صوبائی دارالحکومت کی تمام قانونگویوں میں قبضہ مافیا کا راج

صوبائی دارالحکومت کی تمام قانونگویوں میں قبضہ مافیا کا راج

  

لاہور (عامر بٹ سے) صوبائی دارالحکومت کی حدود میں آنیوالی قانونگویوں میں قبضہ مافیا کا راج، قابضین نے ہزاروں ایکٹر سرکاری اراضی کو اپنی تحویل میں لیکرپختہ تعمیرات ، سڑکیں ،گزرگاہیں اورآبپاشی کیلئے پختہ نالے تعمیر کرکے اپنے قبضوں کو مستحکم کر لیا جبکہ باقی ماندہ اراضی پر قبضے کی منصوبہ بندی بھی جاری ہے۔ تفصیلات کے مطابق شاہدرہ قانونگوئی میں 3456 ایکڑ سرکاری اراضی میں 43 ایکڑ قابضین کے زیر استعمال ہے جس میں 323 ایکڑ اراضی میں سڑکیں، روڈ اور گزر گاہیں جبکہ 79 ایکڑ اراضی پر زمین کو سیراب کرنے کیلئے نالے بنائے گئے ہیں ،2812 ایکڑ اراضی مختلف سرکاری سکیموں کے زیر استعمال اور 100 ایکڑ اراضی پر گورنمنٹ کا قبضہ ہے اس طرح نواں کوٹ قانونگوئی میں 665 ایکڑ سرکاری اراضی میں سے 522 ایکڑ اراضی پر لینڈ مافیا کا قبضہ ہے 50 ایکڑ پر سڑکیں، روڈ ، راستے 6 ایکڑپر کھالے بن چکے ہیں اور 80 ایکڑ پر مختلف سرکاری محکموں نے قبضے جما رکھے ہیں جبکہ 1 ایکڑ اراضی گورنمنٹ کی تحویل میں ہے ، لاہور خاص قانونگوئی میں 1912 ایکڑ سرکاری اراضی میں سے 223 ایکڑ پر قبضے ہو چکے ہیں 592 ایکڑمیں سڑکیں، روڈ ،152 ایکڑپر کھالے ، نالے ،28 ایکڑ زمین پر قبرستان بنائے گئے ہیں، 854 ایکڑ سرکاری محکموں کے زیر استعمال اور 64 ایکڑ اراضی گورنمنٹ کے قبضے میں ہے،ساندہ قانونگوئی میں مجموعی طور پر 529 ایکڑ سرکاری اراضی میں سے 130 ایکڑ اراضی پر قبضے ہو چکے ہیں 236 ایکڑمیں سڑکیں اور راستے نکالے گئے 5 ایکڑ پر کھالے 21 ایکڑ پر قبرستان بنائے گئے ہیں 135 ایکڑ مختلف سرکاری محکموں کے زیر استعمال ہے، چوہنگ قانونگوئی میں 714 ایکڑ سرکاری اراضی میں 22 ایکڑ پر قبضے ہو چکے ہیں 233 ایکڑپر سڑکیں اور رروڈ جبکہ 258 ایکڑ پر کھالے ،40 ایکڑ پر قبرستان بن چکے ہیں 57 ایکڑ مختلف سرکاری محکموں کے زیر استعمال اور صرف 4 کنال اراضی کا قبضہ گورنمنٹ کے پاس ہے۔ رائیونڈ قانونگوئی میں 1132 سرکاری اراضی میں 212 ایکڑ اراضی لینڈ مافیا کے پاس ہے 152 ایکڑ میں سڑکیں ،127 اراضی میں کھالے 14 ایکڑ پر قبرستان بنے ہوئے ہیں 325 ایکڑ مختلف سرکاری محکموں ،267 ایکڑ گورنمنٹ کی تحویل میں ہے ۔پاجی قانونگوئی میں 652 ایکڑ سرکاری اراضی میں 60 ایکڑ پر قبضے ہو چکے ہیں 158 ایکڑپر سڑکیں اور راستے 142 ایکڑ پر کھالے جبکہ 17 ایکڑ پر قبرستان بن چکے ہیں 276 ایکڑ مختلف سرکاری محکموں کے زیر استعمال ہے۔ مانگا قانونگوئی میں 777 ایکڑ سرکاری اراضی میں 171 ایکڑ پر قبضہ ہو چکا ہے 274 ایکڑ پر راستے اور سڑکیں 235 ایکڑ پر کھالے ،127 ایکڑ پر قبرستان بن چکے ہیں ، 49 ایکڑمختلف سرکاری محکموں جبکہ صرف 4 ایکڑ گورنمنٹ کی تحویل میں ہے، نیاز بیگ رولر قانونگوئی میں 166 ایکڑ سرکاری اراضی میں سے 5 ایکڑ پر قبضے ہو چکے ہیں 1 ایکڑ پر راستے اور کھالے بنائے گئے ہیں جبکہ 157 ایکڑ مختلف سرکاری محکموں کے زیر استعمال جبکہ 3 ایکڑ کا قبضہ گورنمنٹ کی تحویل میں ہے ۔مراکہ قانونگوئی میں 500 ایکڑ میں سے 90 ایکڑ پر قبضے ہو چکے ہیں 127 ایکڑ پر سڑکیں اور راستے 197 ایکڑ پر راستے اور کھالے 11 ایکڑ قبرستان بن چکے ہیں جبکہ 2 ایکڑ مختلف سرکاری محکموں کے زیر استعمال اور 25 ایکڑ گورنمنٹ کے قبضے میں ہے ،تحصیل کینٹ میں موجود ماڈل ٹاؤن قانونگوئی میں 389 ایکڑ سرکاری اراضی میں سے صرف6 ایکڑ اراضی پر گورنمنٹ کا قبضہ ہے ،155 ایکڑ راستے اور سڑکیں 39 ایکڑ پر کھالے 10 ایکڑ پر قبرستان بن چکے ہیں،کاہنہ قانونگوئی میں 2295 ایکڑ سرکاری اراضی میں 192 ایکڑ پر قبضے کئے جا چکے ہیں 250 ایکڑ میں سڑکیں اور راستے 364 ایکڑ پر کھالے اور 25 ایکڑ پر قبرستان بن چکے ہیں صرف 64 ایکڑکا قبضہ گورنمنٹ کی تحویل میں ہے ۔ کماہاں قانونگوئی میں 701 ایکڑ سرکاری اراضی میں سے 60 ایکڑ پر قبضے ہو چکے ہیں 253 ایکڑ میں سڑکیں اور راستے ،119 ایکڑ پر کھالے اور 31 ایکڑ پر قرستان بن چکے ہیں جبکہ 20 ایکڑ اراضی گورنمنٹ کے قبضے میں ہے، باغبانپورہ قانونگوئی میں 2304 ایکڑ سرکاری اراضی میں سے 36 ایکڑ پر قبضے ہو چکے ہیں اور 305 ایکڑپر سڑکیں اور گزر گاہ 234 ایکڑ پر کھالے 56 ایکڑ پر قبرستان بنائے گئے ہیں اور 10 ایکڑ کا قبضہ گورنمنٹ کی تحویل میں ہے ۔ جاہمن قانونگوئی میں بھی 215 ایکڑ سرکاری اراضی موجود ہے جس میں 96 اراضی پر قبضے ہو چکے ہیں 23 ایکڑ اراضی پر سڑکیں اور راستے بنائے گئے ہیں 50 ایکڑ اراضی پر کھالے بن چکے ہیں 15 ایکڑ اراضی پر قبرستان بنا لئے گئے ہیں اسی طرح لکھوڈئیر قانونگوئی میں 426 ایکڑ سرکاری اراضی موجود ہے جس میں 12 ایکڑ اراضی پر قبضے ہو چکے ہیں 77 ایکڑ اراضی پر سڑکیں اور راستے بنا دئیے گئے ہیں 14 یکڑ اراضی پر کھالے بن چکے ہیں 3 ایکڑ اراضی پر قبرستان بن چکے ہیں اور 4 ایکڑ اراضی گورنمنٹ کی تحویل میں ہے ،مذکورہ صورتحال کو کنٹرول نہ کیا گیا توخدشہ ہے کہ قبضہ مافیا دن بدن سرگرم ہو کر مزید سرکاری اراضی کو اپنے قبضے میں کرنے کیلئے پر تولے گا جس کیخلاف سخت ایکشن کی ضرورت ہے ۔میٹروپولٹین کارپوریشن کے ترجمان نے کہا ہے لاہور کی تمام قانونگوئیوں میں سرکاری اراضی کا انچ بھی لینڈ مافیا کے قبضے میں نہیں رہنے دیا جائے گا ،اس حوالے سے رپورٹس مرتب کی جارہی ہیں جس کے بعد قبضہ مافیا کیخلاف مربوط ایکشن کیا جائے گا ۔

مزید :

صفحہ آخر -