آصفہ کی تجویز، بلاول بااختیار ہو کر جلد واپس آ گئے!

آصفہ کی تجویز، بلاول بااختیار ہو کر جلد واپس آ گئے!
آصفہ کی تجویز، بلاول بااختیار ہو کر جلد واپس آ گئے!

  


پاکستان کے معروضی حالات میں واقعات کی رفتار اتنی تیز ہو گئی کہ اکثر ساتھ دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ بلاول بھٹو کی مصالحت اور آمد کے حوالے سے مصدقہ اطلاع دی گئی لیکن دوبئی میں بھائی اور دونوں بہنوں کے درمیان طویل مشاورت اور آصفہ بھٹو زرداری کے زور بیان نے بلاول بھٹو کو مقررہ وقت سے پہلے ہی کراچی پہنچنے پر مجبور کردیا جہاں سے وہ گزشتہ روز ہی نو ڈیرو پہنچ گئے اور پارٹی کے ایک اجلاس کی صدارت کی جس میں طویل صلاح مشورے کے بعد امیدواروں کی ٹکٹوں کی تجاویز میں تبدیلی کی گئی بلاول کو والد آصف علی زرداری کی طرف سے سادہ چیک دے دیا گیا اور وہ پارٹی سربراہ کی حیثیت ہی سے تمام اختیارات استعمال کریں گے، اس سلسلے میں معاونت آصفہ بھٹو اور کچھ بختاور بھٹو بھی کریں گی یوں محترمہ کی تربیت اور خورشید شاہ جیسے اہم حضرات کی غیر جانبداری اور معاملہ فہمی کا امتحان شروع ہو گیا ہے، امکانی طور پر بلاول کو ملنے والے اختیارات سے جہانگیر بدر کی عزت بھی بحال ہو سکتی ہے جن کو صوبائی ٹکٹ کے قابل بھی نہیں جانا گیا تھا۔ بہرحال آج بعض فیصلوں کے بارے میں پتہ چل جائے گا۔

بلاول کی فوری واپسی کے باوجود بھٹو کی برسی سادگی سے منانے کے منصوبے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ انتخابات میں کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور ان کے نتائج کے علاوہ پیپلزپارٹی کے اہم رہنماﺅں مخدوم امین فہیم، راجہ پرویز اشرف اور سید یوسف رضا گیلانی کی پریشانیوں کے باعث برسی کو سادگی سے منانے اور انتخابی مہم کا مزار بھٹو سے آغاز بھی ملتوی رہے گا اور اب مزار پر چادر چڑھانے، قرآن خوانی اور معمول کے لنگر کی تقسیم کے سوا کوئی جلسہ یا اکٹھ نہیں ہو گا، اب 7 اپریل کے بعد ہی کوئی نئی تاریخ مقرر ہو گی اس وقت تک جانچ پڑتال کے بعد امیدواروں کی حیثیت اور فہرست سامنے آ چکی ہوگی۔

اس وقت سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آج پیپلزپارٹی جن مسائل کا شکار ہے اور مسلسل دیوار سے لگتی نظر آتی ہے اس گرداب سے بلاول نکال سکیں گے ؟ اب یہ نوجوان اپنی حیثیت منوا کر تو واپس آ ہی گیا ہے۔ دیکھنا یہ ہو گا کہ اس کو میدان میں اتارنے کے حوالے سے جو توقعات وابستہ کی گئی تھیں وہ پوری ہو سکیں گی۔ پہلے بھی عرض کیا تھا اور اب پھر گزارش ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو بلا خطر انتخابی مہم چلانے کی سہولت ہو گی لیکن پیپلزپارٹی سمیت اے۔ این۔ پی اور متحدہ قومی موومنٹ مشکلات کا شکار ہوں گی تاہم توقع کے عین مطابق متحدہ قومی موومنٹ نے اپنی تنظیم اور اپنے حفاظتی انتظامات کے حوالے سے ایک جلسہ کر دکھایا ہے۔ اے۔ این۔ پی اور پیپلزپارٹی ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ اے۔ این۔ پی کے ایک سابق رکن صوبائی اسمبلی نے جلسہ رکھا اور بم دھماکے میں زخمی ہو گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ ان دو جماعتوں کو فول پروف سیکورٹی مہیا کی جا سکتی ہے؟ اور یا پھر یہ جماعتیں اپنے بل بوتے پر حفاظتی انتظامات کے بعد جلسے کر سکتی ہیں؟ یہ بہت بڑا سوال ہے۔ جس کا جواب 7اپریل کے بعد ہی ملے گا۔

اس وقت ملکی حالات میں عدالت عظمیٰ کی فعالیت بہت زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے عدالت عظمیٰ کے بہت ہی واضح حکم کے بعد 189 سابق اراکین پر تلوار لٹک گئی ہے جن کو ڈگریوں کی تصدیق کے لئے جمعہ کی رات تک کی مہلت حاصل ہے۔ اس میں مشکل مرحلہ یہ ہے کہ خود سابق رکن کو میٹرک اور ایف اے کی سند لے کر ہائر ایجوکیشن کمیشن سے رجوع کرنا ہو گا جو متعلقہ یونیورسٹی سے تصدیق کرے گا۔ ویسے ہمارے ملک میں ایسا کوئی نظام نہیں کہ ایک کلک کے ساتھ کسی بھی شخصیت کی مادر علمی سے اس کے ریکارڈ کی تصدیق ہو جائے کہ کمپیوٹرائزڈ سسٹم تو اب متعارف کرانا شروع کیاگیا ہے۔ اس لئے امکانی طور پر 189 میں سے اکثر کو مشکلات کا سامنا ہو گا، ہائر ایجوکیشن اس سے قبل 54 سابق اراکین کی ڈگریاں جعلی قرار دے چکا ہوا ہے۔ اگرچہ 2013ءکے انتخابات کے لئے تعلیمی قابلیت یا ڈگری کی شرط نہیں ہے لیکن عدالت عظمیٰ کی رائے ہے کہ جن لوگوں نے 2008ءکا انتخاب جعلی ڈگری کی بناءپر لڑا ثابت ہونے پر وہ صادق اور امین نہیں رہتے اس لئے آرٹیکل 62-63 کی زد میں آتے ہیں اور یہ مشکل مرحلہ ہے۔

اب تو انتظار کرنا ہو گا کہ اس چھلنی سے چھن کر کیا صورت برآمد ہوتی ہے۔ اس کے بعد ہی اندازہ ہو گا کہ کس جماعت کو کتنا نقصان پہنچا۔ جس جماعت نے زیادہ سابق اراکین اسمبلی کو ٹکٹ دیئے اسے زیادہ خدشہ ہو گا ۔بظاہر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) زیادہ اور اس کے بعد مسلم لیگ (ق) نقصان میں رہے گی۔ تحریک انصاف کو اس حوالے سے کم نقصان ہو گا۔ کوئی بھی تجزیہ پر عمل مکمل ہونے سے پہلے ممکن نہیں۔

مزید : تجزیہ


loading...