سانحہ بادامی باغ:سپریم کورٹ نے کیس نمٹا دیا,پولیس نے ناکامی تسلیم کر لی

سانحہ بادامی باغ:سپریم کورٹ نے کیس نمٹا دیا,پولیس نے ناکامی تسلیم کر لی
سانحہ بادامی باغ:سپریم کورٹ نے کیس نمٹا دیا,پولیس نے ناکامی تسلیم کر لی

  


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے سانحہ بادامی باغ پر لیا گیا ازخودنوٹس نمٹا دیا۔ پولیس حکام نے اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے ایک ایس پی سمیت تین اہلکاروں کے خلاف کاروائی کی رپورٹ جمع کرادی۔چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے مقدمے کی سماعت کی۔ عدالت کو پراسیکیوٹر پنجاب حنیف کھٹانہ نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم ساون مسیح کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ درج کرکے چالان پیش کردیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سانحہ بادامی باغ میں ملوث ملزمان کی نشاندہی ہوگئی ہے ، 55افراد کے خلاف چالان پیش کیا گیا جبکہ ناکامی پر علاقہ ایس ایچ اور کو ہٹا دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایس ایچ او کی کیا حیثیت ہے، پولیس شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوگئی جب مشتعل ہجوم آیا تو پولیس والے گودام میں چھپ گئے۔ پراسیکیوٹر پنجاب نے کہاکہ لوگ مشتعل اور جذباتی تھے اگر پولیس کارروائی کرتی اور کوئی مرجاتا تو ملک بھر میں احتجاجی تحریک پھیلنے کا خطرہ تھا یہ درست ہوا یا غلط مگر ہوگیا، پولیس نے ذمہ دار ی کا مظاہر ہ نہیں کیا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ مشتعل لوگوں کو قابو کرنے کے اور بھی طریقے ہیں لوگوں کو مارنا ضروری نہیں ہوتا۔ جسٹس عظمت نے کہاکہ یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ حکومت نے اقلیت کے تحفظ کیلئے کچھ نہیں کرنا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آئین کے تحت سارے شہری برابر ہیں، سب کو تحفظ فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ عدالت کو آئی جی پنجاب آفتاب سلطان نے بتایا کہ تفتیش کی رپورٹ کا ہر پہلو سے جائزہ لیا ہے، ایس ایچ او، ڈیس ایس پی اور ایس پی پر ذمہ داری عائد کی گئی ہے، یہ پولیس کی ناکامی ہے اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی کررہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ان اہلکاروں کے خلاف فوجداری کارروائی بھی ہونی چاہئے۔عدالت نے ازخود نوٹس کو نمٹاتے ہوئے حکم دیا کہ ٹرائل کورٹ سپریم کورٹ کی کارروائی سے متاثرہوئے بغیرملزمان کے خلاف مقدمہ سنے اور فیصلہ کرے۔

مزید : اسلام آباد /اہم خبریں


loading...