سافٹ وئیر پائریسی عالمی مسئلہ بن گیا،حکومت و نجی شعبہ آگہی بڑھائے

سافٹ وئیر پائریسی عالمی مسئلہ بن گیا،حکومت و نجی شعبہ آگہی بڑھائے

اسلام آباد(این این آئی) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ چوری شدہ سافٹ وئیر اور انٹرنیٹ وائرس نہ صرف ساری دنیا میں اداروں اور عام شہریوں کے لئے بڑا مسئلہ بن گئے ہیں بلکہ سافٹ وئیر پائریسی کئی ممالک کے لئے قومی سلامتی کا مسئلہ بن گیا ہے جس سے نمٹنے کے لئے حکومت ،نجی شعبہ اور این جی اوز عوام میں انٹرنیٹ سیکورٹی کے متعلق اقدامات اور عوامی شعور اجاگر کریں۔سال رواں میںدنیا بھر میں مختلف کمپنیاں انٹرنیٹ خطرات سے نمٹنے کے لئے 114ارب ڈالرخرچ کرینگی جبکہ صارفین کو اپنے کمپیوٹر ٹھیک کرنے اور خطرات کے تدارک پرڈیڑھ ارب گھنٹے ضائع کرنا پڑیں گے۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ انٹرنیشنل ڈیٹا کارپوریشن کی ایک رپورٹ کے مطابق ایشیا پیسفک میں کمپیوٹروں کی مرمت کے اخراجات 39 ارب ڈالرہونگے جبکہ ڈیٹا کے نقصانات شامل کرنے سے یہ رقم129 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔دس ممالک میں کئے گئے سروے کے مطابق 45 فی صد جعلی سافٹ ویئر کو انٹرنیٹ سے ڈان لوڈ کیا جاتا ہے جس میں 36 فیصد مال وئیراور ایڈویئر موجود ہوتے ہیںجو کمپیوٹروں میں سرائیت کر جاتے ہیں۔ جنوب مشرقی ایشیا میں69 فیصد کمپیوٹر انٹرنیٹ سے جرائم کرنے والے گروہوں کے نشانہ پر ہیں۔

جبکہ صرف بارہ فیصد سافٹ ویئر مسائل سے پاک ہیں۔ڈاکٹر مرتضی مغل نے کہا کہ کچھ لوگ پیسہ بچانے کے لئے جعلی سافٹ وئیرکا انتخاب کرتے ہیں جنھیں بعد میں نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔سائبر سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لئے کا سب سے بہترراستہ حقیقی سافٹ ویئر کا استعمال اورسیکورٹی چیک کو معمول بنانا ہے۔

مزید : کامرس


loading...