سرکاری ملازمین اور قواعد و ضوابط کی پابندی

سرکاری ملازمین اور قواعد و ضوابط کی پابندی

  

حکومتِ سندھ نے صوبے کے آئی جی پولیس اللہ ڈنو خواجہ کو اُن کے عہدے سے ہٹا کر اُن کی خدمات وفاق کے سپرد کر دی ہیں اور اُن کی جگہ ایڈیشنل آئی جی ریسرچ اینڈ اینلیس سردار عبدالمجید دستی کو آئی جی کا اضافی چارج دے دیا ہے، اِس ضمن میں جاری کردہ نوٹیفکیشن میں اے ڈی خواجہ کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن حکومتِ پاکستان کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، سندھ کی صوبائی حکومت نے ایک خط کے ذریعے اے ڈی خواجہ کی خدمات وفاقی حکومت کے سپرد کرنے کے لئے کہا تھا، لیکن وفاق کے جواب کا انتظار کئے بغیر سندھ حکومت نے خود ہی نوٹیفکیشن جاری کر دیا اِس طرح اب صوبے میں دو آئی جی ہیں، کیونکہ اے ڈی خواجہ نے چارج نہیں چھوڑا اور یہ موقف اختیار کیا ہے کہ وہ وفاقی حکومت کے نوٹیفکیشن تک چارج نہیں چھوڑیں گے۔ دوسری جانب سندھ پولیس کے ترجمان کے دفتر سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق سردار عبدالمجید دستی نے آئی جی کے عہدے کا اضافی چارج سنبھال لیا ہے اور محکمانہ امور کی انجام دہی شروع کر دی ہے، وفاقی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے سندھ حکومت کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ کوئی صوبہ یک طرفہ طور پر فیصلہ نہیں کر سکتا۔ وفاقی حکومت نے وہ تینوں نام بھی مسترد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو صوبائی حکومت نے صوبے کے آئی جی کے عہدے پر تقرر کے لئے وفاقی حکومت کو ارسال کئے تھے۔ موجودہ صورتِ حال پولیس ملازمین کے لئے پریشان کن ہے کہ وہ کون سے آئی جی کا حکم مانیں۔

اے ڈی خواجہ سے سندھ حکومت پہلے بھی خوش نہیں تھی اس وقت وہ اگر آئی جی کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں تو یہ سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر تھا، ورنہ تو وہ بہت پہلے رخصت کر دیئے گئے ہوتے۔ اب یہ سوال بھی زیر بحث آئے گا کہ سندھ ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود کیا سندھ حکومت آئی جی کو یک طرفہ طور پر اُن کے عہدے سے ہٹا کر ان کی خدمات وفاق کے سپرد کر سکتی ہے؟ سرکاری ملازمین اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوں یا چھوٹے عہدوں پر، وہ ریاست کے ملازم ہوتے ہیں۔ وفاقی حکومت کے ملازمین کے تقرر و تبادلے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کرتی ہے اور جہاں مناسب سمجھتی ہے اُن کی خدمات صوبوں کے حوالے کر دیتی ہے۔ اگر کوئی صوبائی حکومت کسی وفاقی ملازم کے بارے میں تحفظات رکھتی ہو تو ان کو دور کرنے کا بھی طریقِ کار موجود ہے اس کے تحت اس تنازع کو حل کرنا چاہئے،لیکن اے ڈی خواجہ کے معاملے میں پہلے بھی اور اب بھی، سندھ کی حکومت نے ایسا طرزِ عمل اختیار کیا ہے جس سے قانون کی منشا پر حرف آتا ہے۔

اے ڈی خواجہ نے کوئی بے ضابطگی نہیں کی تھی، کوئی ایسا غیر قانونی طرزِ عمل اختیار نہیں کیا تھا، جس سے سندھ کی حکومت کو شکایت ہوتی اُن کا تبادلہ اِس لئے کیا گیا تھا کہ سندھ میں ’’شوگر کنگ‘‘ کے نام سے معروف ایک شخص اُن سے خوش نہیں تھا، کیونکہ یہ کنگ چاہتا تھا کہ گنے کے کاشتکار بعض مخصوص مِلّوں کو گنا سپلائی کریں، جس کے لئے ایک پولیس افسر کی خدمات حاصل کی گئیں، جو کاشتکاروں کو گنا مخصوص مِلّوں میں لے جانے کے احکامات جاری کرتے اور اس مقصد کے لئے پولیس کا رعب استعمال کیا جاتا تھا۔ اے ڈی خواجہ نے اس پولیس افسر سے کہا کہ اُن کا یہ کام نہیں ہے، کہ وہ کسی کاشتکار کو مجبور کریں کہ وہ کسی مخصوص مِل یا مِلّوں کو اپنی گنے کی فصل فروخت کریں۔ اے ڈی خواجہ سے یہ بھی شکایت تھی کہ وہ بعض ایسے معاملات میں قانون کے مطابق رویہ اختیار کرتے تھے جن میں حکومت کی مرضی کچھ اور ہوتی تھی اور وہ بعض ’’نان سٹیٹ ایکٹرز‘‘ کے رُعب داب سے متاثر نہیں ہوتے تھے جو سندھ کی ایک اعلیٰ شخصیت کے قریب تھے اور جو شوگر مِلّوں میں اُن کے مفادات کے نگران سمجھے جاتے تھے۔ سندھ کی صوبائی حکومت کو اگر(اس وقت) اے ڈی خواجہ سے کوئی شکایت تھی تو وہ وفاقی حکومت کے نوٹس میں لا سکتی تھی جو اگر ضروری سمجھتی اور شکایت کو درست خیال کرتی تو اے ڈی خواجہ کے خلاف کارروائی کر سکتی تھی، لیکن قانونی راستہ اختیار کرنے کی بجائے ایسا طرزِ عمل اختیار کیا گیا،جس سے مترشح ہوتا تھا کہ سندھ حکومت بااختیار ہے وہ جو چاہے کرے، اسے کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔

حکومت وفاقی ہو یا صوبائی، اس کے لئے قانون اور ضابطے موجود ہیں انہی ضابطوں کے تحت حکومتیں چلتی ہیں اور اگر ان کی خلاف ورزی کی جائے تو لوگ داد رسی کے لئے عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں اِسی لئے عدالتیں درخواست دہندگان کو ریلیف دیتی ہیں کہ حکومتیں ضابطوں کا خیال نہیں رکھتیں۔ سندھ کی صوبائی حکومت نے اگر قانون کی بالادستی کا خیال کیا ہوتا تو لوگ اے ڈی خواجہ کے معاملے کو لے کر سندھ ہائی کورٹ میں نہ جاتے۔ اب اگر سندھ حکومت انہیں دوبارہ ہٹانا چاہتی تھی تو اِس سلسلے میں ہائی کورٹ کو مطلع کرنا ضروری تھا کہ وہ ہائی کورٹ کے حکم کے تحت ہی اس وقت اپنے فرائض ادا کر رہے تھے۔

اب تازہ ترین شکایت کیا پیدا ہوئی ہے جس کی وجہ سے آئی جی کو فوری طور پر عہدے سے الگ کرنا ضروری تھا؟ ایک دن پہلے ہی سندھ حکومت نے وفاقی حکومت کو لکھا تھا کہ خواجہ کی خدمات وفاق واپس لے لے۔ بہتر تھا وفاقی حکومت کے جواب کا انتظار کر لیا جاتا اور معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کر لیا جاتا، ایسی کیا افتاد آ پڑی تھی، جس کی وجہ سے اُنہیں فوری طور پر ہٹانا اور وفاقی حکومت کے ساتھ خواہ مخواہ کا تنازعہ پیدا کرنا ضروری تھا؟ کہا جاتا ہے کہ نیب سے رابطے پر سندھ حکومت اُن سے ناراض ہو گئی اور مزید رابطے روکنے کے لئے یہ قدم اٹھا یا گیا۔اگرچہ یہ کوئی ایسا ’’جرم‘‘ تو نہیں ہے، جس کی وجہ سے صوبائی حکومت ناراض ہوتی،لیکن ایسے محسوس ہوتا ہے کہ سندھ پولیس میں بھرتی کے مسئلے پر آئی جی اور حکومت میں اختلافات ہیں۔ سندھ حکومت کے کرتا دھرتا یا تو یہ نوکریاں جو ہزاروں کی تعداد میں ہیں بیچنا چاہتے ہیں یا پھر برسر اقتدار پارٹی کے سیاست دانوں کے ذریعے ان کی بھرتی کرنا چاہتے ہیں۔ اے ڈی خواجہ اس کی راہ میں رکاوٹ ہیں اور میرٹ کے ذریعے بھرتی چاہتے ہیں وہ پچھلے دِنوں کئی بار کہہ چکے ہیں کہ1861ء کا پولیس ایکٹ جدید دور کے تقاضوں پر پورا نہیں اُترتا اور اگر پولیس کو موثر فورس بنانا ہے تو قوانین کو جدید دور سے ہم آہنگ کرنا ہو گا۔ سندھ حکومت نے2002ء کے پولیس آرڈر کی جگہ دوبارہ1861ء کا پولیس ایکٹ بھی اِس مقصد کے لئے نافذ کر دیا ہے۔

سندھ پولیس کو صوبے میں جو چیلنج در پیش ہیں ان پر وہ اِسی لئے پورا نہیں اُتر پاتی کہ بھرتیاں سیاسی اثرو رسوخ کی بنیاد پر ہوتی رہی ہیں اور حکومت اب بھی ایسا ہی کرنا چاہتی ہے۔ جو لوگ جس کسی کی سفارش پر بھرتی ہوتے ہیں اُسی کے مفادات کے نگہبان بن جاتے ہیں وہ نہ تو پولیس کے ڈسپلن کا خیال رکھتے ہیں اور نہ ہی قوانین کی زیادہ پروا کرتے ہیں وہ سیاسی مقاصد کو ہی پیش نظر رکھتے ہیں۔ اے ڈی خواجہ کے بارے میں عام خیال یہی ہے کہ وہ نئی بھرتیوں کو میرٹ کے مطابق کرنا چاہتے ہیں،جبکہ برسر اقتدار جماعت اپنے سیاسی مفادات کو پیش نظر رکھ رہی ہے۔ اس معاملے نے جو صورت اختیار کر لی ہے وہ قطعاً ناپسندیدہ ہے۔ سرکاری ملازمین کو ریاست کے قوانین کا پابند ہونا چاہئے، حکومتیں اور سیاسی جماعتیں آتی جاتی رہتی ہیں جو مستقل ادارے کام کر رہے ہیں وہاں میرٹ کی حکمرانی ہو گی تو گڈ گورننس قائم ہو سکے گی اگر سیاسی مفادات کے تحت پولیس والوں کو زبردستی گنے کی ٹرالیاں کسی خاص شوگر ملز کو جانے والے راستے کی طرف موڑنے جیسے کاموں کی طرف لگا دیا گیا تو ایسے پولیس والے دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کا کیسے مقابلہ کر سکیں گے اور کس طرح قانون کی بالادستی قائم کریں گے جو ہر ریاستی ادارے کا فرضِ اولین ہے؟

مزید :

اداریہ -