سرگودھا ، گدی کا جھگڑا ، متولی نے 4خواتین سمیت 20مریدین قتل کر دیئے

سرگودھا ، گدی کا جھگڑا ، متولی نے 4خواتین سمیت 20مریدین قتل کر دیئے

  

سرگودھا(بیورورپورٹ/مانیٹرنگ ڈیسک/ ایجنسیاں) سرگودھا کے نواحی علاقے چک95شمالی میں جعلی اور جنونی پیر، درگاہ پیر علی محمد گجر کے خود ساختہ متولی نے اپنے کارندوں کے ساتھ مل کر دربار پر حاضری کیلئے آنیوالے 20 مریدین جن میں چار خواتین بھی شامل ہیں کو نشہ آور چیز پلانے کے بعدڈنڈوں اور کلہاڑی کے وار کر کے بہیمانہ نہ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد موت کی نیند سلا دیا۔ یہ سارے قتل گدی نشینی کے جھگڑے کا شاخسانہ بتائے جا رہے ہیں ۔ لوگوں کو گدی نشینی کے تنازع پر جرگہ کیلئے بلایا گیا اور پھر ان کو موت کی وادی میں پہنچا دیا ۔چک95شمالی میں پیش آنیوالے۔ اس واقعہ میں جاں بحق ہونے وا لوں میں جعلی پیر کے مرشد کا بیٹا محمد آصف جو وزیر اعظم سکواڈ اسلام آباد میں تعینات اور اسکا کزن محمد حسین جو کہ ڈی ایس پی شبیر حسین گجر کا بیٹا ہے بھی شامل ہیں، دیگر کے نام محمد اشفاق چک 95 شمالی، خالد 95 شمالی، شازیہ 90 شمالی، ندیم 90 شمالی ، سیف الرحمن 90 شمالی، شاہد 84/TDA بھکر، رخسانہ بی بی 90 شمالی، نصرت بی بی 90 شمالی، جاوید 90 ایم ایل تحصیل کروڑ ضلع لیہ، فرزانہ بی بی ڈی بلاک محبوب پارک اسلام آباد، زاہد ملنگ اسلام آباد، جمیل 23 الف جنوبی بھاگٹانوالہ، گلزار 95 شمالی، عمران گل والا مسلم ٹاؤن، ساجد 90 ، بابر پیر محل، نعیم بابر 95 شمالی، غلام مصطفی سرگودھا بتائے جاتے ہیں۔ ان میں ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والی تین خواتین اور تین مرد شامل ہیں؛ پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدہ پر فائز عبدالوحید جو چک 20 گ ب ننکانہ صاحب کا رہائشی ہے نے جمعہ کی شام اپنے دو ساتھیوں محمد آصف، ظفر ڈوگر اوردیگر کے ساتھ ان لوگوں کو نشہ آور چیز پلائی جس کے بعد وہ مدہوش ہو گئے تو انہیں باری باری برہنہ کر کے ڈنڈے اور کلہاڑی کے وار کر کے قتل کرنے کے بعد ایک نعش قریبی کھیت جبکہ تین نعشیں کمرے میں بند کر دیں۔ ہفتے کی شام بھی آنے والے مریدوں کو کھانے میں نشہ آور چیز کھلا نے کے بعد پیر اور اس کے ساتھی انہیں باری باری بہیمانہ طریقے سے برہنہ کر کے قتل کر کے نعشوں کا ایک کمرے میں ڈھیر لگاتے رہے اور ان کے کپڑے اکٹھے کر کے ساتھ ہی ساتھ جلاتے رہے۔ اس دوران ہوش میں آ جانے والی چند خواتین اور مردوں نے بھاگ کر قریبی ڈیروں پر پناہ لی اور انہیں اس گھناؤنے کھیل کا بتایا، جس پر گاؤں کے لوگ اکٹھے ہو گئے اور پولیس کو اطلاع کر دی، صدر پولیس کے ایس ایچ او شمشیر جوئیہ بھاری نفری کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے تو عبدالوحید اور اس کے ساتھی پولیس پارٹی پر بھی حملہ آور ہوئے ،لیکن پولیس نے حکمت عملی سے تینوں ملز موں کوحراست میں لے لیا، ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مقتولین کے جسموں پر ڈنڈوں اور کلہاڑیوں کی ضر بیں۔کئی نعشوں کے چہرے مسخ ہو چکے ہیں، پولیس کا کہنا ہے کہ جب عبدالوحید اور اس کے ساتھیوں کو حراست میں لیا گیا تو وہ بھی مدہوشی کے عالم میں تھے، اور جنونیت کی انتہا پر تھے، واقعہ نے علاقہ میں خوف و ہراس پھیلا دیا ڈپٹی کمشنر لیاقت علی چٹھہ نے جائے وقوعہ پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں امرجنسی نافذ کی گئی تھی ۔زخمیوں کو بہترین طبی امداد دی جارہی ہے ۔ڈپٹی کمشنر لیاقت علی چٹھہ نے بتایا کہ تمام افراد کو نشہ آور چیزیں کھلا کر خنجروں اور ڈنڈوں کے وار کرکے قتل کیا گیا ہے،پولیس کے مطابق ملزم عبدالوحید نے 20افراد کے قتل کا اعتراف کرلیاہے۔سرپولیس کے مطابق مقتولین میں مقامی زمیندارسیف الرحمان ، اس کی بیوی ،2بہنیں اور2 بھائی بھی شامل ہیں۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم عبدالوحید نے اپنے پیر کے بیٹے کو بھی قتل کیا تھا ، خاندانی ذرائع کے مطابق ملزم کے ہاتھوں قتل ہونے والا آصف پیر علی محمد گجر کا بیٹا تھا۔پولیس کے مطابق مقتول آصف اسلام آباد میں پولیس کا ملازم اور پولیس لائن ہیڈکوارٹرز میں تعینات اور 25اپریل تک میڈیکل چھٹی پر تھا۔مقتول جمیل کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اسلام آباد کا رہائشی اور پی آئی ڈی میں ملازمت کرتا تھا۔گرفتار 2 ساتھیوں میں ظفر ڈوگر شیخوپورہ اور محمد آصف ایڈووکیٹ پھالیہ سے تعلق رکھتا ہے۔مقامی افرادکا کہناتھاکہ عبدالوحید مہینے میں ایک دو بار درگاہ آتاتھا، برہنہ کرکے مریدوں پر تشدد کرتا اور کپڑوں کو آگ لگادیتا تھا ،یہ سلسلہ 2برس سے جاری تھا، چیخوں کی آوازیں بھی سنائی دیتی تھیں۔ ڈی پی او سرگودھا کے مطابق دربار کے متولی عبدالوحید نے مقتولین کو پہلے نشہ آور چیز کھلا کر بیہوش کیا جس کے بعد انہیں موت کے گھاٹ اتارا۔پولیس کے مطابق مرکزی ملزم یوسف اور اس کے 2 ساتھیوں کو گرفتار کرتے ہوئے نعشوں کو ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ سرگودھا کے ڈپٹی کمشنر لیاقت علی چٹھہ نے بتایا کہ واقعے کی اطلاع ڈی ایچ کیو ہسپتال سرگودھا میں آنے والی ایک زخمی خاتون نے دی تھی، ان کا کہنا تھا یہ خاتون ان دیگر 3 زخمی افراد میں شامل تھیں جو درگاہ سے زندہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے ۔انھوں نے بتایا کہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری درگارہ پہنچی اور درگاہ کے متولی کو اس کے 4 ساتھیوں سمیت گرفتار کرلیا جبکہ 19 نعشیں برآمد کرکے انھیں اور کچھ زخمیوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کیا گیا۔لیاقت علی چٹھہ نے بتایا کہ واقعے کی ابتدائی تفتیش کے مطابق درگاہ علی محمد گجر 2 سال قبل آبادی سے دور تعمیر کی گئی تھی ۔ڈی سی سرگودھا نے بتایا کہ دو سال قبل ہی سے لاہور کے رہائشی اور خود کو درگاہ کا موجودہ متولی کہلوانے والے عبدالوحید نے یہاں آکر درگاہ سے منسلک لوگوں کو درس دینے کا آغاز کیا تھا۔جس کے بعد اس کے عقیدت مندوں میں اضافہ ہوتا رہا۔ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ عبدالوحید کی ذہنی حالت درست معلوم نہیں ہوتی ۔ڈی سی سرگودھا کے مطابق زخمی خاتون نے پولیس کو بتایا تھا کہ متولی نے مریدوں کو بلا کر قتل کرنے کا سلسلہ شروع کررکھا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ملزم مریدوں کو فون کرکے بلاتا تھا اور ایک ایک کرکے ان کو کمرے میں بلا کر قتل کرتا رہا ۔ مزید کسی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کیلئے پولیس کی بھاری نفری کو درگاہ پر تعینات کردیا گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق قتل کئے گئے11افراد کا تعلق سرگودھا ،2 کا اسلام آباد ،2 کا تعلق لیہ ،ایک کا میانوالی ، ایک اور شخص کا تعلق پیر محل سے ہے۔مرنے والوں کے جسموں پر بدترین تشدد کے نشانات تھے۔ملزم عبدالوحید نے اپنے پیر کے بیٹے آصف کو بھی نہ بخشا ، مرنے والا آصف گجر پولیس کانسٹیبل اور وزیر اعظم کے سکیورٹی سٹاف میں بھی شامل تھا ۔ جاں بحق افراد میں ڈی ایس پی میانوالی کا بیٹا محمد حسین شامل ہے جودرگاہ پر موجود تھا۔ سفاک ملزم عبدالوحید 11سال تک ڈپٹی ڈائریکٹر الیکشن کمیشن لاہور تعینات رہا ‘آخری عہدہ ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل الیکشن کمیشن پنجاب تھا‘کیرئیر کا آغاز گریڈ 16میں بطور لیگل اسٹنٹ کیا ‘ایف آئی اے راولپنڈی میں ڈیپوٹیشن پر بھی تعینات رہ چکا ہے کیرئیر کا آغاز گریڈ 16میں بطور لیگل اسٹنٹ کیا ‘ایف آئی اے راولپنڈی میں ڈیپوٹیشن پر بھی تعینات رہ چکا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے سانحہ درگاہ 95 شمالی میں جان بحق ہونیوالوں کے ورثا کیلئے 5لاکھ فی کس اعلان جبکہ زخمی ہونیوالوں کو 2دو لاکھ روپے دیئے جائیں گے ۔وزیراعلیٰ کی جانب سے ڈی آئی جی سرگودھا ذوالفقار حمیدکی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دیدی ہے جو اپنی رپورٹ مرتب کرکے وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کو دیگی وزیر اعلی کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کے افسروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ زخمیوں کو طبی امداد میں بہترین سہولیات فراہم کی جائیں اور جاں بحق ہونے والوں کی تدفین اور دیگر معاملات کو بھی ہینڈ ل کریں۔۔وزیراعلی پنجاب شہبازشریف نے سرگودھا میں 20افراد کے قتل کے واقعے کے بعد صوبائی وزیر اوقاف زعیم قادری کو موقع پر پہنچنے کی ہدایت کردی اور آر پی او سرگودھا کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیدی ہے۔وزیراعلی پنجاب نے انکوائری کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ 24گھنٹے میں اپنی رپورٹ پیش کرے ،انہوں نے سرگودھا واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ۔شہبازشریف نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور ملز موں کو فورا گرفتار کیا جائے۔وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے کہا کہ واقعہ پر ہر آنکھ اشکبار ہے اس حوالے سے انکوائری کی جارہی ہے جلد واقعہ کی تہہ تک پہنچ جائیں گے۔ زخمیوں کو بہترین طبی امداد دی جارہی ہے اور پولیس واقعہ کی ہر پہلو سے تفتیش کررہی ہے۔صدر ممنون حسین ، وزیراعظم نوازشریف ، وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف سمیت سیاسی مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانی ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے قتل ہونیوالے افراد کے لواحقین اورزخمیوں کیلئے مالی امداد کا اعلان کیاہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نیزعیم قادری کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیدی۔ کمیٹی میں آر پی او‘ ڈپٹی کمشنر سرگودھا اور محکمہ داخلہ کے افسر سمیت دیگر شامل ہیں۔ صوبائی وزیر مذہبی امور واوقاف پنجاب سید زعیم حسین قادری نے کہا ہے کہ چک نمبر 95شمالی سرگودہا یں20۔افراد کے قتل کی لرزہ خیز واردات کے ذمہ دار ملز موں نے ظلم وبربریت کی انتہاکر دی ہے ۔ ایسے سماج دشمن عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ۔انہیں کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس واقعہ کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے آر پی او کی سربراہی میں متعلقہ اداروں پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت کر تے ہوئے کمیٹی کو اپنی رپورٹ فوری طورپر پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے اس واقعہ میں قتل ہونے والے افراد کے لواحقین کو پانچ پانچ لاکھ اور زخمیوں کیلئے دو دو لاکھ روپے فی کس کی مالی امداد کا اعلان کیاہے ۔ زعیم قادری نے کہاکہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے انہیں سرگودہا جا کر حالات کاجائزہ لینے اورمقتولین کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کیلئے بھیجا ہے ۔ ملزمان کو گرفتار کر کے انکوائری کی جارہی ہے ۔ یہ دربار دو سال قبل تعمیر کیاگیا تھا جو محکمہ اوقاف کی بجائے علی محمد گجر مرحوم کے گدی نشین خود اس کا انتظام وانصرام کر رہے تھے ۔اپنجاب بھر میں محکمہ اوقاف کے زیر انتظام 552درباروں پر سیکورٹی کے فول پروف انتظامات کئے گئے ہیں حکومت جعلی عاملوں کے خلاف بھر پور قانونی کاروائی کر رہی ہے انہوں نے اس واقعہ کے بعد ڈپٹی کمشنر لیاقت علی چٹھہ کی موقع پر موجودگی ‘زخمیوں او رمقتولین کو سول ہسپتال پہنچانے کیلئے کی گئی ذاتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ اس عمل سے زخمیوں کو علاج معالجہ میں سہولت او رمقتولین کی ہسپتال میں منتقلی کا عمل بہتر ہوااور ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال پہنچ کر اپنی نگرانی میں ہسپتال انتظامیہ کو زخمیوں کے علاج معالجہ کیلئے متحرک رکھا اور متاثرین کے لواحقین کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے انہیں حوصلہ اور ہمت سے کام لینے کی تلقین کی ۔ سید زعیم قادری نے ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت کی او ر ہسپتال انتظامیہ کو ان کے علاج معالجے کیلئے ہر ممکن اقدامات کی ہدایت کی۔ اس موقع پر سید زعیم حسین قادری کے ساتھ ڈپٹی کمشنر لیاقت علی چٹھہ ‘ ایم این اے ڈاکٹر ذوالفقار بھٹی ‘ ایس پی بلال افتخار اورہسپتال کے ایم ایس اور دیگر انتظامی افسر بھی موجود تھے۔

20افراد قتل

مزید :

صفحہ اول -