تھیلی سیمیا مریضوں کا علاج معالجہ مشترکہ ذمہ داری ہے ،فیصل اقبال

تھیلی سیمیا مریضوں کا علاج معالجہ مشترکہ ذمہ داری ہے ،فیصل اقبال

  

ہر ی پور (نامہ نگار)تھیلی سیمیا جیسی موذی مرض کا شکار بچوں کا علاج معالجہ معاشرہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے یہ ایسی بیماری ہے جس کا شکار بچوں کو ہر وقت علاج اورتازہ خون کی ضرورت ہوتی ہے جس کو پورا کرنا کسی ایک ادارہ یا شخص کے بس کی بات نہیں جو لوگ اس کار خیر میں اپنے حصے کا کردار ادا کررہے ہیں وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں ان خیالات کا اظہار ویلج ناظمین کی ایسوسی ایشن کے صدر ملک فیصل اقبال ،ناظم سٹی تیرہ اعجاز خان گوگا پاکستان بیت المال کے ضلعی افیسر نیئر عباس جعفری ممبر ضلع کونسل عبدالرشید تنولی اور دیگر مقررین نے تھیلی سیمیا سنٹر سوات چوک میں مستحق بچوں کے علاج اور خون کے عطیات میں تعاون کرنے والے ڈونرز اور متاثرہ بچوں کی صحت یابی و کامیابی کے لیے منعقدہ دعائیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر سیاسی و سماجی شخصیات منتخب نمائندوں او ر بچوں کے والدین کی بڑی تعداد موجود تھی سنٹر کے بانی چیئرمین شاہد حسن آفریدی اور پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر عمران تاج نے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس قریبا دو سو بچے رجسٹرڈ ہیں اور یہ سب مستحق ہیں جو صاحب استطاعت ہیں وہ اپنے طورپر اسلام آباد یا دیگر اچھے ہسپتالوں سے علاج کروا رہے ہیں ہری پورتھیلی سیمیا سنٹر کے پاس رجسٹرڈ بچوں کے لیے دیگر سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ساڑھے تین سو بیگ ماہانہ تازہ خون کی ضرورت ہوتی ہے اگر یہ خون نہ ملے تو ان بچوں کی زندگیاں خطرے میں ہوتی ہیں قبل ازیں بیماری کا شکار بچوں اور ان کی ماؤں نے قرآن خوانی کی اور بچوں کی صحت یابی اور ادارہ کے ساتھ تعاون کرنے والے ڈونرز کی کامیابی کے لیے خصوصی دعا کی گئی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ تھیلی سیمیا کا شکار بچوں کے لیے تما م تر سہولیات سے مزین سنٹر کا قیام خوش آئند ہے اور جو لوگ ادارہ کے ساتھ تعاون کررہے ہیں وہ بھی خراج تحسین کے مستحق ہیں ضلعی انتظامیہ اور حکومتوں کو بھی ایسے اداروں کی سرپرستی کرنی چاہیے کیونکہ ضلع میں ایسا کوئی سرکاری ادارہ موجود نہیں اور تھیلی سیمیا کا شکار بچوں کی تعداد میں بہت اضافہ ہوچکا ہے جو کہ لمحہ فکریہ ہے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -