زرداری کی بڑھکیں اور عمران کی خصوصی ملاقات

زرداری کی بڑھکیں اور عمران کی خصوصی ملاقات
 زرداری کی بڑھکیں اور عمران کی خصوصی ملاقات

  



ڈاکٹر عاصم کی تمام مقدمات میں ضمانت ہو گئی اور وہ جیل سے رہا کر دیئے گئے۔ ایک عرصے بعد پیپلزپارٹی (پارلیمنیٹرین) کے صدر آصف علی زرداری کو خوشخبری ملی تو انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عاصم نے جرأت اور ثابت قدمی سے ساری صورتِ حال کا سامنا کیا، بے بنیاد مقدمات میں ان کی ضمانت پر رہائی سے انتقامی سیاست کو شکست ہوئی ہے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی اپنے انکل کی جیل سے رہائی پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اُنہیں تخت رائیونڈ کا ’’قیدی‘‘ قرار دیا اور کہا ہے کہ ڈاکٹر عاصم نے بڑی بہادری سے جیل کاٹی، حالانکہ اُن کی جسمانی صحت ٹھیک نہیں۔انہوں نے بڑے مشکل حالات میں خندہ پیشانی سے ضمانت ہونے کا انتظار کیا، جھوٹے اور خود ساختہ مقدمات کا انہوں نے کوئی ڈر اور خوف محسوس نہیں کیا۔ آصف علی زرداری اور ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری کے لئے یہ پہلی ایسی خوشخبری ہے، جس پر دونوں باپ بیٹا کھل کر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ خاص طور پر آصف علی زرداری نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران جو ’’بڑھک بازی‘‘ کی، اسے دیکھتے ہوئے امکان ہے کہ اب وہ ذرا مزید کھل کر بڑھکیں لگائیں گے۔ سیاسی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ جب کسی سیاست دان اور پارٹی رہنما کے پاس ’’کام کے پتے‘‘ نہ ہوں تو وہ آصف علی زرداری کا اندازِ گفتگو اختیار کر کے بظاہر اپنے جارحانہ انداز کو ’’کیش‘‘ کروایا کرتا ہے۔وہ اپنے ہاتھ میں ’’زبردست پتے‘‘ ظاہر کر کے مصنوعی دھاک بٹھانے کی کوشش کیا کرتا ہے۔

آصف علی زرداری کی بڑھکیں تو اسی دن سے شروع ہو گئی تھیں، جب سندھ کابینہ کے رکن شرجیل میمن نے وطن واپسی کی ایئر ٹکٹس خریدنے کا اعلان کیا تھا۔ زرداری صاحب نے پچھلے چند ہفتوں میں جو بڑھکیں لگائیں، وہ کچھ یوں تھیں۔۔۔ پنجاب کو دوبارہ پیپلزپارٹی کا گڑھ بنائیں گے۔ صرف پنجاب نہیں پورا پاکستان واپس لیں گے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئندہ پنجاب اور وفاق میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہو گی۔ ایسے لگتا ہے کہ آصف علی زرداری اپنی دُنیا (جسے یار لوگ ’’خوابوں کی دُنیا‘‘ کہتے ہیں) میں مگن اور مست ہیں۔ پنجاب کو واپس لینے اور بعض سیاسی جماعتوں کے کچھ رہنماؤں کو پیپلزپارٹی میں لانے کے دعوے کے ساتھ وہ اسلام آباد اور لاہور میں قسمت آزمائی کے بعد بلوچستان میں بھی پڑاؤ ڈالنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لاہور اور اسلام آباد میں ان کی سرگرمیاں مختلف علاقوں کے عہدیداروں سے ملاقاتوں تک محدود رہیں۔ پارٹی کارکن جب ’’ایک زرداری، سب پر بھاری‘‘ کا نعرہ لگاتے تو جواب میں وہ ہَوائی بوسوں کی بارش کرتے دکھائی دیتے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ فی الحال زرداری صاحب کا موجودہ سیاسی سفر، بڑھکوں سے ہَوائی بوسوں تک پہنچا ہے۔ اُن کی بڑھکوں نے ابھی تک کسی سیاسی جماعت کی گاڑی پر کوئی ڈینٹ نہیں ڈالا، نہ ہی خوفزدہ ہو کر کوئی سیاسی رہنما پیپلزپارٹی میں شامل ہُوا ہے۔ ان کی بڑھکیں بھی خوب ہیں، مثلاً پارٹی کارکن الیکشن لڑنے کے لئے تیار ہیں۔مَیں اور بلاول ہی نہیں، آصفہ اور بختاور بھی میدان میں اُتریں گی۔ جب ہم الیکشن لڑیں گے تو ’’ان‘‘ کو پتہ چلے گا کہ الیکشن کس کو کہتے ہیں اور الیکشن کیسے لڑا جاتا ہے۔ 2013ء کے الیکشن میں ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ویسے بھی وہ آر، اوز والے الیکشن تھے۔ ہم وہ الیکشن ہار گئے تھے۔ اب ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے نہیں ہیں۔ اگلے الیکشن میں جیت ہماری ہو گی۔ جب بی بی لاہور آیا کرتی تھیں تو سارا لاہور بند ہو جایا کرتا تھا، اب جب ہم میدان میں نکلیں گے تو اب ایک بار پھر سارا شہر (لاہور) بند ہو جائے گا۔ وغیرہ وغیرہ۔

آصف علی زرداری کی بڑھکیں سُن کر ہمیں سابق شیر پنجاب ملک غلام مصطفےٰ گھر یاد آ گئے تھے۔ طویل جلا وطنی کے بعد جب وہ لندن سے وطن واپس آنے والے تھے تو ان کے دوستوں نے (کارکن تو موجود نہیں تھے) ایک نعرہ ایجاد کیا تھا کہ ’’کھر جدوں آوے گا، تے لگ پتہ جاوے گا‘‘۔ مصطفےٰ کھر کے امیج کے حوالے سے یہ نعرہ خاصا مقبول ہُوا تھا۔ تہمینہ درانی اُس زمانے میں کھر صاحب کے نکاح میں اور خاصی متحرک تھیں، خاص طور پر ایجنسیوں کے ساتھ وہ سارے معاملات طے کیا کرتی تھیں۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ جس طرح1971ء میں سقوط ڈھاکہ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو وطن واپس آئے تھے تو مشرقی پاکستان کے سانحہ سے نڈھال پاکستانی قوم کو اُن کے اقتدار سنبھالنے سے بڑا حوصلہ ملا تھا۔اِسی طرح مصطفےٰ کھر بھی واپس آ کر پنجاب میں کوئی بڑا کردار ادا کریں گے۔ ویسے بھی اُن دِنوں غلام مصطفےٰ جتوئی اقتدار کی سیاست میں ’’اِن‘‘ تھے اور جتوئی صاحب سے مصطفےٰ کھر کی بڑی یاری تھی۔ جتوئی صاحب اُنہیں اپنے جوہر دکھانے کے لئے کوئی چانس دے سکتے تھے۔افسوس، مصطفےٰ کھر کے واپس آنے پر کچھ نہیں ہُوا۔ بس لوگوں کو پتہ چل گیا کہ مصطفےٰ کھر چلے ہوئے کارتوس ہیں، ان کے پاس کوئی ایسا ’’پتا‘‘ بھی نہیں کہ وہ کوئی کمال دکھا سکیں۔وطن واپسی پر کھر صاحب کچھ ایسے ’’ایکسپوز‘‘ ہوئے کہ تین عشرے گزر چکے ہیں، وہ ڈوبنے کے بعد کئی سیاسی پارٹیوں کے ’’مہاجر‘‘ ہو کر بھی کسی جگہ اُبھر نہیں سکے۔ ان کا سیاسی کردار ٹھس ہو کر رہ گیا ہے۔

زرداری صاحب کی بڑھکوں کا ذکر ہو رہا تھا ایسے لگتا ہے کہ آصف علی زرداری نے ایک طرف امریکہ میں مسلسل کئی ماہ تک کوشش کر کے ایک دو سینیٹروں اور یورپی یونین کے ایک آدھ ممبر سے قربت کا شرف حاصل کیا تھا، اسی کو کیش کروا کر یہ فرض کئے بیٹھے ہیں کہ اگلے الیکشن میں پیپلزپارٹی ہی برسر اقتدار آئے گی۔ وہ پانامہ لیکس کے فیصلے سے بھی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ میاں نواز شریف کی ’’باری‘‘ کے بعد آصف علی زرداری کو ’’مفاہمت فارمولے‘‘ کے تحت اپنی باری کا چانس دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ کسی نئے سیاسی اتحاد(جس کی کچھ اہمیت بھی ہو) سے بھی انہیں کوئی مدد ملتی نظر آ رہی ہے۔ چند چھوٹی جماعتوں کے اتحاد کے علاوہ اُنہیں تحریکِ انصاف سے تعاون کی امید نہیں۔عمران خان ابتدا ہی سے خود کو متبادل قیادت قرار دے کر اپنی سولو فلائٹ کے چکر میں ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ وزیراعظم نواز شریف سی پیک کے حوالے سے زبردست اہمیت حاصل کر چکے ہیں۔ چینی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ اگلے پانچ برسوں میں بھی میاں نواز شریف وزیراعظم اور شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب ہوں گے، تو سی پیک کی رفتار اور کامیابی توقع کے مطابق ہو گی۔ وزیراعظم نواز شریف نے 2017-18ء کے لئے ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کرنے کا جو پلان بنا رکھا ہے، اس پر عملدرآمد ہو رہا ہے، لہٰذا عوامی سطح پر بھی اُنہیں مقبولیت بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے، جس سے وہ پُراعتماد ہیں ایسے میں آصف علی زرداری یا عمران خان آئندہ الیکشن میں کوئی خطرہ محسوس نہیں ہو رہے ہیں۔ عمران خان نے بڑی مشکل سے مبارکباد دینے کے لئے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کا وقت لیا ہے۔اِس ملاقات سے کوئی ’’دھماکا‘‘ نہیں ہُوا۔ عام تاثر یہی ہے کہ عمران خان کی آرمی چیف سے ملاقات محض رسمی ملاقات تھی، جس کے لئے بہت کوشش کی گئی اور کئی مہینے انتظار بھی کرنا پڑا۔ سیاسی حلقوں کی رائے ہے کہ وہ اِس ملاقات کو جتنا بڑھا چڑھا کر ’’کیش‘‘ کرانے کی کوشش کریں، وہ متبادل قیادت یا دوسری بڑی پارٹی کے قائد نہیں بن سکیں گے۔آصف علی زرداری کے لئے یہی بہتر ہو گا کہ سندھ میں ایم کیو ایم کی صفوں میں انتشار سے جو ’’ گیپ‘‘ پیدا ہوا ہے،اس میں اپنی پارٹی کے لئے کچھ گنجائش (حکومت پارٹی ہونے کی وجہ سے) نکال لی

مزید : کالم