ چونکہ وہ اتحادی بی جے پی کے ساتھ نہیں مل سکتے ، اس لئے بادل ِ ناخواستہ اس کا ہاتھ تھام رہے ہیں، چنانچہ وہ ان سے کوئی بھی شرط منوا سکتی ہے، تاہم ایسا کرتے ہوئے کانگرس اپنے حلیفوں کے لئے دیگر آپشنز پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ یہ وہ حالات ہوتے ہیں جب مرد حضرات ایک سے زائد شادیاں کرنے میں ہی ”عافیت “ سمجھتے ہیں، لیکن یہ نسخہ ہر قسم کے حالات میں کام نہیں دیتا ۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے، جب ”تعلقات “ میں رخنے پڑنے کی وجوہات ناگزیر ہوں، اور وقت کے تمام دھارے آپ کے خلاف بہہ رہے ہوں، پھر ہاتھ پاﺅں مارتا ہوا انسان مزید گہرے پانی میں ہی جاتا ہے۔ ڈاکٹر من موہن سنگھ ، جو لو ک سبھا کے موڈ کو اچھی طرح جاننے والے سیاست دان ہیں، کا کہنا ٹھیک ہے کہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی، تاہم اب اس مدت کے آخری لمحات کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔ مسٹر یادیو نے بھی یہی بات کی ہے” اب جبکہ حکومت کی مدت آٹھ یا نو ماہ رہ گئی ہے ، اس سے نکل کر اسے گرانے کی کیا ضرورت ہے“؟ وہ ٹھیک کہتے ہیں،اگر ” یو پی اے“ لوک سبھا میں شکست سے دوچار ہوتا ہے تو پھر انتخابات دسمبر میںہوںگے، لیکن اگر اس بے جان حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے کا موقع ملتا ہے تو پھر اگلے سال مارچ میںہوں گے، چنانچہ چند ماہ آگے یا پیچھے ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اس کے علاوہ ”یوپی اے “ کی حمایت سے ہاتھ روکنے سے غیر ضروری تنازعات شروع ہو جائیںگے۔ سب جانتے ہیںکہ آئندہ انتخابات بدعنوانی، مہنگائی اور ناقص نظم و نسق کے ایشوز پر ہوں گے، اگر کانگرس کی حکومت کو وقت سے پہلے ختم کر دیا جاتا ہے تو یہ تو اس پر ایک مہربانی کے مترادف ہو گا۔ کانگرس کو فی الحال ایوان میں نمبروںکی تعداد کی فکر نہیںہے ، لیکن باعث ِ تشویش یہ بات ہے کہ اس کی ٹہنیوں سے پرندے اُڑنا شروع ہو گئے ہیں۔ کانگرس اس وقت تری نامول، سماج ودھی پارٹی اور”ڈی ایم کے“ کی حمایت کھونے کی روادار نہیںہو سکتی ،اگرچہ ان پارٹیوںسے اس کی نظریاتی وابستگی نہ ہونے کے برابر ہے۔

ان حالا ت ، جبکہ ممتا، یادیو اور کارنندی جا چکے ہوں، کانگرس کے لئے بی جے پی اتنی بڑی پریشانی کا باعث نہیں ہے، جتنی حلیفوں کا صفوں سے نکل کر مخالفین کے ساتھ شامل ہونا۔ فی الحال کانگرس کے ترجمان نے جوابی حملوں اور تنقید کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے لیکن یہ حملے ان پارٹیوںکے خلاف موثر ثابت نہیںہوںگے ،جنہوںنے بدعنوانی کے الزامات کے باوجودآخری دم تک کانگرس کا ساتھ دیا۔ اس وقت کانگرس کے لئے صورت ِ حال بہت مختلف ہے، کیونکہ جب اس نے 2009ءمیں اقتدار سنبھالا تو مختلف سیاسی جماعتیں حکومت میں زیادہ حصے کا مطالبہ کئے بغیر اس کی حمایت کے لئے تیار تھیں، لیکن اب ہوا کا رخ بدل چکا ہے۔ اس وقت دہلی کے سیاسی ماحول کی تفہیم زیادہ دشوار نہیںہے۔ کانگرس کو یہ فکر ہے کہ وہ اگلے انتخابات تک وقت کیسے گزارے ؟ جبکہ اس کے حلیف اس پریشانی میں مبتلا ہیںکہ انتخابات کے بعد کیا ہوگا ؟ اس پریشانی کا ادراک کرنا زیادہ دشوار نہیں، اس کے لئے بہت بڑا ریاضی دان ہونے کی ضرورت نہیںہے۔ ٭

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں ری پروڈکشن کی اجازت نہیں ہے۔

مزید : کالم


loading...