شمالی کوریا کی دھمکی کے بعد امریکی جنگی جہازحرکت میں آگئے

شمالی کوریا کی دھمکی کے بعد امریکی جنگی جہازحرکت میں آگئے

واشنگٹن(پی پی سی)امریکہ نے کہاہے کہ اسے شمالی کوریا میں فوجی سرگرمیوں میں اضافے کے کوئی شواہد نہیں ملے تاہم میزائل شکن ہتھیاوروں سے لیس اپنی بحری جنگی بیڑے کوحرکت میں لے آیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاﺅس کے ترجمان جے کارنی نے میڈیاکو بتایاکہ امریکہ نے شمالی کوریا کی طرف سے بیان بازی کے بعد عملی اقدامات نہیں دیکھے۔وائٹ ہاﺅس کے ترجمان نے کہا کہ پیانگ یانگ کی جانب سے اشتعال انگیز بیان بازی کے باوجود ہم نے اس کی فوجی نقل و حرکت میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی۔ترجمان نے مزید کہا کہ ضرورت پڑنے پر امریکہ محتاط کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے۔تاہم امریکہ کے محکمہ دفاع کے حکام نے صحافیوں کو بتایا کہ میزائل شکن ہتھیاوروں سے لیس بحری جنگی بیڑے کو جنوبی کوریا سے دور جنوب مغربی کی طرف لے جایا گیا ہے۔ شمالی کوریا فروری میں ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد اقوام متحدہ کی طرف سے پابندیوں اور امریکہ اور جنوبی کوریا کا مشترکہ جنگی مشقوں کی وجہ سے اشتعال میں ہے۔ شمالی کوریا کی طرف سے جنوبی کوریا اور امریکہ پر حملوں کی دھمکیوں کی وجہ سے خطے میں حالات کشیدہ ہیں۔خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں شمالی کوریا نے امریکہ اور جنوبی کوریا پر حملوں کی دھمکیاں دی تھیں جس کا جواب امریکہ نے علاقے میں جنگی جہازوں کی پروازیں شروع کرنے سے دیا ہے۔جزیرہ نما کوریا میں حالیہ تنا کا آغاز بارہ فروری کو شمالی کوریا کی جانب سے تیسرے جوہری تجربے کے بعد ہوا تھا اور اقوام متحدہ کی جانب سے مزید پابندیوں کے بعد شمالی کوریا کی جانب سے دھمکیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

شمالی کوریا نے اس دوران امریکہ اور جنوبی کوریا کو نشانہ بنانے کی متعدد دھمکیاں دی ہیں جن میں امریکی سرزمین پر جوہری حملے کی دھمکی بھی شامل ہے۔

مزید : عالمی منظر


loading...