”نگرانوں کی نگرانی “

”نگرانوں کی نگرانی “
”نگرانوں کی نگرانی “

  


بات تو درست ہے کہ میڈیا کو نگرانوںکی نگرانی کرنی چاہئے لیکن اگر بات نگرانی سے آگے جا کر ملک و ملت کی پاسبانی تک جا رہی ہو تو اس سے بھی انکار نہیں کرنا چاہئے۔ اس وقت سوشل میڈیا میں شور مچا ہوا ہے کہ معروف اینکر پرسن طلعت حسین نے نگران وزیراطلاعات بننے کی پیش کش ٹھکرا دی، انہیں نگران وزیراعظم میر ہزار خان کھوسو کی پیش کش بھری ٹیلی فون کال موصول ہوئی مگر انہوں نے یہ کہتے ہوئے معذرت کر لی کہ یہ صحافیوں کا کام نہیں ہے ۔ طلعت حسین ایک ایسے پروفیشنل ہیں جن کی میں دل کی گہرائیوں سے عزت کرتا ہوں اوریہ عزت صرف دور سے ان کو کام کرتے ہوئے دیکھتے یا ٹیلی وژن کی سکرین پر انہیں آواز میں مصنوعی غم و غصہ پیدا کئے اور ماتھے پر جعلی تیوریاں ڈالے بغیر مدلل انداز میں بحث کرتے دیکھ کر ہی نہیںکرتا بلکہ مجھے تین چار سال تک ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے انہیں قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملامگر میں یہاں ان سے اختلاف کرتا ہوں۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنے ملک اور لوگوں کی بہتری کے لئے کام کریں، یہ کام ہم بطور صحافی بھی کر سکتے ہیں، بطور بیوروکریٹ بھی اور بطور سیاستدان بھی۔ میں ذاتی طور پر سمجھتاہوںکہ کسی پروگرام میں میزبان کی سیٹ پر بیٹھ کر تنقید کرنا دنیا کا آسان ترین کام ہے مگر جب آپ خود کوئی ذمہ داری سنبھالتے اور وہاں نتائج دیتے ہیں تو یہ بالکل مختلف صورتحال ہوتی ہے۔ طلعت حسین اگر غیر جانبدار صحافی ہیں تو وہ ایک غیر جانبدار وزیراطلاعات بن سکتے تھے، پاکستان ٹیلی وژن جو آج بھی بڑے شہروں سے باہر سب سے زیادہ دیکھا جاتا ہے، انتخابات کے حوالے سے اپنا موثر کردارادا کر سکتا تھا، وہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کو کابینہ میں بیٹھ کے یقینی بنا سکتے تھے اور انتہائی ادب کے ساتھ میرا تبصرہ یہی ہے کہ انہوں نے یہ کردار ادا کرنے سے انکا ر کر کے ایک جرم اور خیانت کی ہے، یہاں نئے اور نگران وزیراطلاعات کی طرف انگلی اٹھانا قبل از وقت ہو گامگر طلعت حسین نے یہ پیش کش قبول نہ کرکے انتخابات جیسے اہم موقعے پر اپنا یہ حق کھو دیا ہے کہ کل وہ وزارت اطلاعات، پاکستان ٹیلی وژن یا ان سے متعلقہ کسی بھی ادارے کی کارکردگی پر سوا ل اٹھائیں کہ جب بھی وہ اس پر سوال اٹھائیں گے تو ان سے میرا سوال یہ ہوگا کہ پھر آپ یہ کام خود کرکے دکھا دیتے۔

میں ایک صحافی اور تجزیہ کار کو پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ کے طور پر دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ ہمیں اپنے پروگرام کرتے ، کالم لکھتے اور تجزئیے کرتے ہوئے وہی کچھ کہنا چاہیے جو وقت پڑنے پر ہم خود بھی کرنے کے قابل ہوں۔ اگر ہم شہباز شریف پر اعتراض کرتے تھے کہ انہوں نے تمام اختیارات اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں تو نگران وزیراعلیٰ نے حلف اٹھاتے ہی کہہ دیا کہ انہیںتو وزیروں کی ضرورت ہی نہیں، محکموں کے سیکرٹری موجود ہیں اور وہ ان کے ساتھ کام چلا لیں گے، یہ بات اس حد تک تو درست ہے کہ شہبا ز شریف پانچ سال کے لئے وزیراعلیٰ بنے تھے اور نجم سیٹھی صرف دوماہ کے لئے یہ ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں مگر اس کے باوجونو سے دس کروڑ آبادی کے صوبے کے روزمرہ معاملات کس طرح ایک ہی شخص دیکھ سکتاہے۔ دوسرے اگر ہم سیاسی لوگوں پر سیکورٹی کے نام پر لئے جانے والے پروٹوکول کے حوالے سے تنقید کرتے ہیں تو ہمیں دیکھنا چاہئے کہ ہمارے ارد گرد کیا ہو رہا ہے۔ کئیر ٹیکر چیف منسٹر ہاو¿س گلبرگ میں سابق وزیراعلیٰ اور سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویز الٰہی کی رہائش گاہ کے قریب ہے مگر نگران وزیراعلیٰ نے اپنے گھر کے باہر سڑک ہی نہیںبلکہ اس کے قریب سے گزرنے والی ایک بڑی سڑک مراتب علی روڈ بھی دو تین جگہوں سے بند کروا دی ہے، یہ وہ سڑک ہے جس پر بیکن ہاو¿س کی ایک بڑی برانچ کے علاوہ قرب و جوار میں دیگر سکول بھی موجود ہیں اور چھٹی کے اوقات میں پولیس کی طرف سے بند سڑک کی وجہ سے ٹریفک بلاک ہونا شروع ہو گئی ہے گویا نگران وزیراعلیٰ نے وہ کام کیا ہے جو وہاں عشروں سے آباد چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی جیسے بڑے اور معروف سیاستدانوں نے بھی نہیںکیا۔ مجھے بھارت میں سیکورٹی اور پروٹوکول بارے ایک بحث سننے کا اتفاق ہوا، وہاں بھی کچھ سیاستدانوں نے کہا کہ انہیں سرکاری خرچ پر سیکورٹی فراہم کی جائے، جوا ب ملا کہ وہ سیاست میں اپنی مرضی اور اپنے شوق سے آئے ہیں لہذا ان کی اس مرضی اور شوق کی قیمت سرکار کے پیسوں سے ادا نہیں کی جا سکتی۔ نگران وزیراعلیٰ نے اپنے تیرہ رشتے داروں کے لئے بھی سیکورٹی مانگ لی ہے، کیا ستم ظریفی ہے کہ جو شہباز شریف بطور وزیراعلیٰ اپنے ساتھ درجنوں گاڑیوں کا ایک شاندار فلیٹ لے کر چلتے تھے وہ پولیس اور ذاتی محافظوں کی دو ، چار گاڑیوں تک محدود ہو گئے ہیںگویا انسان نہیں عہدہ اہم ہے، یہی نگران وزیراعلیٰ کیاالیکشن کے بعد بھی اپنے اور رشتے داروں کے لئے یہ پروٹوکول برقرار اور سڑکیںبند رکھ سکیں گے۔

یہ بات کافی دنوں سے میرے ذاتی علم میں ہے کہ پنجاب کے نگران انتخابات سے کہیں زیادہ بسنت کرانے میں دلچسپی لے رہے ہیں حالانکہ ان کے پاس بسنت کرانے کا نہیں انتخابات کروانے کے لئے الیکشن کمیشن کی معاونت کرنے کا مینڈیٹ ہے۔ حضرت علی ہجویریؒ اور علامہ اقبالؒ سے پہلے فریدہ خانم کے دربار میں حاضری دینے والے نگرانوں سے اسی قسم کے ایجنڈے کی توقع رکھی جا سکتی ہے ۔ یہاں مجھے نواز شریف کے بعد سید منور حسن اور عمران خان پر بھی حیرت ہو رہی ہے کہ میاں نواز شریف نے پنجاب کی وہ نگران حکومت بنوائی جو ان کے مبینہ نظریات اور رائے دہندگان دونوں سے ہی پوری طرح متصادم ہے مگر وہ سید منور حسن اور عمران خان جو انسانی حقوق کی ایک سکہ بند کارکن عاصمہ جہانگیر کو بطور نگران وزیراعلیٰ قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھے اب اپنے منہ بند کئے بیٹھے ہیں ۔ اس کی وجہ ایک خوف یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انتخابات کے اس نازک موقعے پر میڈیا سے تعلقات خراب نہ ہوجائیں مگر مجھے ان دونوں کی مصلحت پسندی نے حیرانی دی ہے جو میں نے ایک صاحب علم سے شئیر کی تو انہوں نے کہا کہ منور حسن اور عمران خان کواعتراض کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور میں نے سوچا کہ پھر توشائد نگرانوں پر ہونے والی تمام کی تمام بحث اور اعتراضات غیر ضروری تھے۔میں اگر آج نواز شریف کو عام انتخابات میں ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کروں تو اس کی ایک بہت بڑی وجہ ان کی طرف سے نگرانوں کا چناو¿بھی ہو سکتا ہے۔

اب سوال بسنت کا ہے جوکئی برسوں سے لاہور میں نہیںہوسکی، روایتی ہندو کلینڈر کے مطابق توبسنت ماگھ کے پانچویں دن ہی ہوسکتی تھی، یہ دن ویداس کے مطابق سرسوتی دیوی سے منسوب ہے مگر یہ دن تو فروری میں گزر چکا ہے ،اب تو مارچ کے بعد اپریل آچکا ، گویا بسنت کا سیزن رخصت ہوگیا، گرمی نے اپنے ڈیرے جمانے شروع کر دئیے، سوال تو یہ ہے کہ اگر ہمارے نگران جون، جولائی اور اگست میں بھی آتے توکیا تب بھی بسنت منانے کا اہتمام کر لیتے۔ وہ سوچ رہے ہیں کہ بسنت منانے کے لئے وہ لاکھوں موٹرسائیکل سواروں کے لئے دفعہ ایک سو چوالیس لگا کے ان کے گھر سے نکلنے پر پابندی لگا دیں گے اور پھر شہر بھر میں پتنگیں ہوں گی، ڈوریں ہوں گی ، سگ آزاد اور سنگ مقید ہوں گے۔ آسمان پر رنگ بکھریں گے مگر اس کے ساتھ ساتھ نگرانوں کے دامن پر ان بچوں کے خون کا رنگ بھی ہو گا جنہیں اپنے قاتلوں کے چہروں، ناموں اور گھروں کا علم تک نہیں ہوگا۔ وہ قوم جس کے مثالی حکمران دریائے فرات کے کنارے پیاس سے مرنے والے کتے تک کی ذمہ داری قبول کرتے تھے، ان اموات کی ذمہ داری کس پر ڈالے گی۔ کیا وفاق اور پنجاب کے نگرانوں کو بسنت سے کہیں پہلے اس ظالمانہ لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کی پلاننگ نہیں کرنی چاہئے، پتنگوں سے بھرے آسمان کے تصور میں دن رات گزارنے کی بجائے انہی دنوں اور راتوں کو سرکلر ڈیٹ کم کرنے کے طریقے سوچنے چاہئیں ورنہ وہ انتخابات سے پہلے جس امن و امان کو یقینی بنانے کا خواب دیکھ رہے ہیں وہ یہ چند خوشگوار دن گزرنے کے بعد ہوا ہوجائے گا۔ مجبور اور مظلوم عوام دہشت گردی جیسے خوفناک احتجاجی مظاہرے بھی کر سکتے ہیں، لہذا نگرانوں کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ روزمرہ معاملات کو معمول کے مطابق چلانے میں اپنی توانائیاں صرف کریں،وہ بجلی کے نرخوں میں ہو ش ربا اضافے اور بسنت منانے یا نہ منانے جیسے فیصلے آنے والی حکومت پر چھوڑ دیں۔

مزید : کالم


loading...