اینٹی وہیکلز لفٹنگ ونگ کے افسران کا ر چوروں کے محافظ

اینٹی وہیکلز لفٹنگ ونگ کے افسران کا ر چوروں کے محافظ

  

لاہور( لیاقت کھرل) صوبائی دارالحکومت کے داخلی و خارجی راستوں پر سخت چیکنگ کے باوجود شہری روزانہ کم و بیش ایک کروڑمالیت کی قیمتی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں سے محروم ہو جاتے ہیں، ذرائع نے بتایا ہے کہ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی وارداتوں میں 50 سے زائد گروہ متحرک ہیں جبکہ صدر ڈویژن میں یہ وارداتیں سب سے زیادہ رونما ہوتی ہیں ۔ ’’ پاکستان‘‘ نے شہر میں پولیس ناکوں، ڈولفن فورس کے مسلسل گشت، داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی کے باوجودگاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی چوری کے حوالے سے ایک تحقیقاتی رپورٹ تیار کی ہے، جس میں وہیکلز لفٹنگ و سنیچنگ کے حوالے سے یومیہ رجسٹرڈ مقدمات کو رپورٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر مامور اہلکاروں کی ملی بھگت سے یومیہ 10 سے 12 گاڑیاں اور 75 سے 80 موٹر سائیکلیں پنجاب کے دور دراز اضلاع باالخصوص راجن پور، ڈیرہ غازی خان اور ڈیرہ اسماعیل خان پہنچتی ہیں جہاں سے انہیں دیگر صوباں میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ اینٹی وہیکلز لفٹنگ و سنیچنگ شعبہ میں ڈیڑھ سو سے زائد ایسے اہلکار تعینات ہیں جن کا کار چوروں سے رابطہ رہتا ہے۔متحرک گروہ میں افغانی گینگ، شہنشاہ گینگ اور ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والا اویس گینگ کئی سالوں سے لاہور میں موجود ہے اور اپنا کام کر رہا ہے ۔رپورٹ کے مطابق سول لائن ڈویژن میں سیفٹی کیمروں کی بدولت کار و موٹر سائیکل چوری کے واقعات میں 65 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق لاہور میں شہنشاہ گروہ ، طارق بابا، ملک زبیر گروہ، ممتاز کار چور گروہ، اویس عرف ایبٹ آباد گروہ اور افغانی گروہ میں شامل کارندے اتنے ایکسپرٹ ہیں کہ وہ واردات کے پانچ منٹ بعد ہی ٹریکر کی طاقت کو ختم کر دیتے ہیں۔ ان گروہوں کے رابطے اور مراکزخیبر پختونخوا میں ہیں۔ان میں سے چند گاڑیاں پولیس بازیاب کرنے میں کامیاب ہو سکی ہے۔ شہنشاہ گروہ کے سرغنہ شہنشاہ کے پانچ بھائی پولیس مقابلے میں مارے جا چکے ہیں اس کے باوجود یہ گروہ لاہور اورجڑواں شہروں میں ابتک متحرک ہے۔ رپورٹ کے مطابق گروہوں کے کارندوں کے موٹر وے اور ہائی وے پٹرولنگ پولیس کے ساتھ بھی تعلقات ہیں۔ سگیاں پل، کالا شاہ کاکو ، راوی پل، سندر ،ٹھوکر نیاز بیگ سمیت تمام داخلی و خارجی ناکوں پر چند اہلکار ان گروہوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔کار لفٹنگ گروہ ناکوں پر تعینات اہلکاروں کو ٹارگٹ سے آگاہ کرتے ہیں،اہلکار انہیں ہوشیاری سے کلیئرنس دلواتے ہیں جس کے بعد یہ گروہ با آسانی لاہور کی حدود سے نکل جانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کار و موٹر سائیکل لفٹنگ کی روک تھام کے لئے قائم اے وی ایل ایس شعبہ گزشتہ ساڑھے چھ ماہ سے سربراہ سے محروم چلا آ رہا ہے۔ اے وی ایل ایس میں سب انسپکٹر اور انسپکٹر رینک کے افسروں کو ڈی ایس پی کے اختیارات دئیے گئے ہیں جبکہ مطلوبہ ٹاسک کو پورا کرنے کے لئے سہولیات کی شدید کمی ہے اور یہی بنیادی وجہ ہے کہ چوری ہونے والی کاریں اور موٹر سائیکلیں با آسانی لاہور سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ اے وی ایل ایس کے افسران کاریں و موٹر سائیکلیں ٹریس نہ ہونے پر زیادہ تر رجسٹر ڈ مقدمات کو عدم پتہ یا پھر اخراجی رپورٹ تیار کر کے افسران کو مطمئن کر دیتے ہیں۔اس حوالے سے قائم مقام ایس پی اے وی ایل ایس عمران یعقوب کا کہنا ہے کہ نفری کی شدید کمی کے باوجود کار و موٹر سائیکل چور چھیننے والے درجنوں گروہوں کو گرفتار کر چکے ہیں۔ سیفٹی کیمرے مکمل نصب ہونے کے بعد صرف اِکا دُکا وارداتیں رہ جائیں گی۔

مزید :

علاقائی -