پاکستانی جرنیلوں کا ضمیر بیدار کرنے کی کوشش(3)

پاکستانی جرنیلوں کا ضمیر بیدار کرنے کی کوشش(3)
پاکستانی جرنیلوں کا ضمیر بیدار کرنے کی کوشش(3)

  


فاضل کالم نگار نے ڈیوڈ فِنکل اور اس کی کتاب ”گڈ سولجرز“ کا حوالہ دیا ہے۔ امریکہ اور مغربی دُنیا میں کہ جہاں شرحِ خواندگی90تا100فیصد ہے، لوگوں کو خوب معلوم ہے کہ فِنکل کون ہے اور اس کی کتاب کی ”گڈ سولجرز“ کی کیا اہمیت ہے، لیکن پاکستانی قارئین کی غالب اکثریت شرحِ خواندگی کے اُس شرف سے عاری ہے۔ مناسب تھا اگر صاحب ِ کتاب اور کتاب کے بارے میں بھی چند تعارفی سطور لکھ دی جاتیں تاکہ سیاق و سباق کا حق ادا ہو جاتا اور مجھے یہ تیسری قسط نہ لکھنی پڑتی۔

یہ ڈیوڈ فِنکل (David Fickcl) امریکی صحافی ہے اور جیسا کہ قریشی صاحب نے لکھا ہے کہ ”واشنگٹن پوسٹ“ سے وابستہ ہے۔ لیکن اس کی کتاب (The Good Soldiers) میں کیا ہے، اس کے بارے میں بہت کم قارئین آگاہ ہیں۔

امریکی صدر بش نے جب2006ءمیں عراق پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا تو صحافیوں کی امریکی تنظیم نے مطالبہ کیا کہ ان کو بھی خطہ ¿ جنگ میں لے جایا جائے تاکہ وہ لڑائی کی زندہ رپورٹنگ کر سکیں۔ اس کا حل صدر کے مشیروں نے یہ نکالا کہ ایک نیا ”ضابطہ ¿ آزادی ¿ صحافت“ وضع کیا گیا جس کا نامEmbeddedism صحافت رکھا گیا ہے۔ اس ضابطے میں کہا گیا کہ جو صحافی بھی وار زون میں جائے گا، وہ جس یونٹ کے ساتھ ہو گا، اس کے سپاہیوں کی یونیفارم پہنے گا، جو کچھ اسے دکھایا جائے گا، صرف وہی دیکھ سکے گا، جہاں اسے لے جایا جائے گا، صرف وہاں ہی جا سکے گا، کہیں اور نہیں۔ وہ جو فلم شوٹ کرے گا اور جو تحریر اپنے اخبار کو بھیجے گا، اس کی پیشگی کلیئرنس متعلقہ فوجی افسر سے لی جائے گی۔ اس کو ایم بیڈڈ(Embedded) جرنلسٹ کہا جائے گا۔ .... آپ حیران ہوں گے کہ امریکی میڈیا کی جو تقریر و تحریر کی آزادیوں کا سب سے بڑا ترجمان اور پاسبان سمجھا جاتا ہے، اس نے صدر امریکہ کی اِن صحافتی پابندیوں کو فوری طور پر صدقِ دل سے قبول کیا اور سینکڑوں مرد اور خواتین صحافی افغانستان اور عراق کی جنگوں میں جوق در جوق امریکی افواج کے ہمراہ چلے گئے۔ افغانستان میں تو آج بھی ان کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔

بہرکیف ڈیوڈ فِنکل (Finkel) نے وردی زیب ِ تن کی اور عراق چلا گیا۔ واپسی پر اس نے ایک کتاب لکھی جس کا نام ” دی گڈ سولجرز“ رکھا۔ اس میں مصنف نے عراقی جنگ کے انسانی پہلوﺅں پر زیادہ توجہ دی۔ جنگ کے مناظر کی ایسی بھرپور اور پُر تاثیر تصویر کشی کی ۔ کتاب کی لاکھوں کاپیاں بک گئیں۔ مصنف کو2006ءکا پلٹزر انعام دیا گیا جو امریکہ میں ایک بڑا مقتدر صحافیانہ ایوارڈ سمجھا جاتا ہے۔ اس کتاب میں فِنکل نے صرف عراقی آبادی ہی کی کوریج نہیں کی ، بلکہ اُن امریکی خاندانوں کی حالت ِ زار کا نقشہ بھی خوب کھینچا ہے جن کے عزیز و اقارب، عراقی جنگ میں کام آئے۔ اُن امریکی بیویوں، ماﺅں، بہنوں اور بیٹیوں کے دِلوں کی کیفیت مختلف ابواب میں بیان کی ہے جن کے شوہر، بیٹے، بھائی اور باپ اس جنگ میں مارے گئے۔ سعدی نے ٹھیک کہا تھا کہ:“ بنی آدم اعضائے یکدیگر ند....“ امریکی ہو یا عراقی یا کوئی اور، سب فوجیوں کے جذبات و احساسات کی کیمسٹری ایک ہوتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ فِنکل کی اس کتاب نے امریکی عوام کو اپنے اور یورپی سولجرز کے مارے جانے اور زخمی ہونے کے آنکھوں دیکھے واقعات نے شدید متاثر کیا۔ فِنکل کو بغداد کے نواح میں ایک انفنٹری بٹالین(2/16رینجرز) کے ساتھ بھیجا گیا تھا اور وہ وہاں8ماہ تک اُن کے ساتھ Attachedرہا۔

اشرف قریشی صاحب نے کالم کی پہلی قسط میں میننگ کی زبان سے ایک ”امریکی قانون“ کا حوالہ بھی دیا ہے جس کا نام ”Sigact“ بتایا ہے۔ وضاحت کی گئی ہے کہ ”Sigact وہ قانون ہے جس کے تحت آنے والے واقعات کی رپورٹنگ کی جاتی ہے“۔.... آگے چل کر میننگ پھر کہتا ہے:” اپنی خالہ کے گھر پر مَیں اس بات پر بھی بحث کرتا رہا کہ اپنی فوجی معلومات کو فوجی طریقہ ¿ کار(Sigact) تک محدود رکھوں یا اسے پریس تک پہنچاﺅں“۔

دونوں مقامات پرSigact کا حوالہ دیتے ہوئے قریشی صاحب کو انتباہ ہوا ہے شائد یہ کوئی امریکی ”قانون“ ہے۔ چونکہ اس لفظ میں خودAct کا حصہ موجود ہے، اس لئے فاضل کالم نگار نے یہ سمجھا ہو گا کہ یہ بھی کوئی فوجی ایکٹ یا ضابطہ ¿ یا قانون ہے، حالانکہ ان کا یہ خیال غلط ہے۔

یہ Sigact کوئی ایکٹ نہیں بلکہ ایک آرگنائزیشن ہے.... یہ ایک ایسی بین الاقوامی تنظیم ہے جو کمپیوٹر سائنس میں ہائی کوالٹی ریسرچ میں مصروف رہتی ہے اور جب کوئی ایسا نیا پہلو دریافت کر لیتی ہے کہ جس سے کمپیوٹر کی دُنیا میں صارفین کے لئے کوئی نئی آسانی پیدا ہو جائے تو وہ اسے فوراً ساری دُنیا میں متعارف کروا دیتی ہے۔اس تحقیق کا زیادہ تر تعلق علم ریاضیات کے ساتھ ہوتا ہے کہ یہی علم، کمپیوٹر سائنس کی اساس ہے۔

ایک اندیشہ ¿ دُور دراز میرے ذہن میں یہ بھی آتا ہے کہ شائد فاضل کالم نگار نے پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی طرف سے بلوچستان وغیرہ میں گمشدہ افراد کے کیس کو نگاہ میں رکھتے ہوئے یہ تبصرہ کیا کہ سپاہی میننگ کی سٹوری کو پڑھ کر اور اس سپاہی کل انجام جان کر، پاکستانی جرنیلوں کا ضمیر جاگ اُٹھے گا.... لیکن اگر ایسا کوئی خیال قریشی صاحب کے دل میں آیا بھی ہے تو یہ بہت دُور کی کوڑی معلوم ہوتا ہے۔ قریشی صاحب یہ پوائنٹ سکور کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے کہ بریڈلے میننگ کا یہ کورٹ مارشل کسی بھی زاویئے اور کسی بھی پہلو سے کسی پاکستانی جرنیل کی ”بیداری ¿ ضمیر“ کا سبب بن سکتا ہے۔

راقم السطور ایک عرصے سے یہ استدلال کرتا رہا ہے کہ پاکستانی صحافت میں عسکری امور و معاملات کی تفہیم کا (اُردو زبان میں بطورِ خاص) زبردست قحط ہے۔ ہمارے میڈیا میں سیاسیات کا موضوع کراہت انگیز حد تکOver-Saturated اور متفق ہو چکا ہے۔ قاری کب تک ایک ہی موضوع کے گرد گردش کرتا رہے۔ بقول ِ غالب قاری کوئی پیالہ و ساغر تو نہیں کہ گردش ِ مدام سے بیزار نہ ہوا۔

اشرف قریشی صاحب ایک تجربہ کار صحافی ہیں اور آج کل خدا نے انہیں اس جگہ مقیم کیا ہوا ہے جو جدید ٹیکنالوجی کا وطن ِ مالوف بن چکا ہے۔ سویلین ٹیکنالوجی تو جاپان اور جرمنی کے پاس بھی ہے لیکن نہ تو وہ سپر پاورز ہیں اور نہ ہی ”منتظر سپر پاور ہیں“ جیسے کہ چین ہے۔ مسلمان وار ٹیکنالوجی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ اس پس ماندگی کا موازنہ نیو یارک میں بیٹھ کر جس طرح قریشی صاحب امریکی ” پیش ماندگی“کے تناظر میں آ سکتے ہیں۔ اس کے بارے میں دو رائیں نہیں ہو سکتیں۔ مَیں نے اپنے بہت سے پڑھے لکھے دوستوں کو قریشی صاحب کے دونوں کالم دکھائے اور پڑھوائے اور پوچھا: ” کیا اس سٹوری کا کوئی سر پیر آپ کے ہاتھ آیا؟.... کیا کوئی پاکستانی جرنیل اس سٹوری سے ضمیر کے کٹہرے میں کھڑا نظر آیا؟.... کیا اُردو زبان کا کوئی پڑھا لکھا قاری” گفتہ ¿ میننگ “ سے عبرت آموز ہوا؟.... یقین جانیئے وہ تمام حضرات ان سوالوں کو سن کر زبان سے تو خاموش رہے البتہ سروں کو دائیں سے بائیں اور بائیں سے جائیں گھماتے رہے۔ اور تاجیر گھماتے رہے۔

اگر اُردو زبان میں کسی پاکستانی صحافی نے امریکہ جیسے ماڈرن دیارِ غیر میں بیٹھ کر اپنی قوم کو کچھ دینا ہے تو پہلے اپنے ”تعصبات“ کو خیرباد کہنا پڑے گا۔ دل کشادہ کرنا پڑے گا۔ پاکستان کا کوئی سپاہی یا جرنیل اگر کوئی ناپسندیدہ حرکت کرتا ہے تو اس کو سمجھانے کا طریقہ اس کے ضمیر پر حملہ کر کے وضع نہیں کیا جا سکتا۔ امریکی جرنیلوں ، سیاست دانوں اور صحافیوں نے اپنے ملک اور اپنی قوم کی اُن زیادتیوں اور دراز دستیوں کو جس طرح ارادتاً نظر انداز کر کے مشرقِ وسطیٰ کا نیا جغرافیہ تخلیق کیا ہے۔ اس کے ا جزائے ترکیبی پر بھی نگاہ ڈالئے اور پھر فیصلہ کیجئے کہ ہم پاکستانیوں کا لائحہ عمل کیا ہونا چاہئے۔(ختم شد)     ٭

مزید : کالم


loading...