راکھ میں چنگاری

راکھ میں چنگاری
 راکھ میں چنگاری

  

قدرت ہر انسان کو زندگی میں آگے بڑھنے کا کوئی نہ کوئی موقعہ ضرور دیتی ہے۔ اس موقعے سے فائدہ اٹھا کر وہ کامیابیاں حاصل کرتا ہے یا ناکامیاں، اس میں سرا سر اس کی اپنی صلاحیتوں کا قصور ہوتا ہے۔محترمہ بے نظیر بھٹو کی المناک موت کے بعد آصف علی زرداری کو بھی اپنی صلاحیتیں منوانے کا ایک ایسا عظیم موقعہ ملاجو شائد دنیا میں کم ہی لوگوں کو نصیب ہوا۔ایک مقبول عوامی پارٹی کی سربراہی،ملک کے سب سے بڑے عہدے پرتعیناتی اور بھٹو کی وراثت کا نایاب اثاثہ، جس کو اگر سنبھال کر رکھا جاتا تو آج یوں بے بسی کی حالت نہ ہوتی بقول مضطر خیر آبادی:

مَیں نہیں ہوں نغمہ جاں فزا، مجھے سن کے کوئی کرے گا کیا

مَیں بڑے بروگ کی ہوں صدا،مَیں بڑے دُکھی کی پکا ر ہوں

ایسا عظیم موقعہ اور ایسی کسمپرسی کہ ملک کی سب سے بڑی جماعت کو بار بار عوامی جلسوں کے اعلانات کرکے منسوخ کرنے پڑتے ہیں کہ مقبولیت کا سارا بھانڈا پھوٹ جائے گا اور اسے دما دم مست قلندر کے نعرے لگا کر راہِ فرار اختیار کرنا پڑتی ہے۔آہ مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی بے بسی یاد آگئی جسے قسمت نے ہندوستان کی بادشاہی سے نوازا تھا اور وہ اسے سنبھال نہ سکا، شائد ایسی ہی کسی بے بسی کے عالم میں اس نے کہا تھا :

بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی

جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی

اب کے جو راہ محبت میں اٹھائی ہے تکلیف

سخت ہوتی ہمیں منزل کبھی ایسی تو نہ تھی

آصف علی زرداری کے ڈائیلاگ بجھی راکھ میں چنگاری ڈھونڈنے کے مترادف ہیں۔ راکھ میں چنگاری نہ ہو تو سوائے آلودگی کے کچھ نہیں ملتا۔وقت بڑا ظالم ہے، اتنی بڑی اور مقبول پارٹی کی کیسی قابل رحم حالت کردی۔جب میدان آپ کے پاس موجود ہو اور آپ نے ناکارہ ہتھیار اٹھا رکھے ہوں، جذبہ فتح ماند پڑ چکا ہو، ساری طاقت منفی راستے پر خرچ کر چکے ہوں اور آپ کی صلاحیتوں کی ساری پرتیں حریفوں پر کھل چکی ہوں تو پھر آپ کے لئے اپنی یقینی شکست پر آنسو بہانے اور رونے دھونے کے اور کوئی چارۂ کار نہیں ہوتا۔ پیپلز پارٹی کے ہر چیلنج اور ہر سیاسی بڑھک کو اب کوئی سنجیدگی سے نہیں لیتا،کیونکہ سب کو اس کی مقبولیت کا اندازہ ہوچکا ہے۔ اس کی قیادت کی صلاحیتیں کھل کر سامنے آ چکیں۔پیپلز پارٹی کی قیادت کو اپنا جائزہ لینا چاہئے۔ یہ موقعہ ہر گز الجھنے کا نہیں۔ڈوبتے ہوئے لوگ ابھرنے کی جدوجہد کرتے ہیں، ایک دوسرے سے لڑائی کا آغاز نہیں۔اگر آپ لڑنے کے لئے نکلنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور حریف پہلے سے تیار ہے تو تب تک لڑائی کا آغاز نہ کرو، جب تک فتح کا سو فیصد یقین نہ ہو۔ جب خامیاں خوبیوں پر بھاری ہوجائیں تو انسان کو حریفوں کو للکارنے کی بجائے سب سے پہلے اپنی اصلاح پر توجہ دینی چائیے ۔جن کی خامیاں حریفوں پر آشکار ہو چکی ہوں،ان کا خوف جاتا رہتا ہے۔پیپلز پارٹی کی قیادت میں اب وہ پہلے والا کرشمہ نہیں رہا۔عوام کا بھی پی پی پی کی قیادت سے ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر والا رومانس نہیں رہا۔موجودہ قیادت ان کا نام تو استعمال کرتی ہے، لیکن کردار کی جھلک بھی پیدا نہیں کر پا رہی، جس کی وجہ سے عوامی پذیرائی سے محروم ہے:

ہو صداقت کے لئے جس دل میں مرنے کی تڑپ

پہلے اپنے پیکر خاکی میں جاں پیدا کرے

آصف علی زرداری نے دبئی میں پُرسکون زندگی گزارتے گزارتے اچانک انگڑائی لی اور حکومت کے آخری سال دبنگ انٹری کے ساتھ داخل ہو کر ہلچل مچا دی۔ وہ اکثر سیاسی اداکار کا لفظ استعمال کرتے ہیں،ان کی موجودہ انٹری مہمان اداکار جیسی لگتی ہے۔حکومت کے آخری سال انہوں نے ڈیشنگ انٹری کیوں دی ہے اور آتے ہی اپنے لئے دبنگ رول چن کر ہوائی قلعے قائم کرنے کیوں شروع کر دئیے ہیں، اس پر غور کرنا لازمی ہے۔پاناما کیس کا فیصلہ جوں جوں قریب آ رہا ہے، حکومت سے زیادہ آصف علی زرداری کے لئے فکر بڑھ رہی ہے کہ انہوں نے اس سے لاتعلق ہو کر اپنا وزن حکومتی پلڑے میں ڈال دیا۔ان کی فرینڈلی پالیسی سے اپوزیشن کا میدان عمران خان نے مار لیا، آصف علی زرداری اپوزیشن کے کردار سے پیچھے ہٹ کرحریف سے حلیف بن گئے۔آج وہ بھی مولانا فضل الرحمان، محمود اچکزئی اور دوسرے حکومتی اتحادیوں کی طرح سمجھے جانے لگے ہیں۔ان کی خاموشی کو اپنے ساتھیوں پر مقدمات ختم کرانے کی حکمت سے تعبیر کیاجانے لگا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کی آل پارٹیز کانفرنس کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔میڈیا پر مسلسل تنقید نے ان کی مقبولیت کا گراف گر ا دیا۔

ان کی پارٹی کے نمایاں لیڈروں اعتزاز احسن ، لطیف کھوسہ اور مولا بخش چانڈیو کو ان کی مفاہمت کی پالیسی کے برعکس راہ اختیار کرنے پر ملنے والی پذیرائی نے انہیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ عوامی سوچ کے برعکس سیاست اپوزیشن کے لئے نقصان دہ ہے۔ وہ سمجھ گئے کہ سیاست کے میدان میں خود کو حریف سے بہتر ثابت کرنا ہی کامیابی ہوتی ہے، مگرشائد کافی دیر ہوچکی۔پاناما کیس نے انہیں سوچنے پر مجبور کر دیا کہ مفاہمت کی پالیسی سے پاناما کیس کا جو فیصلہ آ تا ہے، اس میں انہیں کسی قسم کا فائدہ نہیں ہوتا ۔ فتح کا جشن عمران خان منا رہے ہوں گے یا میاں نواز شریف، ان کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ اگر عمران خان کی جیت ہوئی تو آصف علی زرادری کو درپردہ مسلم لیگ (ن) سے مک مکا کا طعنہ دیا جائے گا اور وہ بیٹھے بٹھائے کیس ہار جائیں گے ۔اگر میاں محمد نواز شریف کو کامیابی ملی تو پھر پی پی پی کا پنجاب میں مکمل صفایا ہو جائے گا،سندھ کے کچھ طاقتور امیدوار مسلم لیگ (ن) سے مل جائیں گے اور پی پی پی بہت زیادہ سکڑ جائے گی۔ آصف علی زرداری نے متحرک ہونے میں ہی افادیت جانی اور خوب متحرک ہوئے کہ وہ اپنے اوپر سے مفاہمتی پالیسی کا لیبل بھی ہٹا سکیں اور پارٹی کارکنوں کو بھی دوسری طرف جانے سے روک سکیں۔

 

مزید : کالم