شامی فوج کے ہاتھوں بچوں سمیت پچاس افراد کا قتل عام درجنوں زخمی

شامی فوج کے ہاتھوں بچوں سمیت پچاس افراد کا قتل عام درجنوں زخمی

                                                               دمشق(پی پی سی) شامی فوج نے گزشتہ بارہ گھنٹوں کے دوران دومختلف شہروں میںبچوں سمیت 50 افرادکوقتل کردیااورنعشوں کو آگ لگادی ،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق پہلا قتل عام دمشق کے نواحی شہر کفربطنا میں ہوا۔ اس میں آٹھ بچوں سمیت پندرہ افراد مارے گئے۔ قتل عام کی دوسری واردات دمشق کے جنوب میں واقع فلسطینی مہاجر کیمپ الیرموک میں ہوئی جس میں سات افراد جاں بحق جبکہ چالیس زخمی ہوئے۔ادھر دمشق کی پوش کالونی دمر میں سرکاری فوج نے دو مقامات پر خون کی ہولی کھیلی جس میں پندرہ افراد فوجی سیکیورٹی اداروں کی حراست میں تشدد سے جان کی بازی ہار گئے۔ قتل عام کے ایک الگ واقعے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کی ہلاکت کی اطلاع ملی۔ شامی فوجیوں کے ہاتھوں قتل عام کا آخری واقعہ حموریہ شہر میں ہوا جس میں شامی فوج کی گولا باری کا نشانہ بننے والے پانچ افراد جاں بحق ہو گئے۔اسی دوران حمص شہر میں سرکاری فوج نے شہریوں کے قتل عام کی تین کارروائیوں کا ارتکاب کیا ۔ شامی شہر تلکخ میں قتل عام کیا گیا ۔ انقلابی کونسل کا کہنا ہے بشار الاسد کے فوجیوں اور اجرتی قاتلوں نے بارہ شہریوں کو تیز دھار آلے سے ذبح کر دیا ۔بابا عمرو کالونی میں چار نعشیں ملیں جن سے تعفن اٹھ رہا تھا۔ علاقے میں بشار الاسد فوج کے خلاف سرگرم رضاکاروں کا کہنا ہے کہ ان افراد کو سرکاری فوجیوں نے قتل کیا اور بعد میں ان کی لاشوں کو آگ لگا دی۔ قلعہ الحصن میں تیسرا قتل عام ہوا جہاں شامی فوجیوں کی نصب کردہ گھات کی زد میں آ کر جیش الحر کے دس افراد مارے گئے۔ادھر برطانیہ میں قائم ایک تنظیم کی جمع کردہ معلومات کے مطابق مارچ 2013 شام میں دو سالوں سے جاری شورش میں سب سے خونی مہینہ ثابت ہوا ہے جس میں چھ ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔برطانیہ میں قائم ایک تنظیم کی جمع کردہ معلومات کے مطابق مارچ دو ہزار تیرہ میں شام میں چودہ سو سے زیادہ باغیوں سمیت چھ ہزار پانچ افراد ہلاک ہوئے ۔ شامی حکومت کی مخالف سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نامی تنظیم کے مطابق مارچ دو ہزار تیرہ میں ہلاک ہونے والے 6005 افراد میں سے 1485 باغی، 1464 حکومت کی حامی فوجی، 291 عورتیں اور 289 بچے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ہلاک ہونے والے عام شہری بتائے جاتے ہیں۔سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے سربراہ رامی عبدل الرحمان نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ شام میں دو سالوں سے جاری شورش میں اب تک تقریبا 120,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی تنظیم ہلاک ہونے والے 62554 افراد کے کوائف جمع کر چکی ہے۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں جاری شورش میں اب تک ستر ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو شام میں آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت نہیں ہے اور ہلاکتوں سے متعلق اعداد و شمار کی تصدیق مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہو چکی ہے۔رپورٹ کے مطابق شام کے شہریوں کی ایک بڑی تعداد ملک سے فرار ہو کر پڑوسی ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکی ہے۔ شام سے دس لاکھ سے زیادہ افراد پڑوسی ممالک میں پناہ لے چکے ہیں اور ان کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید : عالمی منظر


loading...