پاکستان نہیں، بھارت عالمی تنہائی کی طرف گامزن

پاکستان نہیں، بھارت عالمی تنہائی کی طرف گامزن
 پاکستان نہیں، بھارت عالمی تنہائی کی طرف گامزن

  

ہنسی آتی ہے ہمیں دنیا میں تنہا کرنے کا خواب دیکھنے والا بھارت اپنے ہی عوام کو تنہا کئے جا رہا ہے۔ مودی حکومت مسلمانوں پر قہر ڈھائے ہوئے ہے کہیں گائے ذبح کرنے پر انتہا پسند ہندو مسلم خاندانوں پر تشدد کی انتہا کئے ہوئے ہیں تو کہیں ’’ گاؤ ماتا‘‘ کا گوشت کھانے پر بھارتی عدالتیں عمر قید کی سزا سنا رہی ہیں۔ کہیں ’’ بندے ماترم‘‘ نہ پڑھنے پر مسلمان کونسلروں کو ان کی اسمبلی سے نکالا جا رہا ہے اور کہیں سید علی گیلانی، میر واعظ، عمر فاروق کو نظر بند جبکہ یاسین ملک کو جیل بند کیا جا رہا ہے۔ یقیناً بھارت کے لئے کوئی شرم کا مقام نہیں، وہ تمام حدیں پھلانگ چکا ہے۔ اکییویں صدی کے اس جدید ترین دور میں بھارتی جہالت پوری دنیا پر عیاں ہو رہی ہے۔ نریندر مودی اگر ’’ ہندو پنڈت‘‘ ہوتے تو شاید اقوامِ عالم ان کے رجعت پسندانہ اور سنگدلانہ اقدامات پر کان نہ دھرتی مگر وہ بھارت جیسی ایک بڑی سلطنت کے وزیر اعظم ہیں، اس لئے دنیا خوب جان رہی ہے کہ نریندر مودی کس دورِ جہالت کی پیداوار ہیں اور اتنی بڑی سلطنت کو کس اندھیر نگری میں لے جا رہے ہیں؟

ایک وقت تھا جب ہماری بدقسمتیوں اور بھارتی خوش بختیوں کو عروج حاصل تھا ہمیں افغان جنگ میں مبتلا کر دیا گیا تھا، سری لنکن ٹیم پر حملہ کر کے ہمیں دنیا میں تنہا کرنے کی ’’ تڑی‘‘ لگائی گئی تھی جارج بش ہمیں پتھر کے زمانے میں لے جانے کی دھمکیاں دے رہا تھا اور ہمارے پاس کوئی ایسی قیادت نہ تھی جو بھارت یا امریکہ کو کسی بھی دھمکی یا ’’ تڑی‘‘ کا جواب اینٹ کے مقابل پتھر سے دیتی، مگر آج پہلے والی صورتِ حال نہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ کے فورم پر بھارتی حیوانیت کا کچا چھٹا کھول دیا ہے۔ دنیا آگاہ ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں کس درندگی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور اب کشمیر کے علاوہ بھارت کے دیگر علاقوں میں بسنے والے مسلمانوں کے ساتھ کس بے ہودگی اور بربریت پر اترا ہوا ہے۔ دنیا یہ بھی جانتی ہے کہ بھارت میں بسنے والے سکھوں کی اکثریت اپنا الگ وطن چاہتی ہے۔ ایک موقع پر ان کی خالصتان تحریک کو مات ہوئی تھی لیکن اس تحریک میں کسی بھی وقت جان پڑ سکتی ہے اور بھارت کا شیرازہ بکھر سکتا ہے۔پاکستانی قوم کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ بھارت کے عزائم کیا ہیں اور مودی حکومت کِس قدر مسلمانوں سمیت بھارت میں بسنے والے دیگر مذاہب یا اقلیتوں سے نفرت کرتی ہے۔

اِدھر پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف دو ٹوک انداز میں کہہ رہے ہیں کہ ہمیں دنیا میں تنہا کرنے کے خواب دیکھنا دشمن کی خام خیالی ہے۔ عالمی برادری پاکستان کی اہمیت کو سمجھتی ہے اور امن و استحکام کے لئے ہماری کوششوں، قربانیوں کی معترف ہے۔ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کا یہ کہنا بھی سو فیصد درست ہے کہ چین، برطانیہ سمیت دنیا کے 10 ممالک کی طرف سے ’’پاک آرمی ٹیم اسپرٹ مقابلہ‘‘ میں شرکت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہم تنہا تھے نہ تنہا ہیں۔ دوسری جانب اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کا بھی کہنا ہے کہ پاکستان کو سفارتی سطح پر ’’ تنہا‘‘ کرنے کی کوشش کرنے والا بھارت خود تنہائی کا شکار ہو جائے گا۔ لودھی نے نیو یارک میں طلباء کو بھارت کا اصل چہرہ دکھاتے ہوئے کہا کہ بھارت کی پاکستان کے خلاف تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ بھارت نے ہٹ دھرمی کی بناء پر پاکستان سے جامع مذاکرات معطل کر کے تعلقات خراب کئے، ملیحہ لودھی نے نیو یارک کے طلبا کو پاکستان کے عظیم منصوبہ سی پیک کے بارے تفصیل سے سمجھایا اور کہا کہ چین کا ’’ ویژن‘‘ ایک بیلٹ، ایک شاہراہ آنے والے وقتوں میں امن و استحکام کا باعث بنے گا۔

کوئی شک نہیں کہ کل بھی ہم دنیا کے ساتھ تھے اور آج بھی اقوامِ عالم ہمارے ساتھ ہے۔ سب جانتے ہیں کہ ہم نے دہشتگردی کے خلاف کتنی بڑی جنگ لڑی، سبھی آگاہ ہیں کہ تمام نیٹو فورسز اور ان کا لیڈر امریکہ ہمیں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اکیلا چھوڑ کر چلا گیا اور ہم ہمت ہارے بغیر، کسی کو مدد کے لئے پکارے بغیر دہشت گردی کے خلاف نبرد آزما رہے۔ دنیا اس بات کی بھی قائل ہے کہ کیسے ہم نے اس بڑی جنگ کے ساتھ ساتھ اپنی گرتی ساکھ اورمعیشت کو سنبھالا دیا اور کیسے آمریت کے پنجے توڑ کر گزشتہ 9سال سے اپنے ملک میں مسلسل جمہوریت کو فروغ دیا۔ ہم مختصر، بے بس جمہوریتوں اور لمبی آمریتوں کے نرغے میں تھے، آئے دن کی کمزور سیاسی حکومتوں اور مضبوط آمریتوں نے ہمارے سماجی، سیاسی، معاشی، معاشرتی ڈھانچے پر کاری ضربیں لگائی تھیں لیکن آج نہ صرف ہمارے ہاں مضبوط جمہوریت ہے بلکہ جمہوری نظام عوام کو ’’ ڈیلیور‘‘ کرنے کی پوزیشن میں بھی آ گیا ہے۔ دنیا اس بات سے بھی آگاہ ہے کہ ہم کرپشن، کک بیکس اور کمیشن کے ’’ ماسٹر‘‘ مانے جاتے تھے مگر آج نہ صرف ان برائیوں پر کافی حد تک قابو پا چکے ہیں بلکہ دنیا کی 23 ویں مضبوط معیشت کے طور ابھرے ہیں۔ وزیراعظم نوازشریف کے مضبوط اعصاب اور اٹل فیصلوں کے باعث نہ صرف ہم کرکٹ کی دنیا میں واپس آئے ہیں بلکہ آج کی دنیا ہم سے کھیلنے کے ساتھ ساتھ سی پیک تک شراکت داری چاہتی ہے۔ کون نہیں جانتا کہ ان شراکت داریوں کے پیچھے نواز حکومت کی انتھک محنت شامل ہے۔ دنیا کو ہم باور کرا چکے ہیں کہ پاکستان ایسا ملک ہے جو لاکھ دہشت گردیوں کے باوجود نہ صرف آگے بڑھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے بلکہ یہاں تمام اقلیتوں کو جینے کا اتنا ہی حق ہے جتنا اکثریت کو۔ کوئی لاکھ نوازشریف کو ’’سیکولر‘‘ہونے کا طعنہ دے مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ وزیراعظم پاکستان پوری طرح روشن خیال ہیں اور قائداعظم محمد علی جناحؒ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے پاکستان میں موجود اقلیتوں کے ہر طرح کے حقوق اور تحفظ کے ضامن ہیں۔ دوسری جانب کٹڑ پن کا شکار نریندر مودی اور اس کا رجعت پسند، بدبودار بھارت ہے جہاں اقلیتوں کے لئے جینے کی راہیں مسدود کی جا رہی ہیں۔ مسلمانوں، سکھوں، پارسیوں، دلتوں اور بدھ متوں کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ مودی سرکار اور شیوسینا جیسی وحشی ہندو جماعت نہ صرف اقلیتوں کا جینا حرام کئے ہوئے ہیں بلکہ سب کی مذہبی آزادی بھی چھین رہی ہے۔ مقبوضہ وادی میں بھارتی افواج جس بربریت کا مظاہرہ کر رہی ہیں وہ اقوام عالم کی آنکھ سے اوجھل نہیں۔ یہ اکیسیویں صدی ہے۔ الیکٹرانک، پرنٹ و سوشل میڈیا زمانے بھر کی ایک ایک خبر اور واقعہ کو ’’ فائل‘‘ کر رہا ہے۔ آج اگر بعض حکومتیں بھارتی ہٹ دھرمیوں اور حیوانیت پر پردہ ڈال رہی ہیں تو زمانے بھر کے افراد ضرور بھارت کی ذلتوں، اور بے ہودگیوں سے آگاہ ہیں، ہمارے خیال میں یہ سب بھارت کو عالمی تنہائی میں مبتلا کرنے کے لئے کافی ہے۔ یقیناً وہ دن دور نہیں جب اقوام عالم کا ہر فرد نہ صرف بھارتی حکومت کی جہالت پر ہنسے گا بلکہ اپنے شہریوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے پر اس کے منہ پر بھی تھوکے گا۔ شیوسینا کو ذلت نصیب ہو گی اور مودی سرکار اپنے ہاتھوں اپنے ’’مہا بھارت‘‘ کا شیرازہ بکھیر دے گی۔ سو ہندو بابو، ذرا دھیرے چلیئے! تاکہ سب آپ کی چال ڈھال بغور دیکھ لیں۔

مزید :

کالم -