لوڈشیڈنگ کا بحران سنگین تر

لوڈشیڈنگ کا بحران سنگین تر

ابھی موسم گرما کا صحیح آغاز بھی نہیں ہوا، پنکھے کہیں چلے ہیں اور کہیں ابھی ان کے بغیر ہی گزارا کیا جا رہا ہے، ائرکنڈیشنر چلنے کی نوبت بھی نہیں آئی کہ لوڈشیڈنگ میں یک لخت اضافہ ہو گیا ہے، بجلی اب دو گھنٹے کے لئے جاتی اور ایک گھنٹے یا اس سے بھی کم وقت کے لئے آتی ہے یہ تو شہروں کا حال ہے، دیہات میں صورت حال ناگفتہ بہ ہے بس یہ کہہ لیں کہ وہاں بجلی کی سپلائی تہمت بن گئی ہے۔چند روز بعد جب درجہ حرارت بڑھے گا تو اندازہ ہوگا کہ معاملہ اور بھی سنگین ہو گیا ہے۔

بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مستقل اور آئیڈیل حل تو یہ ہے کہ ہم اپنی ضرورت کے مطابق اور سستی بجلی پیدا کریں، جو لوگوں کو مناسب نرخوں پر فراہم کی جائے، لیکن ہمارا المیہ کیا ہے کہ بجلی نہ صرف ضرورت سے کم ہے۔ بلکہ مہنگی بھی ہے اور مزید مہنگی کرنے کے منصوبے بھی بن رہے ہیں۔ اس وقت سستی ترین بجلی تو پانی سے بن سکتی ہے۔ لیکن ستم ظریفی ملاحظہ فرمائیں کہ ہم بجلی پیدا کرنے کے مہنگے منصوبوں کی طرف بھاگتے ہیں اور سستے منصوبوں کودانستہ نظر انداز کرتے ہیں، حتیٰ کہ ہماری” دانش“ نے ہمیں رینٹل پاور جیسے مہنگے منصوبوں کی طرف مائل کیا، حکومت نے پالیسی بنائی اور ایسے پاور پلانٹ لانے والوں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیاں کردی گئیں۔ ترکی سے بجلی پیدا کرنے والا ایک جہاز کراچی کے ساحل کے قریب لا کر کھڑا کر دیا گیا۔جو ایک سال سے زائد کھڑا رہا اس جہاز سے ایک یونٹ بجلی پیدا نہ کی گئی، لیکن اس غریب قوم کے ٹیکس دہندگان کو اس کھڑے جہاز کو بھی اربوں روپے کی ایڈوانس ادائیگیاں کرنا پڑیں سپریم کورٹ نے یہ رقم واپس لینے کا حکم دیا لیکن ہمارے جمہوری بادشاہوں نے اس جہاز کو رقم واپس لئے بغیر ہی رخصت کردیا۔ سپریم کورٹ اس معاملے میں مداخلت نہ کرتی تو نہ جانے رینٹل پاور عذاب کب تک اس قوم پر مسلط رہتا، بجلی کے مسئلے کا حل بڑا ڈیم ہے جو ہم بنانا نہیں چاہتے،کالا باغ ڈیم کو چھوڑ کر ہماری نظر انتخاب دیامر بھاشا پر جا کر ٹھہر گئی، دو مختلف حکمرانوں نے تین بار اس کا افتتاح کیا لیکن عملاً کوئی کام نہیں ہو رہا، اب تو عالمی مالیاتی ادارے بھی اس پر اعتراض کرنے لگے ہیں اگر ان اداروں نے ہاتھ کھینچ لیا تو نہ معلوم یہ ڈیم بنانے کے لئے رقم کہاں سے آئے گی؟ مزید کہا جا رہا ہے کہ جہاں یہ ڈیم بنایا جا رہا ہے وہ فالٹ لائنز پر واقع ہے اور یہاں ہر وقت زلزلے کا خطرہ رہے گا، ان دنوں خصوصی طور پر جو لوڈشیڈنگ بڑھ گئی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ارسا پانی کو محفوظ رکھ رہا ہے اور ضرورت کے مطابق پانی ریلیز نہیں کیا جا رہا، چنانچہ پانی سے بجلی پہلے سے بھی کم بن رہی ہے، دوسرے ذرائع سے جو بجلی حاصل ہوتی ہے وہاں بھی ادائیگیوں کا مسئلہ ہوتا ہے اور گردشی قرضے بڑھ کر تقریباً دوگنا ہو گئے ہیں جب ایسی صورت حال پیدا ہوتی ہے تو بجلی بنانے والے آئی پی پیز، اپنی استعداد کے مطابق بجلی نہیں بناتے ،نتیجتاً قلت پیدا ہوتی اور لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوتا ہے۔

پاکستان میں پانی کے علاوہ جن بھی ذرائع سے بجلی پیدا ہوتی ہے وہ بہت مہنگے ہیں، پانی کے بعد سستی بجلی کوئلے سے بنائی جا سکتی ہے اور ہمارے پاس کوئلے کے وافر ذخائر موجود ہیں، لیکن عشروں سے ہم یہی سن رہے ہیں کہ ہمارے پاس ذخائر ہیں۔ کوئلے کے ان ذخائر کو زمین سے نکالا نہیں جا رہا، اس راہ میں مالی کے علاوہ سیاسی مصلحتیں بھی حائل ہیں، تھر کے کوئلے کو گیس بنا کر خارج کرنے کا تجربہ ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے کر لیا تھا، اب اس گیس کو نکالنے کا مسئلہ ہے جس کے لئے فنڈز چاہئیں جو دستیاب نہیں ہیں، جس ملک میں روزانہ بقول چیئرمین نیب اربوں روپے کرپشن کی نذر ہو جاتے ہیں۔ حیرت ہے کہ وہاں ایک ایسے منصوبے کے لئے جو ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے فنڈز نہیں ہیں۔ پھر مختلف سطحوں پر اس منصوبے کی مخالفت بھی ہو رہی ہے، غالباً یہ وہ لابی ہے جو چاہتی ہے کہ پاکستان ہمیشہ غیروں کا دست نگر بنا رہے اور اپنے پاﺅں پر کھڑا ہونے کے قابل نہ ہو۔ چنانچہ ہر اس کام میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں جو ملک کو خود انحصاری کی منزل کی طرف لے جانے والا ہو، ممتاز سائنسدان ڈاکٹر عثمانی نے کئی عشرے پہلے تجویز پیش کی تھی کہ پاکستان اپنی ضرورت کی بجلی سولر سسٹم سے حاصل کرے، ان کا یہ کہنا تھاکہ فوراً کچھ لوگ حرکت میں آ گئے جنہوں نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ تو بہت مہنگا منصوبہ ہے اب ان سے کوئی پوچھے کہ کیا یہ رینٹل پاور سے بھی مہنگا تھا،جس جانب ہم کئی برس بعد لپک پڑے اور اربوں ڈبو دیئے اور بیورو کریسی اس پر دم سادھے رہی ۔بہرحال اب کہیں جا کر بہت معمولی سطح پر سولر انرجی سے بجلی حاصل کی جا رہی ہے اور بعض پارکوں اور شاہراﺅں پر روشنی کے لئے یہ سسٹم لگایا گیا ہے۔ اس کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے اور پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ منصوبے کے تحت بہتر منصوبہ بندی کرکے ہم اس شعبے سے سستی بجلی حاصل کر سکتے ہیں، یہ درست ہے کہ اس شعبے میں شروع شروع میں زیادہ سرمایہ کاری کی ضروت ہوتی ہے لیکن پھر بیس پچیس سال تک سوائے دیکھ بھال کے کوئی اخراجات نہیں اٹھتے۔

اگر حساب لگایا جائے تو لوڈشیڈنگ کا عذاب شروع ہونے کے بعد پاکستان نے جتنی بھاری رقوم خرچ کرکے جنریٹر اور یو پی ایس وغیرہ درآمد کئے ہیں وہی رقم اگر کسی معقول منصوبے پر خرچ ہو جاتی تو نتائج مختلف ہو سکتے تھے۔ یہ جنریٹر جو ہم درآمد کرتے ہیں درآمدی ڈیزل سے چلتے ہیں اور بہت مہنگی بجلی پیدا کرتے ہیں۔ جن کارخانوں میں یہ جنریٹر استعمال ہوتے ہیں ان کی مصنوعات بھی بہت مہنگی ہو جاتی ہیں اس وقت جن دکانوں ،ہوٹلوں، بڑے بڑے شاپنگ سٹوروں وغیرہ میں جنریٹر استعمال ہوتے ہیں وہ بھی ان کا سارا خرچہ گاہک سے ہی وصول کرتے ہیں، دیکھا جائے تو یہ اور اس طرح کے سارے اقدام محض عارضی اور عبوری ہونے کے باوجود بہت مہنگے ہیں۔ یہ رقم اگر کسی بڑے ہائیڈل منصوبے پر خرچ ہو جاتی تو ہمارے شب و روز یوں تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے نہ ہوتے، آئی پی پیز کی فراہم کردہ بجلی بھی ہماری پہلی ترجیح نہیں ہونی چاہئے کہ یہ بھی مہنگی ہے اور جن دنوں یہ معاہدے کئے جا رہے تھے اس وقت بھی بہت شور اٹھاتھا، لیکن جس طرح آج کے حکمران رینٹل پاور کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے تھے، اس وقت کے حکمرانوں کی رال بھی ان پر ٹپکتی تھی کہ اس میں ان کے فائدے کا سامان بھی تھا، بہرحال یہ تسمہ پا اب ہمارے سروں پر سوار ہے۔ اور ہم مسلسل اس کے ناز نخرے اٹھا کر بھی اپنی بجلی کی ضرورت پوری نہیں کر پاتے۔ اور گردشی قرضے ایک عذاب کی صورت اختیار کر چکے ہیں، اورہر چند ماہ بعد ان کا حجم بڑھ جاتا ہے اور لوڈشیڈنگ کا بحران بھی، گھریلو مقاصد کے علاوہ صنعتی مقاصد کے لئے بھی بجلی دستیاب نہیں اور صنعتی پیداوار کم ہو رہی ہے، جو کچھ پیدا ہوتا ہے وہ بھی مہنگا ہے اور یوں مہنگائی کا جن بھی بے قابو ہو کر ناچ رہا ہے۔ معیشت ایک شیطانی چکر کی زد میں آئی ہوئی ہے۔

لوڈشیڈنگ کا یہ بحران محض ”ڈنگ ٹپاﺅ“ اقدامات سے حل ہونے والا نہیں۔ اس کے لئے ضرورت کے مطاق بجلی پیدا کرنی ہو گی، اور سستے ذرائع سے کرنی ہو گی، مہنگے ذرائع کو بیک جنبش قلم ختم کرنا ہو گا۔ تب کہیں جا کر ہماری معیشت کا پہیہ چلے گا، اور مہنگائی میں کمی کا آغاز ہوگا، مہنگائی میں کمی زیادہ پیداوار سے ہی ممکن ہوتی ہے حکمرانوں کو یہ بات جتنی جلد سمجھ آ جائے، اتنا ہی اچھا ہے۔ اب اگلے ماہ الیکشن ہونے والے ہیں، ووٹروں کا فرض ہے کہ وہ ایسے امیدواروں کو ووٹ دیں جو ان کی زندگیوں سے اندھیرے ختم کرنے کاپختہ وعدہ کریں۔

٭

مزید : اداریہ


loading...