پنجاب ترمیمی ایکٹ کیخلاف کیمسٹوں کا اہل خانہ کے ہمراہ احتجاج

پنجاب ترمیمی ایکٹ کیخلاف کیمسٹوں کا اہل خانہ کے ہمراہ احتجاج

  

لاہور(جنرل رپورٹر)محکمہ صحت نے 85ہزار میڈیکل سٹوروں کے ڈرگ سیلز لائسنس 30جولائی سے منسوخ کرنے کی نوید سنائی ہے یہ ڈرگ لائسنس ڈسپنسرز اور کٹیگری بی کے حامل ڈگری ہولڈر ز کو جاری کئے گئے تھے جنہیں جولائی میں منسوخ کردیا جائے گا جس کے خلاف میڈیکل سٹور فارمیسیوں کے مالکان اور ملازمین اپنے اہل و عیال کے ہمراہ سڑکوں پر آگئے ہیں گزشتہ روز اس کے خلاف پاکستان کیمسٹ ریٹیلرز ایسوسی ایشن نے باقاعدہ طور پر احتجاجی تحریک شروع کردی ہے کیمسٹ پنجاب ترمیمی ایکٹ کے خلاف اہل خانہ کے ہمراہ سڑکوں پر آگئے ہیں گزشتہ روز گلبرگ میں سینکڑوں کیمسٹ اپنے اہل خانہ اور خصوصاً کم سن بچوں کے کے ہمراہ سڑکوں پر نکل آئے انہوں نے رکاوٹیں کھڑی کرکے گلبرگ مین بلیوارڈ بند کردیا اور محکمہ صحت کے خلاف سینہ کوبی کرتے رہے احتجاجی ریلی کی قیا دت پاکستان کیمسٹ ریٹیلرز ایسوسی ایشن کے چئیرمین بابا زادہ اسحاق میو نے کی۔مظاہرے محکمہ صحت کی طرف سے ڈسپنسروں اور فارمیسی ایکٹ کے تحت ڈگریوں پر جاری کئے گئے ڈرگ سیلز لائسنسوں کی منسوخی کے خلاف شروع کئے گئے۔مظاہرہ میں بچوں کی بڑی تعداد شریک تھی اور انہوں نے بھی اپنے والدین کے ہمراہ سینہ کوبی کی اور احتجاجی نعرے لگائے اس موقع پر مظاہریں سے خطاب کرتے ہوئے پی سی آر اے کے چیئرمین اسحاق میو نے کہا کہ سالہا سال سے 60ہزار ڈسپنسروں اور35ہزار کٹیگری بی کے ڈگری ہولڈرز کو ڈرگ سیلز لائسنس جاری کئے گئے تھے اور 85ہزار لوگ ان ڈگریوں پر فامیسیاں اور میڈیکل سٹور چلا رہے ہیں اب محمکہ صحت کی طرف سے سال کی لائسنسوں کی تجدید کی مد میں پورے سال کی فیس وصول کرکے چھ ماہ کی تجدید کی گئی اور کہا جا رہا ہے کہ جولائی میں لائسنس منسوخ کردیئے جائیں گے یہ بات کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہے حکومت یہ ترمیم فوری طور پر واپس لے ورنہ حکمرانوں کو ان کے گھروں سے باہر نہیں نکلنے دیں گے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -