لیبیائی وزیراعظم کے عملہ کا رکن طرابلس کے مضافات سے اغوا

لیبیائی وزیراعظم کے عملہ کا رکن طرابلس کے مضافات سے اغوا

طرابلس(اے پی پی) لیبیا کے حکام کا کہنا ہے کہ وزیراعظم علی زیدان کے عملہ کے رکن کو دارالحکومت طرابلس کے مضافات سے اغوا کر لیا گیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق مذکورہ اہلکار محمد ال غطوس کے بارے میں خیال کیا جارہا ہے کہ انہیں ضلع غوث الرحمان سے اس وقت اغوا کیا گیا جب وہ اپنے آبائی شہر مصراتہ سے واپس آرہے تھے۔ واضح رہے کہ مذکورہ علاقہ سے ان کی کار مل گئی ہے جس کے بعد لیبیا کے حکام نے ان کی تلاش کےلئے آپریشن شروع کردیا ہے۔ یاد رہے کہ چند روز قبل وزیراعظم علی زیدان نے خبردار کیا تھا کہ حکومتی ارکان کو جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ لیبیا کے وزیراعظم نے معمول کی پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ چند ماہ پہلے اقتدار میں آنے کے بعد سے وہ مشکل ترین حالات میں کام کررہے ہیں۔ دوسری جانب ان کی کابینہ کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فرانسیسی خبررساں ادارے کو بتایا کہ بغیر کسی شبہ کے محمد ال غطوس کو ایک جعلی چیک پوسٹ سے اغوا کیا گیا ہے اور خیال کیا جارہا ہے کہ اغوا کاروں نے خود کو سیکیورٹی اہلکار ظاہر کرکے ان کو اغوا کیا ہو جبکہ حکومتی ذرائع نے امریکی خبررساں ادارے کو بتایا کہ کوئی نہیں جانتا کہ محمد ال غطوس کہاں ہیں اور اغوا کاروں نے کار پیچھے چھوڑ دی کیونکہ ان کے خیال میں اس سے ان کا پتہ چلایا جاسکتا ہے۔

طرابلس میں بی بی سی کی نامہ نگار رعنا جواد کا کہا ہے کہ لیبیا کی حکومت نے جب سے ملیشیاءکو غیرمسلح کرنے اور توڑنے کا اعلان کیا ہے اس وقت سے کابینہ کو سیکیورٹی کے حوالے سے لاحق خطرات میں اضافہ ہوگیا ہے۔

مزید : عالمی منظر


loading...