سوڈان میں اغوا ہونے والے بدین کے انجینئر ایاز جمالی وطن پہنچ گئے

سوڈان میں اغوا ہونے والے بدین کے انجینئر ایاز جمالی وطن پہنچ گئے

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر ) سوڈان میں باغیوں کے ہاتھوں اغوا کے12روز بعد رہائی پانے والے بدین کے نوجوان انجینئر ایاز جمالی وطن پہنچ گئے۔ کراچی ایئرپورٹ پر ورثاء اور گلشن حدید پہنچنے پرسیاسی سماجی تنظیموں کی جان سے والہانہ استقبال ۔ سوشل ، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے علاوہ حکومت پاکستان کی جانب سے کی گئی کوششوں کے باعث موت کے منہ سے نکل آیاہوں ،سوڈان کے باغی تیل کمپنیوں پر ملکیوں اور غیر ملکیوں کو کام سے روکنے کی مہم چلا رہے ہیں ، باغیوں نے مجھے رہا کرتے ہوئے پیغام دیا کہ اپنے ملک کے نوجوانوں کو سوڈان تیل کمپنی میں ملازمت سے روکیں ، حکومتی دھڑا تیل کے ذریعے اسلحہ خرید کرکے ہم سے جنگ کر رہا ہے ، اگر حکومت پاکستان اور سوشل میڈیا میری مالکی نہ کرتے تو میرے تین ساتھیوں سمیت مجھے بھی قتل کردیا جاتا : نوجوان انجینئر کی گلشن حدید میں صحافیوں سے گفتگو۔ تفصیلات کے مطابق ؛ سوڈان کی تیل کمپنی میں بطور انجینئر ملازمت کرنے والے بدین کے نوجوان ایاز جمالی 12روز سوڈان کے باغی دھڑے کے ہاتھوں اغواہ کے بعد قید کاٹ کر رہا ہوگئے ، وہ اتوار کے روز صبح جہاز کے رستے کراچی ایئرپورٹ پہنچے جہاں ان کے بھائیوں و خاندان کے دیگر افراد کی جانب سے ان کا استقبال کیا گیا ، وہ جب گلشن حدید پہنچے تو پیٹارین ہیومن رائٹس آرگنائیزیشن کے احسان کھوسو، سندھ گریجوئیٹس ایسوسیئیشن کے خادم کھوسو کے علاوہ بڑی تعداد میں سماجی و سیاسی کارکنان نے نوجوان کا والہانہ استقبال کرتے ہوئے استقبالیہ دیا ، پیٹارین ہیومن رائٹس آرگنائیزیشن کے دفتر گلشن حدید می صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رہائی پانے والے نوجوان ایاز جمالی نے انکشاف کیا کہ سوڈان کے باغی دہڑے نے انہیں 19مارچ کو اغواہ کیا اور 12روز بعد سوشل ، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سمیت حکومت پاکستان کی جانب سے مالکی کرنے کے بعد انہیں رہا کردیا گیا ، انہوں نے دوران قید صورتحال پر تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ میرے ساتھ تیل کمپنی میں کام کرنے والے تین نوجوانوں کو محض میرے سامنے اس لیے قتل کردیا گیا کہ ان کی کوئی مالکی نہ ہوسکی ، باغیوں نے مجھے کہا کہ وہ دہشتگرد نہیں اپنے وطن کی بقاء اور عوامی حقوق کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں ، حکمران دہڑا تیل کی پیداوار سے اسلحہ خرید کر ہم سے جنگ کر رہے ہیں اس لیے ہم ملکی و غیر ملکی لوگوں کو تیل کمپنی میں نوکری کرنے سے روک رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ جب حکومت پاکستان نے سوڈان اور ایتھوپیا حکومتوں سے رابطے اور مذاکرات کیے تو انہیں رہا کردیا گیا ، وہ تیل کمپنی سے مستعفی ہوکر آئے ہیں ، ان کا زندہ وطن واپس آنا ایک معجزہ ہے ، انہوں نے اپنے وطن کے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ بیرون ملک ضرور جائیں لیکن اپنے ملک کو اولیت دیں اور یہیں پر اپنی صلاحیتیں استعمال کرکے اپنے ملک کی ترقی میں ہاتھ بٹائیں۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -