6 ماہ گزرنے کے باوجود ارسا میں وفاق کے نمائندے کی پوسٹ پر تعیناتی نہ ہوسکی

6 ماہ گزرنے کے باوجود ارسا میں وفاق کے نمائندے کی پوسٹ پر تعیناتی نہ ہوسکی

لاہور(کامرس رپورٹر)وفاقی حکومت کی جانب سے چھ ماہ گزر جانے کے باوجود ارسا میں وفاق کے نمائندے کی اہم ترین پوسٹ پر تعیناتی کا فیصلہ نہیں ہو سکا، تمام متعلقہ محکموں کی منظوری کے بعد متفقہ ممبر کی فائل وزیر اعظم سیکرٹریٹ سے پراسرار طور پر غائب کر دی گئی، اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ صوبوں کے درمیان پانی کے معاملات کنٹرول کرنے کیلئے 1991 ءمیں قائم ہونیوالی نہایت اہم انڈس ریور سسٹم اتھارٹی(ارسا) کے کل ممبران کی تعداد 5 ہے جن میں چار ممبر صوبوں کے جبکہ ایک وفاقی کا نمائندہ ہوتا ہے، اور یہ نمائندہ ہر بار مختلف صوبوں کی طرف سے چنا جاتا ہے تاہم پرویز مشرف کے مارشل لاءکے دوران انہوں نے ایگزیکٹو آرڈر جاری کر دیا کہ ارسا میں وفاق کا نمائندہ بھی سندھی ہوگاجو ارسا کے بنیادی ایکٹ کی خلاف ورزی تھی ، کیونکہ صوبوں کے درمیان جب بھی پانی کی تقسیم کا کوئی مسئلہ ہوتا اور ووٹنگ کی باری آتی تو سندھ کے دوممبر ہو جاتے ، ذرائع کے مطابق اس ایگزیکٹو آرڈر کو بعد میں قومی اسمبلی سے منظور کر کے قانون نہیں بنایا گیا۔ ارسا کے قانون کے مطابق وفاق کے نمائندے کی سیٹ خالی ہونے کی صورت میں فلڈ کمیشن کا چیئرمین وفاق کی طرف سے عارضی طور پر ممبر ارسا ہو سکتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں جب اکتوبر 2012 ءمیں وفاق کے نمائندے کی نشست خالی ہوئی تواس پر تعیناتی کیلئے ارسا نے وزارت پانی و بجلی کوبذریعہ خط اس نشست پر تعیناتی کے حوالے آگاہ کیا جس کے بعد واپڈا کے آبی ماہر اور پانی کے معالات پر طویل تجربے کے حامل مشتاق احمد کا نام منظور کر کے سمری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن بھیج دی اور وہاں سے منظوری کے بعد فائل ووزیر اعظم سیکرٹریٹ میں گئی جس کے بعد آج تک وہ فائل سامنے نہیں اور تعیناتی کا معاملات چھ ماہ سے التواءمیں چلا رہا ہے ، اس حوالے سے ملک بھر کے آبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ارسا جیسے اہم ادارے پر 6 ماہ سے وفاق کا نمائندہ تعینات نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے جس سے صوبوں کے درمیان پانی کا تنازع مزید الجھ سکتا ہے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...