انفارمیشن سروس گروپ کے افسران کوترقی دی جائے،سابق سیکریٹریوں کا مطالبہ

انفارمیشن سروس گروپ کے افسران کوترقی دی جائے،سابق سیکریٹریوں کا مطالبہ

  

لاہور (خصوصی رپورٹ)وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کے سابق سیکریٹریوں نے تقررو ترقیوں میں انفارمیشن گروپ کے افسران کو نظر انداز کیے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ انفارمیشن سروس گروپ کے افسران کو فی الفور ترقی دی جائے تاکہ ان کے اندر پائی جانے والی احساس محرومی اور مایوسی کا ازالہ ہو سکے ۔ یہ مطالبہ سابق وفاقی سیکریٹری اطلاعات و نشریات خواجہ اعجاز سرور ، سید انور محمود ، سلیم گل شیخ، اور اشفاق احمد گوندل کی جانب سے وزیراعظم کو لکھے گئے ایک مراسلہ میں کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق وزارت اطلاعات و نشریات کے سابق وفاقی سیکریٹریوں نے وزیراعظم کو میڈیا اور اسکی مینجمنٹ کے حالات و معاملات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے آپ کے زیر انتظام حکومت میں مختلف حیثیتوں سے خدمات انجام دی ہیں ۔ آپ کے سینئر میڈیا مینجروں کے طور پر ہم نے اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ خدمت کی اور ہمیں یقین ہے کہ ہم نے آپ کو کبھی مایوس نہیں کیا ۔ ہم میں سے ایک نے تو آپ کے پرسنل سٹاف کے طور پر بھی کام کیا ۔ ہمیں امید ہے کہ ہم سب نے آپ کا بھروسہ اور اعتماد حاصل کیا ۔ وزیراعظم اب ہمیں وزارت اطلاعات و نشریات کے حوالے سے بعض حکومتی اقدامات نے قدرے پریشان کر دیا ہے جن کے حوصلہ شکن اثرات سے انفارمیشن گروپ کے افسراوں کا مورال ڈاون ہوگا اور نتیجے میں نہ صرف حکومتی امیج خراب ہوگا بلکہ الیکشن کے سال میں حکومت کے لیے سازگار میڈیا کے حصول کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بعض پالیسی اور انتظامی فیصلوں کی رپورٹوں کی وجہ سے ہم قدرے ڈسٹرب بھی ہوئے جو حکومت نے وزارت اطلاعات و نشریات کے حوالے سے کئے ، انفارمیشن کے افسروں کی حوصلہ شکنی ہوئی جس کا حکومت کو بھی نقصان ہو سکتا ہے بالخصوص جب انتخابی سال کے موقع پر میڈیا کی مکمل حمایت کے طلبگار ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی پالیسیوں اور فیصلوں کو وزارت اطلاعات موثر انداز میں نافذ کر سکتی ہے کیونکہ اس میں خالصتاً پیشہ ور ، باصلاحیت اور کامل اہلیت رکھنے والے افسران موجود ہیں جن کو میڈیا کے معاملات داخلی طور پر کامیابی سے چلانے کی مکمل تربیت حاصل ہے ۔ وزارت اطلاعات نے کئی سال کے تجربے کے بعد حکمت عملی تشکیل دینے کے ساتھ ساتھ اس پر عمل درآمد کے منصوبے تیا ر کرنے کی ادارہ جاتی صلاحیت بھی حاصل کر لی ہے ۔ غیر ادارہ جاتی انتظامات ان کوششوں کو اضافی فائدہ تو پہنچا سکتے ہیں لیکن ادارہ جاتی انتظامات کا متبادل نہیں ہو سکتے ۔ انفارمیشن گروپ کے افسر اپنی ترقی کے عمل کی سست روی کے باوجود گذشتہ چند سالوں کے دوران اپنے سروس گروپ کے ساتھیوں کی وزارت کے سیکرٹری کے طورپر تعیناتی کے باعث خود کو حوصلہ مند محسوس کر تے ہیں جو حکومت کی ٹھیک کام کے لیے ٹھیک آدمی کے چناؤ کی حکومتی پالیسی کا حصہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے پریس سیکرٹری کا عہدہ چونکہ بڑی کلیدی حیثیت کا حامل ہوتا ہے لہذا اس پر لازمی طور پر کسی منجھے ہو ئے پیشہ ور افسر کو ہی لگایا جانا چاہیے ۔

مزید :

صفحہ آخر -