لاپتہ افراد کو مردہ ظاہر کرنے کے بجائے مردم شماری میں ان کا اندراج کیا جائے: جسٹس(ر) جاوید اقبال

لاپتہ افراد کو مردہ ظاہر کرنے کے بجائے مردم شماری میں ان کا اندراج کیا جائے: ...

  

کراچی (آن لائن) لاپتہ افراد کو مردہ ظاہر کرنے کے بجائے ان کا اندراج مردم شماری میں کیا جانا چاہیے، کیس عدالت میں زیر سماعت ہے تو کس طرح لاپتہ افراد کو مردہ شمار کیا جا سکتا ہے، چار سال سے لاپتہ افراد بھی اپنے گھروں کو پہنچ چکے ہیں، مردم شماری سے قبل ادارہ شماریات کو لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق قائم کیے گئے حکومتی کمیشن سے رابطہ کرنا چاہیے تھا۔ ان خیالات کا اظہار حکومت پاکستان کی جانب سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے قائم کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے میڈ یا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مردم شماری میں لاپتہ افراد کا نام درج کیا جائے۔ جب لاپتہ افراد سے متعلق کیس عدالتوں میں زیر سماعت ہے تو کس طرح کوئی لاپتہ افراد کو مردہ شمار کر سکتا ہے، لاپتہ افراد کے حوالے سے کمیشن میں بہت سے افراد جو 4 سال سے لاپتہ تھے اپنے گھروں میں واپس آگئے ہیں اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ اگر کوئی لاپتہ ہو گیا ہے تو وہ واپس نہیں آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مردم شماری میں لاپتہ افراد کا اندارج نہیں کیا جا رہا ہے تو یہ غلط اقدام ہے ادارہ شماریات کو اپنے عملے کے ذریعے فوری طورپر پورے ملک سے لاپتہ افراد کا اندراج کرنا چاہئے تا کہ مردم شماری کے ذریعے معلوم ہو سکے کہ اب تک کتنے افراد لاپتہ ہیں، مردم شماری کے ذریعے اندراج ہو گا تو ہمیں بھی پورے پاکستان میں لاپتہ افراد کے بارے میں مزید بہتر معلومات حاصل ہو سکیں گی۔جسٹس جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ کراچی میں لاپتہ افراد کے لواحقین میں سے کوئی بھی فرد مردم شماری میں اپنے پیاروں کے نام درج نہ کرنے کے حوالے سے اپنی درخواست لا پتہ افراد کی بازیابی کیلئے قائم سندھ میں کمیشن کے سربراہ اور سندھ ہائیکورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ غوث محمد کو دے سکتے ہیں، اس درخواست کو مدنظر رکھتے ہوئے کمیشن ادارہ شماریات یا دیگر متعلقہ اداروں کو نوٹس جاری کر سکتا ہے۔ علاوہ ازیں ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی چیئرمین آمنہ مسعود جنجوعہ نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کا مردم شماری میں ہر قیمت پر اندارج ہونا چاہئے، اگر لاپتہ افراد کے لیے مردم شماری میں اندراج نہیں کیا جا رہا ہے تو اس کے لیے ہم پورے ملک میں لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ مل کر بھرپور احتجاج کریں گے۔

مزید :

صفحہ آخر -