گردش ِمرثیہ

گردش ِمرثیہ
گردش ِمرثیہ

  


عبدالحمید عدم کے ” گردش ِ جام“ اور محشر بدایوانی کے ” گردش ِ کوزہ“ کے بعد ” گردش “ کے لفظ سے شروع ہونے والی کتاب ” گردش ِ مرثیہ“ صابر ظفر کی نئی کتاب ہے، جو بلوچستان اور اس کے شہداءکے گرد، گردش کرتی ہے، اس طویل مرثیے میں جو ایک ہی بحر میں ہے، بلوچستان کے عوام کی عظمت و عزیمنت کی داستانِ دل خراش رقم کی گئی ہے جویوں شروع ہوتی ہے:

ہم نے ہاتھوں کا جب حصار کیا

اور بھی تیز اس نے وار کیا

ماورائے عدالت اپنا قتل

ٹوپی والوں نے بار بار کیا

معروف سکالر پروفیسر عبداللہ جان جمال دینی فلیپ پر رقم طراز ہیں:

صابر ظفر نے نے سلگتے بلوچستان کو اپنی خوبصورت شاعری کے ذریعے ہمارے موجودہ منظر نامے میں پیش کیا ہے،خصوصاً بلوچی اور براہوی زبان کے الفاظ کو نہایت پُرکاری، ہنر مندی اور جاں فشانی سے اپنے خوبصورت اشعار میں سمو دیا ہے:....

اور فہمیدہ ریاض کا کہنا ہے کہ :

”ان زخموں کو مرہم کی ضرورت ہے جو بلوچستان سے باہر عوام میں بلوچوں سے یکجہتی کے اظہار سے تخلیق ہوسکتا ہے۔ہم بلوچوں کو صرف اس وقت اپنا بنا سکتے ہیں جب کہ ہم ان کے جملہ جائز حقوق کی اسی طرح حمایت کریں، جس طرح ہم اپنے حقوق کی جدوجہد کرتے ہیں اس کے لئے عوام میں شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔صابر ظفر کی یہ طویل غزل اس سمت میں ایک موثر بروقت اور ضروری قدم ہے“....!

ایک موضوع کو مرکز و محور بنا کر ایک بحر میں اس قدر طویل غزل کہنا بلاشبہ صابر ظفر کی قادر الکلامی کی دلیل ہے وہ تیس شعری مجموعوں کے خالق ہوگئے ہیں۔پختہ گوئی اور قادرالکلامی کی جس منزل پر وہ ہیں ، ان سے ابھی اور بہت کچھ اردو شاعری کو توقع ہو سکتی ہے۔

ذکرِ خیرالوریٰ، روشنی روشنی

نعت کہنا بلاشبہ بڑی سعادت کی بات ہے اور یہ سعادت ہر شاعر کو یونہی نصیب نہیں ہوجاتی۔بے شک:

ازہر وہ خوش نصیب ہے جس کا جہان میں

نعتِ رسول شیوئہ گفتار ہوگیا

پروفیسر سحر انصاری ”ذکر خیرالوریٰ، روشنی روشنی“ کے فلیپ پر لکھتے ہیں:

”منظور عباس ازہر نے رسمی طور پر نعت گوئی پر توجہ نہیں دی ہے بلکہ یہ نتیجہ ہے حبِ محمد کا جس سے ان کے دل کو جلا ملی ہے۔اسی کیفیت کو انہوں نے مختلف زاویوں سے اپنی نعتوں کا حصہ بنایا ہے۔ان کے اکثر اشعار میں بے ساختگی اور والہانہ پن نظر آتا ہے، جیسے:

چُوم کر گنبدِ خضریٰ جو ہوا آتی ہے

دولتِ راحتِ جاں میرے لئے لاتی ہے

جس نعت سے کتاب کا نام کشید کیا گیا ہے اس کے دو شعر:

ذکرِ خیر الوریٰ ، روشنی روشنی

ان کی ہر اک ادا روشنی روشنی

نام لب پر جو آیا کبھی آپ کا

دل نے فوراً کہا روشنی روشنی

”ازہر“ تخلص والے مرحوم شعراءمیں غلام رسول ازہر اور ازہر درانی بھی ممتاز تھے، وہی ازہر درانی جو، جواں سالی میں ایک لازوال شعر کہہ گئے جو انہیں بعد از مرگ بھی زندہ رکھے ہوئے ہے کہ :

شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے

ہمیں خبر ہے لٹیروں کے سب ٹھکانوں کی

کہنے کا مدعا تخلص کے حوالے سے یہ تھا کہ کاغذ پر ازہر اور اظہر کا فرق صاف ظاہر ہے، لیکن بولنے میں یہ واضح نہیں کیا جا سکتا کہ یہ ازہر ہے یا اظہر....بس منظور عباس ازہر، غلام رسول ازہر اور ازہر درانی اسی مغالطے کا شکار ہیں....منظور عباس ازہر کی نعت گوئی ان کے نزدیک روز محشر کے لئے وسیلہ نجات بھی ہے اور دنیاوی عزت، شہرت، منصب کی آئینہ دار تھی:

میری شہرت مری عزت ہے عنایت ان کی

کام آئے گی مرے، حشر میں نسبت ان کی

محبتوں میں حساب کیا؟

مسرت یاسمین بلاشبہ شاعرہ ہیں۔ایک ایسی شاعرہ جن کے ہاں جذبات و احساسات کی فراوانی ہے۔تخیل کی اُڑان ہے۔ردیف و قافیے کی پہچان ہے، وزن اوزان کے معاملے میں تو خیر سے اچھے اچھوں کو رہبرِ کامل کی ضرورت ہوتی ہے۔مسرت یاسمین کو بھی اگر رہنمائی میسر رہی تو ان کی غزل کے رنگ و آہنگ میں وہی کاٹ ہوگی جو عہدِ موجودکی اکثر شاعرات کو رہنماﺅں کے طفیل ہی حاصل ہے۔

 تخلیقِ فن کے میدان میں اگرچہ مردانہ زنانہ ڈبہ الگ الگ نہیں ہونا چاہیے کہ شاعر بہرحال شاعر ہے مرد ہو یا عورت.... تاہم نسلِ نو کی آگہی کے لئے عرض کرتا چلوں کہ ماضی قریب کے دورِ اول کی شاعرات میں محترمہ صفیہ شمیم ملیح آبادی، محترمہ ادا جعفری، محترمہ رشیدہ سلیم سیمیں، محترمہ زہرا نگاہ، محترمہ کشورناہید، محترمہ فہمیدہ ریاض،محترمہ عرفانہ عزیز، محترمہ پروین شاکر، محترمہ ریحانہ روحی اور محترمہ شبنم شکیل کے فوری بعد کے دور میں محترمہ شاہدہ حسن، محترمہ فاطمہ حسن، محترمہ پروین شاکر،محترمہ ناصرہ زبیری اور کئی دوسری شاعرات نے شعری ادب خصوصاً غزل کی آبرو میں اضافہ کیا ہے۔اس کہکشاں میں ایک اور مسرت آمیز اضافہ محترمہ مسرت یاسمین کی صورت میں ہورہا ہے، جواپنے اولین شعری مجموعے”محبتوں“ میں حساب کیسا؟ کے ساتھ واردِ شہر سخن ہورہی ہیں۔ان کے جذبوںکا خلوص اور اظہار کا بانکپن انہیں کھلے بازوﺅں سے خوش آمدید کہنے پر اکسا رہا ہے۔دیکھئے بلا انتخاب ذرا یہ اشعار:

جو اپنے ہاتھوں سے جوڑے میں پھول ٹانک گیا

وہ دور دیس کا راہی تھا ، اجنبی تھا وہ

٭٭٭

جفا بھی کرتے رہے ہاتھ بھی ملاتے رہے

عجیب لوگ تھے یوں بھی مجھے ستاتے رہے

٭٭٭

پرندے گھونسلوں سے کیوں اُڑانیں بھر نہیں پاتے

وہ تھے بے پر سلاسل میں مجھے یہ اب سمجھ آیا

٭٭٭

تم تھے تو سہی مگر نہیں تھے

ہونے کا مجھے بھی کب گماں تھا

٭٭٭

”مسرت کی مثلث“ کے عنوان سے حسن نثار لکھتے ہیں:جس کی اُٹھان ایسی ہے اس کی اُڑان کیسی ہوگی؟

مسرت یاسمین شاعری کے افق پر اُبھرتی اک نئی روشنی ہے۔یہ روشنی کسی چاند میں ڈھلے گی یا ستارے کا روپ دھارے گی؟ اس کا فیصلہ وقت کرے گا کہ جوہرِ تخلیق کے ساتھ ساتھ تپسیا بھی بہت ضروری ہے۔سونا آگ سے گزرے تو کندن بنتا ہے۔کوئلہ صدیوں کا جبر سینے پر سہے تو ہیرا بنتا ہے اور شبنم کو چندن بننے کے لئے سو سال صبر سے کام لینا ہوتا ہے۔

مسرت کی مثلت بہت گھمبیر ہے۔دل، دماغ اور دنیا کا یہ کھیل خطرناک بھی ہے جیسے بازی گر بہت سے گولے فضا میں معلق رکھتا ہے اور گرنے نہیں دیتا، اسی طرح مسرت مسلسل دل ،دماغ اور دنیا کے طلسم سے کھیل رہی ہے:

خواب جو مَیں نے ایک شب دیکھا

ماجرا ہی بہت عجب دیکھا

شہر کے لوگ اجنبی دیکھے

عدل کا خون بے سبب دیکھا

لوگ کچھ مطمئن نظر آئے

پیاس سے کوئی جاں بلب دیکھا

اور پھر جب وہ کہتی ہے:

دشمنِ جاں نہ بنو ہوش میں آﺅ لوگو!

اپنا ایماں نہ سرِ راہ گنواﺅ لوگو!

اور یہ کیسا شعر ہے:

اگرچہ دولتِ دنیا میں کھیلتا تھا مگر

عجیب شخص تھا دل کا بہت غریب تھا وہ

کچھ اور نمونہ :

طوفان میں بھی رواں دواں تھا

بے شک یہ مرا ہی کارواں تھا

٭٭٭

آج کچھ ایسا کام کرتے ہیں

زندگی کو دوام کرتے ہیں

٭٭٭

ہر سزا میرے نام کر جاتے

سارا قصہ تمام کر جاتے

جوہر تخلیق اپنی جگہ لیکن تپسیا کے بغیر کوئلہ ہیرا نہیں بنتا۔سونا کندن نہیں ہوتا اور شبنم چندن میں تبدیل نہیں ہوتی۔

اور کتاب کے ناشر ماوراءوالے خالد شریف کہتے ہیں:

”اردو شاعری کے افق پر ایک نئے ستارے نے ظہور کیا ہے۔

مسرت یاسمین نے جذبے کی سچائی کو لفظ کی حُرمت کے ساتھ آمیز کرکے خوبصورت شاعری تخلیق کی ہے، یہ ان کی پہلی کاوش ہے،لیکن جہاں وہ عروضی موشگافیوں سے بخوبی نبردآزما ہوئی ہیں، وہیں انہوں نے تخلیقی ندرت کو بھی کمال سلیقے سے برتا ہے۔یہ بھی اہم بات ہے کہ انہوں نے ذاتی واردات کے علاوہ ملکی حالت پر بھی درد مندی سے قلم اٹھایا ہے“!  

مزید : کالم


loading...