مشرف پاکستان میں ہے کسی نے کارروائی کرنی ہے توکرے ،ہر کام عدالت نے تو نہیں کرنا:چیف جسٹس

مشرف پاکستان میں ہے کسی نے کارروائی کرنی ہے توکرے ،ہر کام عدالت نے تو نہیں ...
مشرف پاکستان میں ہے کسی نے کارروائی کرنی ہے توکرے ،ہر کام عدالت نے تو نہیں کرنا:چیف جسٹس

  


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے حکومت سے اڈیالہ جیل کے لاپتہ قیدیوں سے متعلق رپورٹ طلب کر لی۔ عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو جواب میں درستی کر کے آٹھ اپریل تک جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اڈیالہ جیل کے لاپتا قیدیوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ پروفیسر ابراہیم کے وکیل غلام نبی نے حساس اداروں کی رپورٹ پر تحریری جواب جمع کروایا جس میں کہا گیا ایک ٹیلی فون پر ملک کو دہشت گردی میں جھونک دیا گیا۔پرویز مشرف ملک کا سب سے بڑا شرپسند ہے ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قیدی جیل میں پڑے ہیں اور ہم اس قسم کی درخواستیں سن رہے ہیں۔ مشرف کے خلاف کارروائی کرنی ہے توکریں وہ پاکستان میں ہے ۔ ہر کام عدالت نے تو نہیں کرنا۔خفیہ ایجنسیوں کے وکیل راجا ارشاد نے بتایا کہ ان افراد کو تحویل میں رکھنے کا نوٹیفکیشکن واپس لے لیا گیا ہے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ رپورٹ توعدالت کو نہیں ملی،حراستی مراکز میں رکھے قیدیوں کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیوں نہیں کیا گیا،یہ سلسلہ آخر کب تک چلے گا؟ اگر قیدی گھر نہیں گئے تو کیس کو کیسے چھوڑ دیں۔عدالت نے لاپتہ قیدیوں کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت آٹھ اپریل تک ملتوی کر دی۔

مزید : اسلام آباد /اہم خبریں


loading...