گھریلو کام کاج سے گریزکرنے والی ملازمت پیشہ خواتین موٹاپے کا شکار ہوجاتی ہیں‘ امریکی ماہرین

گھریلو کام کاج سے گریزکرنے والی ملازمت پیشہ خواتین موٹاپے کا شکار ہوجاتی ...

نیویارک(اے پی پی) گھریلو کام کام سے گریزکرنے والی ملازمت پیشہ خواتین موٹاپے کا شکار ہوجاتی ہیں امریکی ماہرین کے مطابق گھریلو کاموں کا نہ کرنا یا کم کرنا ان کے موٹاپے کی اہم وجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے ادوار میں خواتین کھانا پکانے، صفائی کرنے اور اس طرح کے دوسرے گھریلوں کاموں میں زیادہ وقت لگاتی تھیں جبکہ آج وہ اس وقت کا آدھا وقت بھی ان کاموں میں نہیں لگاتیں جوکہ ان کے موٹاپے کا باعث ہے۔ یونیورسٹی آف کیرولینا سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے سربراہ ایڈورڈ آرچر نے بتایا کہ خواتین میں بڑھتی ہوئی موٹاپے کی شرح گھریلوں کاموں میں کمی اور خواتین کازیادہ دیر تک بیٹھ کر ٹی وی دیکھنا اور کمپیوٹر کا بے جا استعمال کرنا ہے۔ جانز ہوپکنز بلوم برگ سکول آف پبلک ہیلتھ کے طبی ماہرین کے مطابق ضچھلی دہائیوں کی نسبت موٹاپے کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ 1960ءمیں خواتین میں موٹاپے کی شرح 13 فیصد تھی جوکہ 2004ءکے اعدادو شمار کے مطابق بڑھ کر 32فیصد ہوگئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 1960ءسے قبل نان ورکنگ خواتین ہفتے میں 33.1گھنٹے گھر کے کاموں میں لگاتی تھیں جبکہ اب 2010ءمیں وہ ہفتے میں 16.5 گھنٹے تک گھریلو کام کو دیتی ہیں ۔ اسی طرح کام کرنے والی خواتین 1960ءمیں ہفتے کے دوران 17.1 گھنٹے گھریلوں کام میں لگاتی تھیں جبکہ 2010ءکے اعدادو شمار کے مطابق اب وہ پورے ہفتے میں صرف 19.4 گھنٹے اپنے گھریلو کاموں کی دیتی ہیں جوکہ ان کے موٹاپے کا اہم سبب ہے۔   

مزید : عالمی منظر


loading...