سمگلنگ کے خاتمے کیلئے قوانین کے نفاذ کاعمل بہترکیا

سمگلنگ کے خاتمے کیلئے قوانین کے نفاذ کاعمل بہترکیا

جلاہور(کامرس رپورٹر) کلکٹر کسٹمز جنید اکرم نے کہا ہے کہ سمگلنگ کے ناسورکا خاتمہ کرنے کے لیے قوانین کے نفاذ کا عمل بہتر بنایا جارہا ہے کیونکہ اس مسئلے کی وجہ سے نہ صرف حکومت کے محاصل بلکہ تاجر برادری بہت بُری طرح متاثر ہورہی ہے۔ انہوں نے یہ بات لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ لاہور چیمبر کے صدر فاروق افتخار، سینئر نائب صدر عرفان اقبال شیخ، نائب صدر میاں ابوذر شاد، ایگزیکٹو کمیٹی اراکین آفتاب احمد وہرہ، امجد چودھری، تنویر احمد صوفی، میاں زاہد جاوید، ابرار احمد، کاشف انور، سابق نائب صدر شفقت سعید پراچہ اور ایڈیشنل کلکٹر کسٹمز مکرم جاہ نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ جنید اکرم نے کہا کہ محکمہ کسٹمز کو سمگلنگ کی وجہ سے مقامی تاجروں کے لیے پیدا ہونے والی مشکلات سے بخوبی آگاہ ہے۔ سمگلنگ کی وجہ سے نہ صرف معاشی مشکلات کا سامنا ہے بلکہ امن و امان کی صورتحال بھی خراب ہورہی ہے اور بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوانین کے نفاذ کے عمل کی تنظیم نو سے صورتحال بہتر ہوگی۔ حال ہی میں لاہور ایئر پورٹ پر متعارف کرائے گئے وی بوک سسٹم میں تاخیر کے معاملات کا اعتراف کرتے ہوئے ایڈیشنل کلکٹر کسٹمز مکرم جاہ نے کہا کہ نئے کمپیوٹر اور دوسرے متعلقہ آلات ماہ اپریل کے اندر نصب کردئیے جائیں گے جس سے یہ سسٹم بہتر ہوگا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فاروق افتخار نے کہا کہ سمگلنگ محاصل میں کمی کی بہت بڑی وجہ ہے جسے آہنی ہاتھوں سے روکنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایران سے زمینی ذرائع سے پلاسٹک مولڈنگ کی سمگلنگ سے قومی خزانے کو سالانہ 25ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے اور پلاسٹک کے مقامی کاروبار بند ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکام بالا فوری طورپر ایران سے پولیتھین اور پولی پراپلین کی درآمد بند کردیں کیونکہ یہ اشیاءمقامی مارکیٹ میں امپورٹڈ پرائس سے کم نرخوں پر فروخت ہوکر مقامی کاروبار کو برباد کررہی ہیں۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ پلاسٹک مولڈنگ کمپاﺅنڈ پر سیلز ٹیکس ریٹ کم کردیا جائے۔ فاروق افتخار نے کہا کہ وی بوک کا نظام بہت اچھا ہے لیکن کچھ آپریشنل مسائل آڑے آرہے ہیں، بہتر یہ ہوگا کہ وی بوک سسٹم یکم جولائی 2013ءسے نافذ کیا جائے۔

 انہوں نے کہا کہ واہگہ بارڈر پورٹ پر روز مرّہ کا کام بہتر بنانے کے لیے وزارت تجارت نے کسٹمز کلکٹر کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس میں این ایل سی، رینجرز، نیشنل بینک آف پاکستان، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان اور لاہور چیمبر کے نمائندے شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ چھ ماہ سے اس کمیٹی کی کوئی میٹنگ نہیں ہوئی لہذا کسٹمز کلکٹریٹ فوری طور پر کمیٹی کو فعال کریں۔ لاہور چیمبر کے نائب صدر میاں ابوذر شاد نے اپنے خطاب میں کہا لاہور چیمبر کے علم میں آیا ہے کہ کچھ لوگ لاہور چیمبر کا جعلی سرٹیفیکیٹ آف اوریجن استعمال کررہے ہیں، کسٹمز ڈیپارٹمنٹ کو چاہیے کہ سرٹیفیکیٹ کی کاپی قبول نہ کرے کیونکہ جعلی سرٹیفیکیٹ آف اوریجن کی وجہ سے لاہور چیمبر کو بھاری نقصان ہورہا ہے۔

مزید : کامرس


loading...