تقسیم ِہند کا سیاسی پس منظر(2)

تقسیم ِہند کا سیاسی پس منظر(2)
تقسیم ِہند کا سیاسی پس منظر(2)

  


قائداعظم ؒنے ،جو ہندو مسلم اتحاد کے سفیر جانے جاتے تھے، کوئی سعی فروگزاشت نہ کی اور کوئی راستہ ایسا نہ تھا جس کو انہوں نے مستند ہندو مسلم تعاون کے لئے تلاش نہ کیا ہو۔ 1936ءکے دوران اور 1937ءکے اوائل میں قائداعظم ؒ ہندو مسلم اتحاد کا پرچار کرتے رہے۔ 7جنوری 1937ءکے ایک جلسے میں انہوں نے فرمایا کہ ہندو اور مسلمان آپس میں ہاتھ ملا کر ایک پارٹی بنا سکتے ہیں، اگر وہ اسمبلیوں کے اندر اور باہر کام کے لئے ایک مشترکہ پروگرام تشکیل دیں۔ 5 جنوری 1937ءکو انہوں نے ارشاد فرمایا کہ ہم مساوی حصے دار کے طور پر کام کرنے کے لئے تیار ہیں اور ہندوستان کے مفاد میں اپنی برادرانہ قوموں کے ساتھ ایک معاہدے پر رضامند ہو سکتے ہیں، مگر ہندوستان میں مسلمانوں کے ایک علیحدہ قوم کے طور پر حوالوں کو نہرو نے پسند نہ کیا اور انہوں نے ایسے خیالات کو فرسودہ اور قرون وسطیٰ کی پیداوار کہا۔ قائداعظم ؒ کی مسلمانوں کو اتحاد کی ترغیب اور مسلمانوں کو دوبارہ منظم کرنے کی کوشش میں نہرو کو ایک فسطائی طریق کار اور مراعات یافتہ طبقوں کے مفادات کے تحفظ کی کوشش نظر آئی، حالانکہ اسلام کا مقصد ِ اعلیٰ وطن پرستی نہیں، آفاقیت ہے۔

1937ءکے انتخابات، جو حکومت ہند کے 1935ءایکٹ کے تحت منعقد کئے گئے تھے، کانگریس کوچھ صوبہ جات میں واضح اکثریت حاصل ہوئی اور تین دوسرے صوبوں میں یہ سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری۔ اس کے برعکس مسلم لیگ کو 482 مسلم سیٹوں میں سے صرف 109 سیٹیں حاصل ہوئیں اور اس کو مسلمانوں کے کل ووٹوں کا صرف 4.8فیصد حصہ ملا۔ مسلم لیگ کو چار مسلم اکثریتی صوبہ جات میں اکثریت حاصل نہ ہو سکی۔ اس انتخاب کی بنیاد پر مسلم لیگ اپنے آپ کو مسلمانوں کی واحد نمائندہ نہیں کہلا سکتی تھی اور نہ ہی کانگریس ہندوستان کی ساری آبادی کی، بالخصوص ہندوستانی مسلمانوں کے نمائندہ کے طور پر، اپنے آپ کو پیش کر سکتی تھی۔ 1937ءکے انتخابات کے بعد قائداعظم ؒ نے اپنی کوششوں کو کئی گنا بڑھا دیا تاکہ مسلم لیگ ہندوستانی مسلمانوں کی واحد نمائندہ کے طور پر مانی جا سکے اور وہ کانگریس کے بالمقابل مساوی درجے پر معاملات طے کر سکے۔ کانگریس کی حکومتوں کا چھ صوبہ جات میں قائم ہونا اور مسلم لیگ کا ان میں سے خارج کیا جانا، مسلمانوں کے لئے ایک تلخ اور غم ناک تجربہ تھا اور اس نے مسلمانوں کے اس خوف کی توثیق کر دی کہ ہندوستان میں مسلمان ایک دائمی اقلیت کے طور پر ہندوﺅں کے رحم و کرم پر رہیں گے۔ مسلمانوں کے ان احساسات نے مسلم لیگ کو بڑی تقویت بخشی اور وہ مسلمانوں کے اندر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے میں کامیاب ہو گئی۔

 قائداعظم ؒ بتدریج مسلم لیگ کو مسلمانوں کی سب سے طاقتور تنظیم کے طور پر ابھارنے میں کامیاب ہو گئے، مگر ان کے ایسا کرنے سے کانگریس کے ساتھ دوستانہ مفاہمت کے سب احتمال ختم ہو گئے، مگر بنیادی نکتہ یہ ہے کہ کانگریس مسلمانوں کے ساتھ برابری کی سطح پر گفت و شنید کرنے کے لئے رضامند نہیں تھی۔ ایک آزمودہ کار لبرل رہنما، سر چمن لال سیتل واد نے اس بات پر اپنے رنج کا اظہار کیا کہ تقسیم ہند کا معاہدہ کسی باہمی خیرخواہی اور مفاہمت کا نتیجہ نہیں تھا ۔ اس بات کا الزام ساری سیاسی پارٹیوں کو جاتا ہے۔ کیبنٹ مشن پلان کی سکیم کو کانگریس کے پس و پیش اور اس کے متزلزل رویے نے ڈبو دیا۔ متحدہ ہندوستان کا حسین تصور سیاست دانوں کی جھولیوں میں آن گرا تھا، مگر اُن کی غیر دانشمندانہ سیاسی بصیرت نے اس سنہرے موقع کو گنوا دیا۔ کچھ الزام برطانیہ پر بھی جاتا ہے کہ اس نے خود اپنی ہی تجویزوں کا پاس نہ کیا۔ سر چمن لال نے پیشین گوئی کی تھی کہ تقسیم ہند نہ ختم ہونے والے جھگڑوں، بدنظمی اور انتشار کو جنم دے گی، جس کی وجہ سے ہندوستان کی آنے والی نسلیں ناگوار حالات کا سامنا کریں گی۔

واقعات کی تقویم سے یہ عیاں ہے کہ کانگریس کا کیبنٹ مشن پلان کی تجاویز کا کلی طور پر ردّ کر دینا اس کی ناکامی پر منتج ہوا۔ کانگریس کے اس ردّ کے پیچھے اُس کا آل انڈیافیڈریشن کا ایک غیر حقیقی اور انتہائی تصور تھا۔ کانگریس کی ہائی کمانڈ میں سے صرف مولانا ابوالکلام آزاد نسبتاً ایک کمزور مرکز کو قبول کرنے کے لئے تیار تھے جبکہ دونوں” نہرو اور پٹیل“ پورے ہندوستان پر ایک مضبوط مرکز کے ذریعے غلبہ حاصل کرنا چاہتے تھے.... یہ نظر آتا ہے کہ قائداعظم ؒ کے لئے تقسیم ہند ایک سادہ اور عملیت پسند نسخہ تھا، جبکہ دو قومی نظریہ اس کا محض ایک عارضی نظریاتی جواز تھا۔ ملک کی تقسیم کے باوجود قائداعظم ؒ کی دلی خواہش تھی، کہ ہندوستان میں ایک اتحاد قائم رہے، مگر اتحاد کا بڑا پرچارک ہونے کے باوجود، کانگریس ہندوستان کے گو ناگوں علاقائی اختلافات کے لئے کوئی رعایت برتنے کے لئے تیار نہیں تھی۔ درحقیقت کانگریس کی پالیسیاں اتحاد پرور نہیں تھیں، بلکہ اتحاد شکن تھیں۔ اتحاد کے لئے قائداعظم ؒ کے اخلاص کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب مختلف اسمبلیوں کے مسلم لیگ کے 400 سے زائد ارکان دہلی میں 10 اپریل 1946ءکو جمع ہوئے تو انہوں نے ایک آزاد اور علیحدہ پاکستان کے لئے مضبوط الفاظ میں قرارداد منظور کی، مگر اس کے باوجود 11 مئی 1947ءکو جو رسمی تجاویز مسلم لیگ نے کیبنٹ مشن کو ارسال کیں، اُن میں تقسیم ہند کا معاملہ نہیں اُٹھایا گیا تھا، بلکہ پاکستان کی بقیہ ہندوستان کے ساتھ کنفیڈریشن کی بات کی گئی تھی۔

قائداعظم ؒ تقسیم ہند کے لئے متامّل تھے اور اس کا عقلی جواز ڈھونڈنا مشکل نہیں۔ اُن کی سوچ کے مطابق تقسیم ہند مسلمانوں کو بھی تقسیم کر دے گی، اس طرح اُن کی ہندوﺅں کے مقابلے میں مجموعی پوزیشن کمزور پڑ جائے گی، جبکہ کیبنٹ مشن پلان کی گروپنگ سکیم کے تحت پاکستان چھ صوبہ جات، سندھ، بلوچستان، شمال مغربی سرحدی صوبہ پنجاب، بنگال اور کسی حد تک آسام پر مشتمل ہو گا۔ ہندوستان کی کلی تقسیم کے تحت پاکستان کو فقط ایک مفلوج یا کٹا پھٹا پاکستان ملے گا، کیونکہ جو دلیل پاکستان کے حق میں دی جا سکتی تھی، وہی دلیل پاکستان میں سے غیر مسلم علاقوں کو خارج کرنے کے لئے بھی دی جا سکتی تھی۔ کانگریس، جو اپنی سیاسی آئیڈیالوجی کی وجہ سے کوتاہ نظر ہو چکی تھی، فرقہ وارانہ مسئلے کو برطانیہ کی تخلیق تصور کرتی تھی، حالانکہ یہ مسئلہ ہندوستانی سیاست کا بنیادی مسئلہ تھا۔ ایک اکثریتی قوم کا نمائندہ ہونے کے طور پر، کانگریس اقلیتی قوم کے تحفظات اور خوف کو سمجھ نہ پائی۔ آئین میں چند تحفظات مہیا کرنے سے وہ مسلمانوں کا اعتماد اور تعاون حاصل نہیں کر سکتی تھی، کیونکہ ایک مضبوطی سے جمی ہوئی حکومت تحفظات کو کئی طریقوں سے بے اثر کر سکتی ہے، خواہ وہ کتنی ہی احتیاط سے آئین میں شامل کئے گئے ہوں۔ کانگریس کی حکمرانی کئی زاویوں سے مضمر اور غیر مبہم طور پر ہندو حکمرانی ہی تھی۔ مسلم لیگ اس بات کے لئے رضامند نہیں تھی کہ وہ مسلمانوں کی حفاظت و تحفظ ایک غیر یقینی مستقبل کے لئے ایک ایسی پارٹی کے ہاتھوں میں دے دے، جس نے اُن کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے کوئی قدم نہ اُٹھایا ہو اور جس نے ساری سیاسی قوت اور اقتدار اپنی تحویل میں لے لیا ہو۔

(نوٹ:۔ مصنف کی نئی کتاب ”پاکستان: سچ کی تلاش“کا ایک باب)        ٭

 

مزید : کالم


loading...