پروفیسر ز اور ہیلتھ کئیر کمیشن میں ٹھن گئی

پروفیسر ز اور ہیلتھ کئیر کمیشن میں ٹھن گئی

                                           لاہور(جاوید اقبال) ہیلتھ کیئر کمیشن اور لاہو رکے ہسپتالوں کے پروفیسرز میں ٹھن گئی ہے پروفیسرز نے کمیشن کو اپنے وارڈ کی رجسٹریشن کرانے کے لئے دیئے گئے ”فارم فل“ کرکے دینے اور وارڈوں کے دورے کرانے سے انکار کردیا آغاز سروسز انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل کالج کے پرنسپل اور کمیٹی روم سے ہو اجس کے بعد شہر کے دیگر ہسپتالوں کے پروفیسرز میں بھی اتفاق ہوگیا ہے کہ ہیلتھ کیئر کمیشن سے تعاون نہیں کیاجائے گا اور ہیلتھ کیئرکمیشن دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے برابر قوانین اور معیار ہسپتالوں میں ”لاگو“ کرانا چاہتا ہے تو اس کے لئے بجٹ اور دیگر سہولیات بھی ان ممالک کے برابر دیناہوگی۔ ہسپتالوں کے حالات اور معیار بلند کرنے کے لئے جی ڈی پی کا کم ازکم 3.5 فیصد بجٹ درکار ہے مگر محکمہ صحت کو اس وقت 0.5 فیصد دیاجارہا ہے بتایاگیا ہے ہیلتھ کیئر کمیشن کو جو ذمہ داریاں سونپی گئیں تھیں ان میں عطائیت کا خاتمہ نمبر ون تھا دوسری ترجیح میں پرائیویٹ اور سرکاری ہسپتالوں کی رجسٹریشن کرنا تھی جس کے لئے ہیلتھ کیئر کمیشن نے اپنے معیار پر مبنی فارم دینا تھے معیاری انسپکشن کے بعد ہیلتھ کمیشن نے ہر وارڈ کو اپنے معیار کے مطابق الگ الگ لائسنس جاری کرنا تھے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ صوبائی دارالحکومت کے ہسپتالوں کے پروفیسرز نے ہیلتھ کیئر کمیشن کے مقرر کردا معیار کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے اور دو ٹوک الفاظ میں ہیلتھ کیئر کمیشن کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ ہسپتالوں میں اپنے رولز اور معیار کے مطابق لائسنسنگ کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے عالمی معیار کے مطابق ہسپتالوں کو بجٹ بھی دیاجائے سہولیات دی جائیں۔ آئی سی یو سی سی یو میں ایک بیڈ پر ایک ڈاکٹر اور ایک نرس دی جائے ہسپتالوں میں بیڈز کے حساب سے آئی سی یو سی سی یو دیئے جائیں، مشینری دی جائے جس پر ہیلتھ کیئر کمیشن لا جواب ہوگیا ذرائع نے بتایا ہے کہ اس پر شہر بھر کے ہسپتالوں کے پروفیسرز نے کمیشن کے خلاف اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہیلتھ کیئر کمیشن سے نہ رجسٹریشن لی جائے گی نہ لائسنس جاری کرائے جائیں گے نہ انہیں وارڈوں کا وزٹ کرایاجائے گا۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ اس کے لئے پروفیسرز نے تمام ڈاکٹر تنظیموں، پی ایم اے، ینگ ڈاکٹرز، میڈیکل ٹیچرز ایسوسی ایشن سے رابطے شروع کردیئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے لئے ہیلتھ کیئر کمیشن اور پروفیسرز آمنے سامنے آگئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پروفیسرز نے سروسز انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے پرنسپل اور کمیٹی روم میں ہیلتھ کیئر کمیشن کے ممبران کو اپنے مطالبات سے آگاہ کردیاہے۔ پروفیسرز کا کہنا ہے کہ ہیلتھ کیئر کمیشن عطائیت کے خاتمے کے لئے بنایاگیا تھا جسے یکسر چھوڑ کر کمیشن میں بیٹھے ہوئے ریٹائرڈ لوگوں نے سرکاری ہسپتالوں کا رخ کرلیا ہے جو انہیں قبول نہیں اس سے آنے والے دنوں میں کمیشن اور پروفیسروں میں سرد جنگ شروع ہوسکتی ہے اور کمیشن کے خلاف پروفیسرز ہڑتال کی ”کال“ دے سکتے ہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...