باجوڑ ایجنسی میں تعلیمی ایمرجنسی کے اعلانات ڈرامہ نکلے

باجوڑ ایجنسی میں تعلیمی ایمرجنسی کے اعلانات ڈرامہ نکلے

  

باجو ڑ ایجنسی ( نمائندہ پاکستان )باجوڑ ایجنسی میں گورنر خیبر پختونخوا کے تعلیمی ایمرجنسی کے اعلانات ڈامے نکلے ۔ایجنسی بھر میں تعلیم یافتہ بے روز گار نوجوانوں کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے تفصیلات کے مطابق باجوڑ ایجنسی سمیت پورے فاٹا میں تعلیم یافتہ بے روز گار نوجوانوں کی شرح میں خطرناک حد تک اضافے سے نوجوانوں میں مایوسی پھیل گئی ہے بد امنی اور فوجی آپریشن کی وجہ سے تعلیمی اداروں کی تباہی اور لاکھوں بچوں کی تعلیمی استعداد کار پر انتہائی برے اثرات ڈال چکی ہے ایک دہائی سے فاٹا میں کوئی نیا تعلیمی ادارہ بن سکا اور نہ ہی چار سالوں سے کوئی نوجوان تعلیمی ادارے میں بھرتی ہو سکا این ٹی ا یس ٹسٹ کے زریعے بھرتیوں کے سلسلے میں نوجوانوں کا معاشی قتل عام کیا گیا کئی بار بھرتیوں کے لئے نوجونوں سے کروڑں روپے جمع کئے گئے لیکن تاحال کوئی بھرتی نہیں کیا گیا 20مارچ2016پر ہزاروں نوجونوں نے این ٹی ایس کا ٹیسٹ دیا لیکن ابھی تک رزلٹ روک کر نوجوان شدید ذہنی کوفت میں مبتلا ہے گورنر خیبر پختونخوا نے این ٹی ایس کے زریعے فاٹا میں بھرتیوں کے خاتمے کا اعلان کیا جس سے بے روز گار نوجوانوں کے ٹیسٹ کی مد میں کرڑوں روپے ڈوب گئے متاثرہ نوجوانوں محمد زمان ،مظفر خان ،مطیع اللہ ،عمر بادشاہ ودیگر نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے والدین نے انتہائی غربت کے باوجود ہمیں اعلی تعلیم دلوائی بار بار این ٹی ایس ٹیسٹ دینے کی وجہ سے ہمارے جذبات بری طرح مجروح ہو چکی ہے ہمیں کس گناہ کی سزا دی جا رہی ہے؟انہوں نے گورنر خیبر پختونخوا ،سیکرٹری ایجوکیشن اور عوامی نمائندوں سے پر زور مطالبہ کیا کہ باجوڑ سمیت پورے فاٹا میں بھرتیوں کا سلسلہ شرع کیا جائے کیونکہ زیادہ تر نوجوان اووریج ہو رہے ہیں ۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -