چیئرمین نیب صدر کو جوابدہ ہیں، اس لئے خط لکھا، لطیف کھوسہ

چیئرمین نیب صدر کو جوابدہ ہیں، اس لئے خط لکھا، لطیف کھوسہ

اسلام آباد (آن لائن)سپریم کورٹ نے توہین عدالت کے حوالے سے چیئرمین نیب فصیح بخاری کی انٹرکورٹ اپیل کی سماعت11 اپریل تک ملتوی کر دی۔ چیئرمین نیب کے وکیل سردار لطیف خان کھوسہ نے دلائل میں موقف اختیار کیا ہے کہ میڈیا تک خط کے جانے کے ذمہ دار چیئرمین نیب نہیں ،17 فروری کو اعتزاز احسن نے میڈیا کے روبرو اعتراف کیا تھا کہ چیف جسٹس نے راجہ عامر عباسی کو نیب کی لیگل برانچ میں شامل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ۔ارسلان افتخار کو گواہ کے طور پر لایا جائے تو چیف جسٹس اس بنچ کی سربراہی کر سکیں گے۔ نیب اپنی سالانہ کارکردگی کے حوالے سے صدر کو جوابدہ ہے اس لئے چیئرمین نے صدر کو خط لکھا تھا اور خط خفیہ تھا ۔نہیں چاہتے کہ میڈیا تک کیسے پہنچا۔میڈیا عدالت کے ریمارکس اور آبزویشن کو فیصلے کے طور پر پیش کرتا ہے ۔انہوں نے یہ دلائل جسٹس انور ظہیر عباسی کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ کے روبرو دیئے ہیں ۔ انہوں نے دلائل میں مزید کہا کہ توہین عدالت کا قانون سرے سے موجود ہی نہیں ہے ۔2004ءکا قانون ختم ہو چکا ہے جبکہ سب 2003ءکے قانون پر بھی کارروائی کررہے ہیں حالانکہ اس حوالے سے قانون سازی کی ضرورت ہے ۔اس پر جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ اس سے متعلق یوسف رضا گیلانی توہین عدالت کیس میں جواب دیا جا چکا ہے ۔لطیف کھوسہ نے کہا کہ جس بنچ نے فیصلہ کیا وہ اس کیس کی سماعت نہیں کر سکتا۔

کھوسہ

مزید : صفحہ آخر


loading...