سعودی،یمن تنازعہ :پاکستان و ترکی کو ثالثی کردار ادا کرنا چاہیے

سعودی،یمن تنازعہ :پاکستان و ترکی کو ثالثی کردار ادا کرنا چاہیے

  

 جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے حرمین شریفین کی حفاظت کرنا مسلم اقوام کی ذمہ داری ہے، لیکن سعودی عرب میں فوج بھیجنے کی بجائے پاکستان اور ترکی کو ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہئے۔ خلیج میں جنگ مسلط کرنے سے اسرائیل اور امریکہ سمیت یہودی قوتوں کو فائدہ ہوگا اور انکے اسلحہ و بارود کے کارخانے چلیں گے۔ میاں نوازشریف اور ترک وزیراعظم اہلیت رکھتے ہیں وہ یمن کے مسئلہ کو حل کروانے میں ثالثی کا کردار ادا کریں۔امیر جماعۃ الدعوہ پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ حرمین الشریفین کا تحفظ صرف سعودی عرب ہی نہیں، بلکہ پورے عالم اسلام کی حفاظت ہے۔ پاکستان نے حرمین کے دفاع اور سعودی عرب کی مدد کے لئے جو فیصلہ کیا ہے وطن عزیز کے تمام طبقے اس فیصلے کواپنے دل کی آواز سمجھتے ہیں۔ پاکستانی مسلمانوں کے یہ جذبات ہیں کہ وہ حرمین الشریفین کے تحفظ کے لئے اپنے بیٹے ،جانیں اورمال سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔ یمن کی موجودہ صورتحال اسلام دشمن قوتوں کی خوفناک سازشوں کا نتیجہ ہے۔ صلیبیوں و یہودیوں کی کوشش ہے کہ امت مسلمہ کے روحانی مرکز کو نقصان پہنچانے کے لئے یمن کو استعمال کیا جائے۔ اس لئے وہاں باغیوں کی مدد کی گئی اور حکومت پر قبضہ کروایا گیا۔ حرمین الشریفین کا تحفظ مسلمانوں کا دینی و ملی فریضہ ہے۔عالم اسلام کو جمع ہو کراپنا محاسبہ کرنا چاہئے اورسب کو متحد ہوکر سرزمین حرمین الشریفین کا تحفظ اپنا دینی فریضہ سمجھ کرادا کرنا چاہیے۔ پاکستان کی حکومت نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اسلامی تعاون کی تنظیم او آئی سی سے یمن میں تصادم کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ’’اس بحران کے فوری حل، امن کے فروغ اور مسلم اْمّہ کے اتحاد کے لئے وزیر اعظم برادر ملکوں کی قیادت کے ساتھ رابطہ کریں گے۔‘‘ ستاون رکنی او آئی سی میں پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکی، ملائیشیا اور ایران کا غلبہ ہے، لہٰذا اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے پاکستان اور ترکی بہتر انداز میں مسئلہ کا حل تلاش کر سکتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا یمن میں فرقہ وارایت کی بنیاد پر فساد ہو رہا ہے ؟ ہرگز نہیں 133 وہاں تو مفادات حقوق اور مطالبات کے نام پر فساد ہو رہا ہے ۔حوثی باغیوں کو شیعہ قرار دینے والے ذرا ان کے متعلق شیعہ اکابرین مجتہدین اور مفتیان عظام سے فتویٰ اور رائے طلب کرکے دیکھیں تو انہیں لگ پتہ جائے گا کہ شیعہ اکابرین اور مجتہدین یمن کے ’’حوثیوں’’ کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟ کیا لیڈروں اور سیاست دانوں نے پاکستان میں بسنے والے کروڑوں سنیوں اور شیعوں کو بیوقوف سمجھ رکھا ہے کہ وہ حوثیوں کی وجہ سے پاکستان میں آپس میں لڑ پڑیں گے۔ یہ باغی جن کا بڑا حصہ حوثیوں پر مشتمل ہے اس وقت آدھے سے زیادہ یمن پر قابض ہو چکے ہیں، جن کی پشت پناہی ایران کر رہا ہے۔ اب اس جنگ میں سعودی عرب اور اس کے اتحادی، جن میں بحرین، قطر، کویت اور عرب امارات کے علاوہ مصر، اردن، مراکو اور سوڈان بھی شامل ہیں اس وقت یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف برسرِپیکار ہیں۔دیکھنا یہ ہے یہ خانہ جنگی جو انقلاب کے نعرے کے ساتھ یمن کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے، آیا اس کا مقصد صرف یمن کا اقتدار ہے؟ یا پھر یہ گریٹر اسرائیل، گریٹر ایران کا ایجنڈا ہے اور اس کے پیچھے دنیا کی واحد سپرپاور کی دونوں فریقوں کو تھپکی ہے۔ جو کب سے مشرقِ وسطیٰ میں کھیل رہا ہے۔ برسوں عراق اور ایران میں جنگ برپا کرانے، بعدازاں کویت اور عراق کے درمیان جنگی ماحول اور اس کے بعد عرب دنیا کی سب سے بڑی طاقت عراق کو تباہ و برباد کر کے، اس ملک کو فرقوں اور مسلکی گروپوں میں تقسیم کر کے اسے ہمیشہ کے لئے فرقہ وارانہ فساد کے حوالے کرنے سے لے کر لیبیا، شام، تیونس اور مصر کے امن کو تباہ کرنے تک، اگر بنظرِ غائر جائزہ لیا جائے تو اس کے پیچھے بہت بڑی گیم دکھائی دیتی ہے۔ مغرب جانتا ہے مسلمانوں کو صرف مسلمانوں کے ذریعے ہی ختم کروایا جا سکتا ہے کہ یہ وہ فارمولا ہے جو ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا آئے کے مصداق سب سے زیادہ قابل عمل، محفوظ اور کامیاب ہے، چنانچہ ان میں مذہب، مسلک اور فرقہ وارانہ فساد برپا کر کے انہیں ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنا دو اور خود دونوں گروپوں کی پشت پر کھڑے ہو کر انہیں ششکارتے جاؤ، تاکہ وہ پیچھے ہٹ ہی نہ سکیں۔ اس فارمولے کے تحت امریکہ و اسرائیل، عراق، لیبیا، شام، مصر اور تیونس کو تو تباہ کر ہی چکا اب دیگران کی باری ہے۔

مزید :

کالم -