گیس فراہمی کا منصوبہ معمولی اختلافات کے باعث التواء کا شکار ہے :خانزادہ خان

گیس فراہمی کا منصوبہ معمولی اختلافات کے باعث التواء کا شکار ہے :خانزادہ خان

  

بخشالی ( نمائندہ پاکستان ) پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما و سینیٹر حاجی خانزادہ خان نے بخشالی پریس کلب میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بخشالی و گجرات کو گیس کی فراہمی کا منصوبہ محکمہ سوئی گیس اور سی این ڈبیلو کے درمیان معمولی نوعیت کے اختلافات کے باعث التواء کا شکار ہے، ان اختلافات کو جلد ختم کرکے بخشالی و گجرات کو گیس فراہم کی جائے گی، گیس کی فراہمی کے منصوبے پر سیاست چمکانے والے عوام کو گمراہ نہیں کرسکتے، عوام بخوبی آگاہ ہیں کہ اس منصوبے کیلئے فنڈ کی منظوری گزشتہ دور حکومت میں میں نے خود کرائی تھی، سینیٹر خانزادہ خان کا مزید کہنا تھا کہ پارٹی ٹکٹو ں کی تقسیم کے حوالے سے تمام فیصلے مرکزی قیادت کرے گی اور پارٹی کے کارکن ہونے کی حیثیت سے قیادت کے ہرفیصلے کو من و عن تسلیم کریں گے، خواجہ محمد ہوتی اور اکرام اللہ شاہد جیسی نامور شخصیات و سینئر سیاستدانوں کی پیپلز پارٹی میں شمولیت خوش آئند ہے ، انکی شمولیت سے پارٹی صوبے بھر میں مزید مضبوط ہوگی، ان کا مزید کہنا تھا کہ آئندہ انتخابات کے حوالے سے تاحال کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ اتحاد کی کوئی بات نہیں ہورہی، موجودہ صورت حال میں پیپلز پارٹی اکیلے انتخابی عمل میں حصہ لینے کی خواہش مند ہے، سابق صدر آصف علی زرداری کی واپسی اور دوبارہ عملی سیاست میں متحرک ہونے سے سیاسی مخالفین بوکھلاہٹ کا شکار ہیں ، سابق صدر کی سرگرمیوں سے پارٹی کارکنوں میں نیا جوش و جذبہ پیدا ہوا ہے اور وہ تمام اختلافات بھلا کر سابق صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں بھٹو کا فلسفہ گھر گھر پہنچانے کیلئے سرگرم ہیں، ایک سوال کے جواب میں سینیٹر خانزادہ خان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے دور حکومت میں این اے گیارہ میں ریکارڈ ترقیاتی کام کرائے جن میں نادرا موبائل وین ، بجلی کی فراہمی کیلئے ٹرانسفامروں کی تنصیب، مختلف علاقوں کو گیس کی فراہمی و دیگر منصوبے شامل ہیں، این اے گیارہ میں خواتین کے شناختی کارڈ کا حصول عوام کا اہم مسلہ تھا، غیور پختون خواتین شناختی کارڈ کے حصول کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور تھیں، نادرا موبائل وین کے ذریعے خواتین کو انکا شناختی کارڈ کی فراہمی انکے گھر کی دہلیز پر یقینی بنا کر اس مسلے کو حل کیا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -