قبائلی خواتین کی آواز اعلیٰ ایوانوں تک پہنچانا چاہتی ہوں، بادام زری

قبائلی خواتین کی آواز اعلیٰ ایوانوں تک پہنچانا چاہتی ہوں، بادام زری

پشاور(ثناءنیوز) چالیس سالہ بادام زری پاکستان کے قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والی پہلی خاتون ہیں، جنہوں نے خواتین کے حقوق کے لیے سیاست میں آنے کا اعلان کیا ہے۔ مڈل تک تعلیم یافتہ بادام زری نے باجوڑ ایجنسی سے عام انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں۔ باجوڑ کے صدر مقام خار میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران بادام زری نے کہا کہ وہ قبائلی علاقے کی خواتین کی آواز اعلیٰ ایوانوں تک پہنچانا چاہتی ہیں۔بادام زری نے کہا ہے کہ وہ اپنے علاقے کی خواتین کی زندگیوں میں خوشگوار تبدیلی لانے کے لیے پر عزم ہے۔ ان کے شوہر نے 11 مئی کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ان کی مکمل حمایت کی ہے۔ یہ ایک مشکل فیصلہ ہے لیکن میں اب پرعزم اور پر امید ہوں کہ معاشرہ میری مکمل معاونت کرے گا۔ غےر ملکی نشرےاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 180 ملین کی آبادی والا معاشرہ خواتین کے کردار کے حوالے سے خاصا قدامت پسندانہ رویہ رکھتا ہے۔ اس حوالے سے قبائلی علاقے کے پشتون باسیوں کا رویہ زیادہ سخت ہے، جو ایک پسماندہ اور دور دراز خطے میں سخت اسلامی اصولوں پر کاربند ہیں۔ قبائلی علاقے کی بیشتر خواتین کم پڑھی لکھی ہیں، شاذ و نادر ہی گھر سے باہر جاکر ملازمت کرتی ہیں جبکہ عوامی مقامات پر برقعہ زیب تن کیے رکھتی ہیں۔ ملالہ یوسفزئی ان دنوں برطانیہ میں زیر تعلیم ہے بادام زری نے خار میں صحافےوں سے بات چےت کے موقع پر رنگدار شال اوڑھ رکھی تھی، جس سے انہوں نے اپنی آنکھوں کے علاوہ تمام جسم ڈھانپ رکھا تھا۔ قبائلی علاقوں میں آباد خواتین کی زندگیاں گزشتہ کچھ برسوں کے دوران مزید تلخ ہوئی ہیں، جب سے شدت پسند قوتوں نے ان علاقوں کو اپنی پناہ گاہیں بنالیا ہے۔ اس ضمن میں سوات میں 14 سالہ طالبہ ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملے کی مثال دی گئی ہے۔ باجوڑ ایجنسی کا شمار ان قبائلی علاقوں میں ہوتا ہے، جہاں پاکستانی فوج نے عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کیا ہے۔ یہاں کے اعلی پولیس عہدیدار اسد انور کے بقول بادام زری نے بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...