چودہ رکنی نگران وفاقی کا بےنہ نے حلف اٹھالےا قلمدان ضلد سونپے جائےمگے

چودہ رکنی نگران وفاقی کا بےنہ نے حلف اٹھالےا قلمدان ضلد سونپے جائےمگے

                                      چودہ رکنی نگران وفاقی کابےنہ نے                         اسلام آباد(این این آئی) چودہ رکنی نگراں وفاقی کابینہ نے ایوان صدر میں حلف اٹھالیا۔ وفاقی وزرا سے صدر آصف علی زرداری نے حلف لیا،پنجاب سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر مشتاق خان نے حلف نہیں اٹھا۔حلف برداری کی تقریب میں نگراں وزیراعظم میر ہزار کھوسو بھی شریک ہوئے۔منگل کو چودہ رکنی نگراں وفاقی کابینہ کی حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں ہوئی جہاں صدر زرداری نے نگراں وزراءسے حلف لیا۔ چودہ رکنی نگران وفاقی کابینہ میں چھ وزرا پنجاب، تین سندھ اور بلوچستان جبکہ دو وزرا خیبرپختونخوا سے لیے گئے ہیں۔ نگراں کابینہ میں جن وزرا کو شامل کیا گیا ہے ان میں ملک حبیب، احمر بلال صوفی، ڈاکٹر مصدق ملک ، عارف نظامی، سہیل وجاہت صدیقی، شہزادہ احسن اشرف، مقبول رحمت اللہ، عبدالمالک کاسی، اسد اللہ مندوخیل، میر حسن ڈومکی، ڈاکٹرثانیہ نشتر، فیروز جمال شاہ کاکاخیل، ڈاکٹر یونس سومرو اور شہزادہ جمال شامل ہیں۔ایک روز قبل وزیراعظم ہاﺅس کی جانب سے 15رکنی نگران کابینہ کا اعلان کیا گیا تھا تاہم پنجاب سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر مشتاق حلف برداری کے وقت موجود نہیں تھے اور آخری وقت میں ان کی کرسی ہٹادی گئی۔ذرائع کے مطابق ڈاکٹرمشتاق کو سٹیٹ بینک کے شعبہ مانیٹری پالیس میں اہم عہدے پر براجمان ہونے کی وجہ سے کابےنہ میں شامل نہیں کیاگیا ،اعلی سرکاری نگران وزیراعظم میر ہزار خان کھوسو نے پیر کی رات اپنی کابینہ کا اعلان کیا تھا،انہوں نے نگران کابینہ کے لیے ایک ہفتے تک مشاورت کے بعد وزرا کا انتخاب کیا ۔اس نگران کابینہ میں معروف صحافی عارف نظامی بھی شامل ہیں اور توقع ہے انہیں وزارت اطلاعات کا قلمدان سونپا جائے گا۔صوبہ پنجاب سے ملک حبیب، احمر بلال صوفی ،ڈاکٹر مصدق ملک، عارف نظامی،شہزادہ احسن اشرف شیخ اور شہزادہ جمال کو نگران کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔سندھ سے سہیل وجاہت صدیقی، مقبول ایچ رحمت اللہ اور ڈاکٹر یونس سومرو نگران کابینہ میں شامل ہیں۔بلوچستان سے عبدالمالک کاسی، اسداللہ مندوخیل اور میر حسن ڈومکی کو وزیر بنایا گیا ہے۔صوبہ خیبرپختونخوا سے ڈاکٹر ثانیہ نشتر اور ڈاکٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل شامل ہیں۔عبدالمالک کاسی سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں بھی وفاقی وزیرصحت رہ چکے ہیں۔نگران کابینہ آئین کے تحت آئندہ ماہ عام انتخابات کے انعقاد اور نئی منتخب حکومت کے اقتدار سنبھالنے تک امور مملکت چلائے گی اور وہ دوررس نتائج کے حامل فیصلے کرنے کی مجاز نہیں ہوگی۔نگران وزیراعظم نے دواور معروف صحافیوں طلعت حسین اور ڈاکٹر ملیحہ لودھی کو بھی اپنی کابینہ میں شامل ہونے کی پیش کش کی تھی لیکن ان دونوں نے وزیر بننے سے انکار کردیا تھا۔ طلعت حسین کو وزارت اطلاعات اور ڈاکٹر ملیحہ لودھی کو وزیر خارجہ بنانے کی پیش کش کی گئی تھی۔ موخرالذکر خاتون صحافیہ امریکا میں پاکستان کی سفیر بھی رہ چکی ہیں۔ نگران کابینہ میں وزارت داخلہ کا قلمدان ملک محمد حبیب جبکہ احمر بلال صوفی کو وزارت قانون کا قلمدان دیے جانے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق سہیل وجاہت ایچ صدیقی کو وزارت پیٹرولیم دیے جانے کا امکان ہے۔

کابینہ / حلف

مزید : صفحہ اول


loading...