الیکشن کمیشن کا پانچ سو سابق اراکین پارلیمنٹ کے گرد گھیرا تک کرنے کا فیصلہ

الیکشن کمیشن کا پانچ سو سابق اراکین پارلیمنٹ کے گرد گھیرا تک کرنے کا فیصلہ ...

                                 لاہور (شہباز اکمل جندران، انویسٹی گیشن سیل) الیکشن کمیشن نے ایک ہی سال میں ایک دوسرے سے مختلف اثاثہ جات کے دو الگ الگ گوشوارے جمع کروانے والے 5 سو سے زائد سابق اراکین پارلیمینٹ کے گرد سکروٹنی میں گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امتیاز صفدر وڑائچ، خواجہ سعد رفیق، حنا ربانی کھر، آفتاب احمد شیرپاﺅ، فیصل صالح حیات اور مخدوم امین فہیم سمیت قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے 5 سو سے زائد سابق اراکین کے 2012 میں جمع کروائے جانے والے اثاثہ جات کے گوشوارے، کاغذات نامزدگی کے ساتھ جمع کروائے جانے والے اثاثہ جات کے گوشواروں سے مختلف تھے۔ معلوم ہوا ہے کہ الیکشن کمیشن نے سکروٹنی کے عمل کو بہتر بنانے اور ملک میں شفاف و غیر جانبدار انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 اور نئے کاغذات نامزدگی پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد کے لئے جانچ پڑتال کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس بات پر خاص طور پر زور دیا جارہا ہے کہ ایسے امیدواروں کو نااہل قرار دیا جائے جو سابق اسمبلیوں کے رکن رہے ہیں اور ان کے 2012 کے اثاثہ جات کاغذات نامزدگی کے ساتھ جمع کروائے جانے والے اثاثہ جات سے مختلف ہیں۔ کیونکہ دونوں گوشوارے ایک ہی سال میں جمع کروائے گئے ہیں تو ان میں فرق نہیں ہونا چاہئے اور جن امیدواروں کے گوشوارے ایک دوسرے سے الگ ہوں گے، وہ مناسب وضاحت نہ کرسکے تو انہیں الیکشن لڑنے سے نااہل قرار دے دیا جائے گا۔ معلوم ہوا ہے کہ اس سلسلے میں خواتین کی مخصوص 60 اور اقلیتوں کے لئے مخصوص 10 نشستوں سمیت قومی اسمبلی کے سابق 342 ارکان اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کی 577 جنرل اور خواتین کے لئے مخصوص 128 جبکہ اقلیتوں کے لئے مخصوص 23 نشستوں پر پارلیمینٹ کا حصہ رہنے والے مجموعی طورپر سابق 1070 اراکین پارلیمینٹ کے گوشوارے پر الیکشن کمیشن کی خصوصی نظر ہے۔ کمیشن نے سکروٹنی کے دوران ایسے سابق پارلیمنٹرینز کو نااہل قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے جنہوں نے ایک ہی سال میں اثاثہ جات کے ایک دوسرے سے مختلف دو الگ الگ گوشوارے جمع کروائے ہیں۔ اس سلسلے میں ریٹرننگ افسروں کو بھی ہدایات جاری کردی گئی ہیں اور الیکشن کمیشن کے ہیڈ آفس میں قائم سکروٹنی کمیٹی کو بھی خصوصی ٹاسک دے دیا گیا ہے کہ امیدواروں کے 2012 کے اثاثہ جات کے گوشواروں اور کاغذات نامزدگی کے ہمراہ جمع کروائے جانے والے گوشواروں کی تفصیلات کا ایک دوسرے سے موازنہ کیا جائے اور فرق سامنے آنے اور پہلے کی نسبت زیادہ اثاثہ جات ظاہر کرنے والے سابق پارلیمنٹرینز سے وضاحت طلب کی جائے اور جواب تسلی بخش نہ پائے جانے کی صورت ایسے امیدواروں کو نااہل قرار دیا جائے۔

سکروٹنی

مزید : صفحہ اول


loading...