’’اداکاراؤں کی شادیاں اور بربادیاں‘‘

’’اداکاراؤں کی شادیاں اور بربادیاں‘‘
 ’’اداکاراؤں کی شادیاں اور بربادیاں‘‘

  

*۔۔۔ ہالی وڈ سے لے کر لالی وڈ تک کی اداکاراؤں کی زندگی پر نظر دوڑائیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ شادی اور طلاق کے معاملے میں خاصی فراخ دل ثابت ہوتی ہیں۔ان کے ہاں شادی بھی ایک تقریح ہوتی ہے کسی کے ساتھ کچھ وقت گزارہ اور پھر علیحدگی اختیار کر لی۔ اس کے بعد کچھ وقت آزادی سے گزارنے کے بعد کسی اور کے ساتھ پیار پینگ ڈالی اور اس سے شادی کر لی اور ہنی مون منانے کے لئے کسی خوبصورت پُر فضا مقام کی طرف اڑان بھری جی بھر کے عیش کی۔ نئے دولہا میاں کی جیب پر دن رات شاپنگ کے ذریعے ڈاکہ ڈالا اور پھر پرانی زندگی کی طرف لوٹ آئیں۔ جہاں تک مغربی معاشرے کا تعلق ہے تو وہاں کا کلچر ہی ایسا ہے جہاں کسی خاتون کا کسی مرد کے ساتھ طویل شادی کا تصور ہی نہیں ہے۔ اداکارہ کی تو بات ہی چھوڑیئے اگر کوئی عام گھریلو عورت کِسی مرد کے ساتھ کچھ سال احسن طریقے سے باقاعدہ شادی شدہ زندگی گزار لیتی ہے تو دوسری عورتیں حیرت کا اظہار کرتی ہیں اور اس کو باقاعدہ طعنہ زنی کرتے ہوئے ’’پرانے خیالات کی عورت‘‘ قرار دے کر اس سے کنارہ کشی کر لیتی ہیں جبکہ فلمی دُنیا سے تعلق رکھنے والی اداکارائیں تو لباس کی طرح شوہر بدلنے کے حق میں ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک زندگی کسی ایک شوہر کے ساتھ گزارنے سے ان کی فنی صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیں اور وہ یکسانیت کا شکار ہو کر اپنا نام اور مقام کھو دیتی ہیں۔

*۔۔۔ فلمی دُنیا میں بعض شادیاں تو اس فیلڈ میں نام اور مقام حاصل کرنے کے لئے ہی کی جاتی ہیں اور جب ان کا مقصد پورا ہو جاتا ہے تو وہ کوئی سا بھی بہانہ بنا کر علیحدگی اختیار کر لیتی ہیں۔ہالی وڈ کی اداکارائیں تو شادی بناتے ہوئے یہ تک سوچ لیتی ہیں کہ شادی توڑتے وقت کتنے کا فائدہ ہو گا اِس لئے وہ اپنے اس مشن میں کامیاب بھی رہتی ہیں۔ دُنیا بھر میں چونکہ ہالی وڈ کی فلموں کے سٹائل اور موضوعات کو کاپی کیا جاتا ہے یا ان کی فلموں کے موضوعات کو اپنے وسائل کے مطابق فلمبند کیا جاتا ہے۔ بھارت اِس سلسلے میں اِس لئے نمایاں نظر آتا ہے کہ وہاں سالہا سال سے بننے والی فلموں کی تعداد متعدد ممالک سے کہیں زیادہ ہے تو آپ کو یقین ہو جانا چاہئے کہ بھارت کی اداکارائیں بھی وہاں کی اداکاراؤں کے نقش قدم پر چلنے کو فخر سمجھتی ہیں اور لباس اور بولڈ اداکاری میں ان کے برابر آنے کی کوشش میں ان سے بھی آگے نکل جاتی ہیں، جب ایسی صورتِ حال ہو تو پھر شادیوں اور طلاقوں کے معاملے میں وہ کیسے پیچھے رہ سکتی ہیں۔

*۔۔۔ پڑوسی ملک کے بارے میں بات چیت اِس لئے زیادہ ہو جاتی ہے کہ ان کے کردہ ناکردہ سارے دھندے ہمارے مُلک کے عوام تک پہنچنے میں کوئی تاخیر نہیں ہوتی یہی وجہ ہے کہ پاکستانی اداکارائیں بھی ان سے بہت زیادہ متاثر ہونے لگی ہیں اور یہ جو بعض حلقوں کی جانب سے یہ ہوا باندھی جا رہی ہے کہ ہمارے مُلک میں ملکی فلمی صنعت ایک بار پھر اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی طرف گامزن ہے تو ان فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی اکثر اداکارائیں بھارتی اداکاراؤں خصوصاً جو آئٹم سانگز پر پَرفارم کرتی ہیں ان سے بھی آگے نکلنے کی کوشش میں مصروف ہیں اور انہوں نے باقاعدہ یہ منصوبہ بندی کر رکھی ہے کہ اگر بھارت سے آگے نکلنا ہے تو اس کے لئے بے لباس ہونا اشد ضروری ہے۔ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ ایسی اداکارائیں جو شوبز میں اس قسم کا ارادہ لے کر آتی ہیں ان کی شادی کسی بزنس سے کم کیسے ہو سکتی ہے؟ جب شادی جیسا مقدس بندھن کمرشلزم کا شکار ہو گا تو اس میں پائیداری کا عنصر تلاش کرنا حماقت سے کم نہیں ہے۔ہمارے ہاں بھی سٹیج ڈراموں سے لے کر فلموں تک آنے والی نئی نویلی لڑکیاں فن کی بجائے جسم کو ترقی کا زینہ بنانے پر تُلی ہوئی ہیں تبھی تو پتہ چلتا ہے کہ فلاں اداکارہ کو ابھی شوبز میں آئے سال بھر ہوا ہے تو اس کے پاس کوٹھی، کار، بینک بیلنس سب کچھ آ گیا ہے۔ یہ وہ اداکارائیں ہیں جو شادی کے بغیر ہی شادی جیسے بزنس سے اپنا گھر بھرنے میں مصروف ہیں اور یہ وہ اداکارائیں ہیں جن کو اپنے گھر،یعنی ماں باپ، مامے چاچے یا جو بھی سرپرست ہوتے ہیں ان کو باقاعدہ اس کام کے لئے تربیت دے کر شوبز میں اتارا جاتا ہے۔

*۔۔۔ جب زندگی کا مقصد ہی روپیہ کماتا ہو تو اخلاقیات کی دھجیاں سرِبازار بکھری نظر نہ آئیں تو کیا ہو گا۔۔۔؟ شادی اور طلاق کا معاملہ تو اب خاصا پیچھے رہ گیا ہے۔ ابھی مولانا طارق جمیل نے بقول کچھ لوگوں کے وینا مَلک کا گھر ٹوٹنے سے بچا لیا ہے،لیکن کب تک۔۔۔؟ ابھی اس کی باز گشت کم نہیں ہوئی کہ اداکارہ نور نے اپنے نئے شوہر ولی حامد سے علیحدگی اختیار کر کے فوراً اپنا نام ’’نور بخاری‘‘ اناؤنس کر دیا ہے، جبکہ ابھی تک اداکارہ میرا کے نکاح نامے کا فیصلہ نہیں ہو سکا کہ وہ نقلی ہے کہ اصلی۔

*۔۔۔ بات اب اداکاراؤں کے گھر بننے یا ٹوٹنے سے بہت آگے نکل چکی ہے، زندگی کے مقاصد بدل چکے ہیں۔ ایک گھر، آنگن، آنگن میں کھیلتے بچوں اور شام ہوتے شوہر کے واپس آنے پر خاتون خانہ کے چہرے کا رنگ شفق آمیز ہونا اور پھر رات تک ازدواجی زندگی کے پُرلطف اندوز ہونے کے واقعات قصہ پارینہ ہوئے جاتے ہیں۔

شاعر نے کہا تھا:

اک تیرا غم ہو گا تو کتنے غم نہ ہوں گے

غم تو اب بھی ایک ہے،لیکن وہ ڈھلتی شام میں محبوب کی بانہوں میں جھولنے کا غم نہیں ہے، بلکہ وہ غم ڈیفنس یا کسی جدید آبادی میں پلاٹ یا کوٹھی خریدنے، نئے ماڈل کی گاڑی حاصل کرنے اور بینک بیلنس بڑھانے کا ہے۔اب دیکھئے اس صورتِ حال میں ہماری نئی اداکارائیں کن بدلتے موسموں کا سراغ لاتی ہیں ۔ اداکار میرا جیسی پرانی اداکارائیں تو بے جاری اب حکومت سے مالی مدد مانگنے میں ایک دوسرے پر بازی لے جانے کے لئے بے تاب ہیں۔

مزید :

کالم -