آسٹریلیا نے پاکستان میں بیس لائن سروے کا آغازکردیا

آسٹریلیا نے پاکستان میں بیس لائن سروے کا آغازکردیا

فیصل آباد(اے پی پی) آسٹریلیا نے جامعہ زرعیہ اور دیگر تحقیقی اداروں کے اشتراک سے پاکستان میں بیس لائن سروے کا آغازکردیا ہے جس کے نتائج دنیاکے بہترین ریسرچ جرنلز نے شائع کئے جائیں گے اور زراعت کے شعبہ سے منسلک کسانوں ، کاشتکاروں ، زمینداروں کی استعدادکار میں اضافہ بھی یقینی بنایاجائیگا۔جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے دورہ کے دوران آسٹریلین زرعی ماہرین نے بتایاکہ دنیا میں غلے کی پیدا وار 0.9 فیصد سالانہ کی شرح سے بڑھ رہی ہے جبکہ آبادی کی رفتار 1.7 فیصد سالانہ ہے جس کی وجہ سے آنے والے سالوں میں دنیا میں غذائی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے جس سے عہدہ برآءہونے کےلئے سائنسدانوں کو مل جل کر کوششیں کرنا ہوں گی ۔انہوں نے کہا کہ آسٹریلین سیکٹر لنکجز پرو گرام کے تحت پاکستان میں آسٹریلوی حکومت کی مدد سے ترشاوا پھلوں، ڈیری سیکٹر اور آم کی پیدا وار میں اضافے اور سپلائی چین نظام کی ترقی کےلئے جدید خطوط پر پیش رفت جاری ہے جبکہ پاکستان میں بیس لائن سر وے پر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد اور دیگر تحقیقی اداروں کی مدد سے وسیع پیمانے پر کام کا آغاز کر دیا گیا ہے جس کے نتائج دنیا کے بہترین ریسرچ جرنلز میں شائع کئے جائیں گے۔اس موقع پر جامعہ زرعیہ کے وائس چانسلر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے بتایاکہ دنیا کی 900 ملین آبادی غذائی کمی سے دو چار ہے خصوصی طور پر تیسری دنیا کے ممالک اس المیے سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں غربت کی بڑھتی ہوئی شرح کے باوجود ملک کا پسماندہ طبقہ اپنی غذائی ضروریات کی بجائے مو بائل فون کے استعمال پر اپنی آمدن کا زیادہ حصہ خرچ کر رہا ہے ۔

جس کی وجہ سے صحت عامہ کی صورت حال بہتر بنانے میں مشکلات کا سامنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے کسانوں کو وسائل سے مالا مال کئے بغیر پیدا واریت کے مطلوبہ ہدف پورے نہیں کئے جا سکتے ۔

مزید : کامرس


loading...