پلوامہ‘ بھارتی فورسزکا ایک ہفتے کے میں تیسرا چھاپہ‘ 15افراد کوگرفتارکرلیا

پلوامہ‘ بھارتی فورسزکا ایک ہفتے کے میں تیسرا چھاپہ‘ 15افراد کوگرفتارکرلیا

  

سرینگر(این این آئی) مقبوضہ کشمیر میں ضلع پلوامہ کے علاقے آری ہل میں بھارتی فورسز نے گزشتہ ایک ہفتے کے میں تیسری بار رات کے دوران چھاپوں میں ایک65سالہ شہری سمیت مزید 15افراد کوگرفتار کیاہے۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق اس طرح گزشتہ ایک ہفتے کے دوران علاقے سے گرفتار کئے گئے نوجوانوں کی تعداد 40سے زیادہ ہوگئی ہے اور گرفتار افراد پر بھارتی فورسز پر پتھراؤ کا الزام لگایا جارہا ہے۔ بھاتی فورسز نے آری ہل گاؤں کو تیسری بار محاصرے میں لیکر مکانوں پر چھاپے مارے اورمزید15نوجوانوں کو گرفتارکیاجن میں ایک65سالہ شہری بھی شامل ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا کہ پولیس نے علاقے کے مکینوں کو ہرساں کیا اور چھاپوں کے دوران نہ صرف لوگوں کو تشدد کانشانہ بنایا بلکہ گھریلو سامان کی توڑ پھوڑ بھی کی۔اس سے قبل 22اور23 اور29 اور 30مارچ کی درمیانی راتوں کو چھاپوں میں 14اور 2 1نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ضلع پلوامہ میں گزشتہ کئی دنوں سے بھاتی پارلیمنٹ کے نام نہاد ضمنی انتخابات کے پیش نظر چھاپہ مارکارروائیو ں کا سلسلہ وسیع پیمانے پر جاری ہے اور ضلع کے مختلف علاقوں سے200سے زائد نوجوانوں گرفتار کیاجاچکا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گرفتار کئے گئے افراد میں سے کوئی پتھراؤ میں ملوث نہیں ہے ۔ دریں اثناء 2016ء کی عوام احتجاجی تحریک کے دوران گرفتار کئے گئے5 معصوم کشمیری نوجوانوں پرلاگو کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کو عدالت عالیہ نے کاالعدم قراردیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا حکم دیا ہے۔۔ عدالت عالیہ کے سینئرجج صاحبان جسٹس محمدیعقوب میر،جسٹس بی ایس والیہ اورجسٹس جنک راج کوتوال نے ایڈوکیٹ میاں قیوم اورایڈوکیٹ ناصرقادری کی جانب سے پیش کردہ دلائل کودرست مانتے ہوئے پانچوں کی نظر بندی کو غیر قانونی قراردیا۔ عدالت عالیہ نے سوپور سے تعلق رکھنے والے عبدالغنی ڈار اورمعراج الدین میر،بانڈی پورہ کے ظہوراحمدڈار، بڈگام کے ارشاداحمدپال اورصورہ سرینگر کے طاہراحمدڈارپرلاگوپبلک سیفٹی ایکٹ کوکالعدم قراردیتے ہوئے اْنکی رہائی کا حکم دیا۔

مزید :

عالمی منظر -