آم کی بھرپور پیداوار کیلئے محکمانہ سفارشات عمل کیا جائے، محکمہ زراعت

آم کی بھرپور پیداوار کیلئے محکمانہ سفارشات عمل کیا جائے، محکمہ زراعت

  

لاہور(اے پی پی )آم کی بھرپور پیداوار کیلئے باغبان پھل بننے کے مرحلہ پر بیماریوں اور مختلف ضرر رساں کیڑوں سے تحفظ کے لیے محکمانہ سفارشات عمل کریں ، محکمہ زراعت پنجاب ترجمان کے مطابق پھل کی تیاری تک قدرتی آفات مثلاً ژالہ باری ، آندھی اور طوفانی بارش جیسے عوامل کو نکال دیا جائے تو یقیناًامسال آم کی بھر پور پیداوار کی توقع کی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ آم کی اس شانداربارآوری کوبرداشت تک لانے کیلئے بٹور کی کٹائی جلد مکمل کی جائے کیونکہ اگر کسی وجہ سے تاخیر ہو جائے تو پیداوار میں خاطر خواہ کمی ہو جاتی ہے ۔ بٹور سے متاثرہ شاخ کو تقریباً 1 فٹ سے لیکر 2 فٹ نیچے تک کاٹا جائے اور کٹائی کے بعد سرائیت پذیر پھپھوند کش زہر کا سپرے کر دیا جائے۔ مشاہدہ سے پتہ چلاکہ باغبان حضرات پھول نکلنے کے مرحلہ سے لیکر پھل مٹر کے دانے کے برابر بننے تک آم کے باغ میں آبپاشی سے اجتناب کرتے ہیں۔جو کہ ایک غلط عمل ہے۔

جس سے صحت مند پھول نکلنے اور پھل بننے کا عمل متاثر ہوتا ہے، وسط اپریل کے بعد آم کے باغات میں جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیے ہل اور گوڈی کرنے سے اجتناب کیا جائے۔ البتہ اس دوران ویڈ سلیشر کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔تاکہ گھاس اور جڑی بوٹیوں کوبطور ملچ بنا کر زمین سے حرارت اور پانی کے بخارات کی شکل میں ضائع ہونے کے عمل کو روکا جا سکے ،باغبان جو کہ آم برآمد کرنے کے لیے بعدازبرداشت ان بیماریوں کے تدارک کے لیے ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ کرتے ہیں ۔ان سے گزارش ہے کہ وہ ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ میں وہ زہر استعمال نہ کریں جو پہلے سپرے کے طور پر استعمال کیا جا چکا ہو۔ماہرین کاکہناہے کہ گرے ہوئے پھل کی تلفی، جنسی پھندے اورزہریلے کچلے کا استعمال خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔یہ تمام عوامل اپریل کے آخرہفتے سے شروع کر دینے چاہیئے۔

*

مزید :

کامرس -